قصص الانبیا ء

مٹی پر سونے والا شہنشاہ

قیصر روم نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنا ایک آدمی مدینے میں بھیجا۔
وہاں پہنچ کر وہ کسی سے پوچھنے لگا کہ آپ کے شہنشاہ معظم کا محل کہاں ہے ؟
اس آدمی نے جواب دیا کہ ہم لوگ” شہنشاہ” محل” اور” معظم” جیسے الفاظ سے بالکل ناآشنا ہیں۔
آپ یہ بتائیں کہ ملنا کس سے ہے؟
کہا مسلمانوں کے بادشاہ سے۔
فرمایا ہمارے ہاں بادشاہ کوئی نہیں صرف ایک خادم ہوتا ہے جو ہمارے معاملات کا انتظام کرتا ہے
اس کا نام عمررضی اللہ تعالیٰ ہے اور وہ محل میں نہیں رہتا بلکہ گارے کی ایک جھونپڑی میں رہتا ہے اور اس وقت کہیں مزدوری کر رہا ہوگا تو وہ آدمی یہ سن کر بڑا حیران ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی تلاش میں چل پڑا .
ذرا آگے جاکر دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ سر کے نیچےدرہ رکھ کر مٹی پر سوئے ہوئے ہیں
یہ دیکھ کروہ آدمی کہنے لگا کیا یہ ہے وہ عمر رضی اللہ عنہ جس کی ہیبت سے دنیا کے فرماں رواؤں کی نیند اڑ چکی ہے.
اے عمر رضی اللہ عنہم! تم نے انصاف کیا اور تمہیں گرم ریت پر بھی نیند آگئی.
ہمارے بادشاہ ظالم اور بددیانت ہیں اس لیے انہیں سنگین حصاروں میں بھی نیند نہیں آتی

Leave a Comment