اسلامک معلومات

میانہ روی کا معنی ہے درمیانی راستہ

میانہ روی کا معنی

میانہ روی کا معنی ہے درمیانی راستہ اس سے مراد یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تمام معاملات میں درمیانی راستہ ہیں اپنائیں آجائے میانہ روی اور اعتدال پسندی ہے۔ یہ زندگی گزارنے کا بہترین اصول ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے. اپنی چال میں اعتدال کے رہنا۔ میانہ روی کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہے ۔جن میں سے چند ایک درج ذیل ہے
معاشی زندگی میں میانہ روی

اسلام نے معاشی مسائل کا حل

معاشی میانہ روی یہ ہے۔ کہ نہ فضول خرچی کی جائے ۔ نہ ہی کنجوسی سے کام لیا جائے ۔اسلام نے معاشی مسائل کا حل میانہ روی اختیار کرنے میں تجویز کیا ہے ۔سخاوت اور فیاضی سے بہتر کوئی چیز نہیں لیکن اسلام نے اس عمل میں بھی بے ۔اعتدالی سے پرہیز کیا ہے اور اس کو اچھا نہیں سمجھا کہ دوسروں کو دے کر تم خود اتنے مختاج پنچوں کے بھیک مانگنے کی نوبت آدھے ارشاد باری تعالی ہے۔

عیش و عشرت کی زندگی

اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا یعنی بہت تنگ کر لو۔ کہ کسی کو کچھ تو ہی نہیں اور نہ بالکل کھول بھی دو تو ابھی کچھ دیر ڈالو اور انجام یہ ہو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ آج کل لوگ عیش و عشرت کی زندگی پسند کرنے لگے ہیں ۔ اپنی آمدن بڑھانے کی وجہ سے حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے معاشرے کی برائیاں جنم لے رہی ہیں ۔اگر لوگ میانہ روی اختیار کریں ۔ اپنی جائز ضروریات کے علاوہ فضول کاموں میں پیسہ ضائع نہ کریں ۔تو بلاوجہ کی بے چینی کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔اللہ تعالی کے نیک بندوں کی یہ سچ ہے کہ یہ اعتدال سے کام لیتے ہیں

اعتدال

ارشاد باری تعالیٰ ہے اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔تو نہ بھیجا اڑاتے ہیں اور نہ وہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں۔ بلکہ اعتدال کے ساتھ ضرورت سے زیادہ نہ کم ہمیں بھی چاہیے ۔ ہم اسلام کے سنہری اصول میانہ روی کو اپنائیں ۔اس سے نہ صرف ہمیں زندگی میں سکون اور آرام اور اطمینان نصیب ہوگا ۔بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہم بہتر کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔

فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی

میانہ روی اپنانے سے انسان کی شخصیت اور کردار میں بلندی آتی ہے۔ میں انبیاء کے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی اسلوبی سے سر انجام دی جاتی ہے ۔معاشرے سے انتہا پسندی کا خاتمہ میانہ روی اپنانے میں ہے ۔اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشعل راہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کرکے ہی زندگی میں حقیقی خوشیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ ۔وسلم نے ہر معاملے میں میانہ روی کو بھی اپنا اشعار بنایا

Leave a Comment