اسلامک معلومات

مولوی اور حکمراں سنتے رہے سوتے رہے

“نسلِ نو الحا د کی جانب ہوئی مائل مگر “

“مولوی اور حکمراں سنتے رہے سوتے رہے”

احادیث و روایات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ ملتا ہے .کہ اللہ تعالیٰ نے جب عقل کو خلق کیا تو احسن الخالقین خدا نے اپنی اس تخلیق پر فخر کیا . عقل کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ تجھ سے بڑھ کر کوئی مخلوق مجھے محبوب تر نہیں ہے .

عقل کو اپنی بہترین مخلوق قرار دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کے بہشت سے نکالے جانے کے بعد انسان مسلسل ارتقاء کے منازل طے کیے جارہا ہے اور اسی راہ پر مستقبل میں بھی گامزن رہے گا۔ لیکن قابل توجہ بات یہ ہے.

 

پیغام کی تبلیغ

ہر نبی کو ایک ہی پیغام کے تحت بھیجا گیا اور وہ پیغام “لا الہ الا اللہ” کا پیغام تھا کہ تمام انبیاء نے آدمؑ سے لیکر خاتمﷺ تک اپنی زندگی اسی پیغام کی تبلیغ میں صرف کی ۔ان مراحل میں انکو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ,اذیتیں سہنا پڑی،مصائب و آلام کا سامنا کیا.

لیکن اس پیغام حق سے پیچھے نہ ہٹے ۔لیکن اتنی تکالیف سہنے کے باوجودمولوی اور حکمراں

نے اپنی لجاجت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا .

 

بھرپور مظاہرہ

اس پیغام کو سو میں سے پچاس فیصد لوگوں نے اس پیغام حق کو قبول کیا.یا اگر سب نے قبول کیا. تو اپنے مطلبی ہونے کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے مصائب سے نکلنے کے بعد اس پیغام حق سے روگردانی کی. اور تاریخ گواہ ہے کہ دوبارہ یا تو گوسالے کی پوجا کرنے میں مشغول ہوئے .یا پھر بتوں کو اپنا خدا جانا۔

انبیاء کا یہ سلسلہ امر الہٰی سے قائم رہا اور نوبت یہاں پہنچی . اللہ نے اپنے محبوب ،سرور کونین حضرت محمد مصطفیﷺ کو مبعوث بہ رسالت کیا .نہ صرف امت مسلمہ پر بلکہ جہان انسانی پر منت گذاری اور احسان کیا ۔اسی وجہ سے اللہ فرماتا ہے

“لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ (العمران ۱۶۴)”بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا .جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہےاور انھیں پاک کرتااور انھیں کتاب و حکمت .سکھاتاہے. وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے” ۔ اللہ رسول اللہ کی بعثت کو اپنے بندوں پر احسان گنوا رہا. تم جو کھلی گمراہی میں تھے .جاہلیت کے زمانے میں زندگی گزار رہے تھے.

زندگی کے چال چلن

 

زندگی کا ڈھنگ نہیں آتا تھا.یہی نبی ﷺ آیا جس نے تمہیں زندگی کے چال چلن سے آگاہ کیا . آج اگر تم مہذب کہلاتے ہو تو اسی رسول ﷺ کی برکت سے ہے۔ لیکن زمانہ گزرا رحلت رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں کے گمراہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا اور وجہ یہ تھی . جو اصول و ضوابط رسول خدا نے بتلائے مسلمان انکو بھولتے چلے گئے تاریخ کے اوراق کو پلٹنے کی ضرورت ہے .

