قصص الانبیا ء

مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی حمایت میں نہیں

اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ کفار خواہ یہودونصاریٰ ہوں یا کوئی اور۔ وہ اللہ اور اہل اسلام کے دشمن ہیں، خواہ اُن کے آباء و اجداد اور بھائی ہی کیوں نہ ہوں، جو اُن سے دوستی کرے گا وہ ظالم انہی میں شمار ہو گا۔

(1)۔﴿لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكـٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ فى شَىءٍ … ﴿٢٨﴾… سورة آل عمران

“مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی حمایت میں نہیں۔”
مگر وہ مسلمان جو کسی کافر حکومت میں رہتے ہوں اور ان کے لیے کفار کے شر سے بچنا کفار سے اظہار دوستی کے بغیر ممکن نہ ہو تو وہ زبان سے ظاہری طور پر ایسا کر سکتے ہیں جیسا کہ آیت کے الفاظ ﴿إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾سے ظاہر ہوتا ہے۔

(2) ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الكـٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ….﴿١٤٤﴾… سورة النساء

“ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ۔”

(3)﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصـٰرىٰ أَولِياءَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم …﴿٥١﴾… سورةالمائدة

“ایمان والو! تم یہودونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے دوستی کرے وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہے۔”

(4) ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الَّذينَ اتَّخَذوا دينَكُم هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلِكُم وَالكُفّارَ أَولِياءَ …﴿٥٧﴾… سورةالمائدة

“مومنو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں، وہ ان میں سے ہوں جو پہلے کتاب دیے گئے ہیں یا (دیگر) کفار ہوں۔”

(5) ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ… ﴿١﴾… سورة الممتحنة

“ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔”

(6)﴿ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا ءاباءَكُم وَإِخو‌ٰنَكُم أَولِياءَ إِنِ استَحَبُّوا الكُفرَ عَلَى الإيمـٰنِ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٢٣﴾… سورةالتوبة

“ایمان والو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی اُن سے محبت رکھیں وہی ظالم ہے۔”
(7) غیر مسلموں سے دوستی اللہ جل جلالہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر ایمان کے منافی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَو كانوا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِىِّ وَما أُنزِلَ إِلَيهِ مَا اتَّخَذوهُم أَولِياءَ … ﴿٨١﴾… سورة المائدة

“اگر انہیں اللہ پر، نبی پر اور اُس پر جو آپ پر نازل ہوا ہے، ایمان ہوتا تو یہ اُن (کفار) سے دوستی نہ کرتے۔”

الشیخ محمد صالح المنجدحفظہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

کفار کو اسلام کی دعوت دینا اور خصوصی طور پر اہل کتاب کو اسلام کی دعوت دینا مسلمانوں کیلیے واجب اور ضروری ہے، اس بارے میں کتاب و سنت کی نصوص واضح اور صریح ہیں، اور یہ بھی کہ اس کیلیے طریقہ کار اچھا اور بہترین ہونا چاہیے، تاہم غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کیلیے اسلام کے کسی بھی حکم سے دستبرداری روا نہیں رکھی جا سکتی، بہترین طریقہ اپنانے کی وجہ یہ ہے کہ ہم انہیں اسلام کے بارے میں مکمل اطمینان دے سکیں یا ان پر اتمام حجت کر سکیں تا کہ کوئی تباہ ہو تو دلیل کی بنیاد پر اور زندگی پائے تو بھی دلیل کی بنیاد پر، فرمانِ باری تعالی ہے:
قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
ترجمہ: تم کہہ دو کہ اے اہل کتاب ! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں اور نہ اللہ تعالی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو آپ فرما دیں کہ گواہ رہنا ہم تو مسلمان ہیں۔
[آل عمران: 64] لیکن ان سے بحث مباحثہ کرنا ، ان سے گفتگو اور بات چیت کرتے ہوئے ان کی مرضی کے مطابق ڈھل جانا، ان کے اہداف پورے کرنے کیلیے آلہ کار بن جانا، یا اسلام کے احکامات اور ایمان کی گرہیں ایک ایک کر کے توڑتے جانا اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ہاں، اسی طرح مومنوں کے ہاں بالکل قابل قبول نہیں ہے، ایسے لوگوں کی کارکردگی پر اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کرتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ
ترجمہ: اور ان سے ہوشیار رہیے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں ۔ [المائدة: 49]

✍ لہٰذا اگر آپ اتنی اہلیت رکھتی ہیں کہ دعوت کے لیے کافر سے تعلقات آپکے عقائد پر اثر انداز نہ ہوں ، نیز آپکو تبلیغ کے اصولوں پر عبور ہو ، اور یہ کہ آپ دلائل و قرائن جانتی ہوں تو آپ کسی کافر لڑکی سے تعلق قائم کر سکتی ہیں ، تاہم دوست بنانا جائز نہیں ۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب

Leave a Comment