 

پورے عرب میں اپنی دھاک

.امت مسلمہ جنہوں نے پورے عرب میں اپنی دھاک بٹھائی تھی. بعد از رسول کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ بجائے اسکے کے دشمن کیلئے صف بندی کی جائے آپسی اختلافات شروع ہوگئے . تاریخ نے ان سب چیزوں کو کچھ حقائق اور کچھ ملاوٹ کے ساتھ ثبت کیا ۔

یہی تاریخ آج کے زمانے میں پہنچی تو کافی لوگوں کے تذبذب کا پیش خیمہ بنی اور مختلف سوالات جنم لینے لگے ۔

 

اسکے ساتھ ساتھ رسول اللہ ، اہلبیت اطہار ؑ اور اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین کے بیان کردہ علوم کو ترک کرنے کی وجہ سے امت مسلمہ عقائد کے میدان میں کافی پسماندہ ہوگئی اور یہی پسماندگی سبب بنی کہ نئے زمانے کے تحت نئے سوالات نے جنم لیا اور لوگ بکھرنے لگے۔

انسان کی فکر

مختصر سے مقدمے کے بعد اس بات کی جانب توجہ مبذول کرانا لازمی ہے.زمانے کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر بھی ترقی کے منازل طے کررہی ہے . مختلف سوالات چاہے وہ شرعی ہو یا غیر شرعی کو جنم دے رہی ہے۔ علم نفسیات کے مطابق صحت مند فکر کی نشانی یہی ہے کہ وہ سوالات کو جنم دے ۔ اب ان سوالات کے جوابات اگر مطمئن کنندہ مل جائے تو انسان منحرف ہونے سے بچ سکتا ہے.

الجھن و اضطراب

 

لیکن اگر یہی سوالات بغیر جوابات کے ذہن میں موجود ہوں .اگر جوابات ملتے بھی رہے تو قانع کنندہ نہ ہوں. تو یہ سوالات الجھن و اضطراب کا موجب بنتے ہیں۔ دور حاضر میں عقائد سے ناواقفیت ایک ایسا مسئلہ ہے. جو ایک مسلمان کو کہ جو جستجو کرتا ہو اور دلیل و برہان کی دنیا سے تعلق رکھتا ہو اور یہ چاہتا ہو کہ اسےہر بات کی دلیل دی جائے کو جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہے۔ چونکہ جو مسلمان فقط مسلمان ہے اور تدبر و تفکر سے اسکا تعلق نہیں اسکا درجہ بہ نسبت اس مسلمان کے جو تدبر و تفکر کے ذریعے اس دین کو پہچان رہا ہے.

دنیا کی موجودات

بہت چھوٹا ہے۔قرآن میں جگہ جگہ انسان کو فکر کی دعوت دی گئ ہے کہ اے انسان تو کیوں فکر نہیں کرتا کہ اگر تو فکر کرے اور دنیا کی موجودات کا بغور مشاہدہ کرے تو یقینی بات ہے کہ تو ایک ایسی ہستی کو کار فرما پائے گا .جو ان تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ پر مغربی یلغار کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ اگر وہ تفکر کرتے ہیں تو مغربی نظریات کا سہارا لے کر تفکر و تدبر کرتے ہیں اورفطری عمل ہے .

ذہن پر غالب

اگر آپ محض ایک ہی جہت سے مطالعہ کریں یا فکر کریں تو وہی چیز ذہن پر غالب ہوگی۔ اسلام فکر و تدبر سے نہیں روکتا لیکن ایک مسلمان جو فکر کی بستی میں قدم رکھنے جارہا ہے اسے کچھ اصول اور حدود کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔ ان حدود و قیود کا مقصد ہرگز انسان کی فکر کو محدود کرنا نہیں بلکہ انسان کو گمراہی سے بچانا ہے۔

مولوی اور حکمراں کی تنگ نظری

وسکتا ہے کسی روشن فکر کی جانب سے یہ اعتراض ہو کہ یہ مولوی اور حکمراں کی تنگ نظری ہے اور وہ دیگر نظریات کو تسلیم نہیں کرتے تو ایسا بالکل نہیں ہے کہ اسلام یہ سکھاتا ہے۔لیکن اسلام ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ انسان گمراہی کی راہ پر چلے . جو اسلام نہیں چاہتا مسلمان بالکل اسکے برعکس کررہے ہیں ۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بہت سرعت سے الحاد کی جانب گامزن ہے۔

Leave a Comment