اسلامک واقعات

موت کے بعد آخری رسومات ادا کرنے کے چند ظالمانہ طریقے

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا- مختلف مذاہب میں انسان کے مرنے کے بعد اس کی آخری رسومات مختلف انداز سے ادا کی جاتی ہیں- ان رسومات کے چند انداز سے تو عام طور پر لوگ واقف ہیں لیکن کچھ طریقے ایسے ظالمانہ بھی ہیں کہ جنہیں جان کر آپ ضرور حیران ہوجائی ان طریقوں میں سے اب چند ماضی کا حصہ ہیں اور بعض آج بھی دنیا میں رائج ہیں-

مردہ ممی میں تبدیل: ہزاروں سال قبل قدیم مصر میں بادشاہوں کی لاشوں کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں ممی میں تبدیل کردیا جاتا کے جسمانی اعضا کو علیحدہ کر کے باقی ماندہ خالی جسم کو کیمیکل لگے لکڑی کے برادے سے بھر دیا جاتا تھا- اس کے بعد پورے جسم کو سوتی کپڑے سے لپیٹ کر محفوظ کردیا جاتا تھا۔ دنیا کی سب سے قدیم ترین ممی کی تاریخ 6 ہزار سال پرانی ہے۔ کم درجہ حرارت: زمانہ قدیم میں اکثر لوگ اپنے مردے کو انتہائی کم درجہ حرارت پر جیسے کہ برف وغیرہ میں ایک طویل مدت کے لیے رکھ دیتے تھے -ان لوگوں کا خیال تھا ممکن ہے مستقبل میں وہ کوئی ایسا طریقہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوجائیں جس سے وہ اپنے مردے کو دوبارہ زندہ کرسکیں-خلیوں کی پلاسٹک میٹریل سے تبدیلی: قدیم زمانے میں دنیا کے ایسے علاقے جہاں سائنس تیزی سے ترقی کر رہی تھی وہاں لوگ اپنے مردوں کے جسم کے خلیوں کے مرکزہ میں موجود سیال مائع اور چکنائیوں کو پلاسٹک اور سیلی کون کے مصنوعی اعضا سے تبدیل کردیتے تھے- ان کے اس عمل سے لاش ایک طویل مدت تک محفوظ رہتی تھی اور اس میں کسی قسم کی بدبو بھی نہیں آتی تھی۔آخری رسومات بحری جہاز پر: اس وقت جب یورپی ساحلوں پر قزاقوں کی بادشاہی تھی تو یہ قزاق اپنے سرداروں کی لاشوں کو ایک بحری جہاز پر رکھ کر جلا دیا کرتے تھے-

بحری جہاز پر مردے کے ساتھ کھانا٬ سونا اور کبھی کبھی غلاموں کو بھی بیٹھایا جاتا تھا- ان قزاقوں کا عقیدہ تھا کہ اس طرح مرنے والے کی روح کو سکون حاصل ہوتا ہے- قزاقوں کے اس عقیدے کی تاریخ 10ویں صدی سے جاملتی ہے-لاشوں کو درختوں سے باندھنا: آسٹریلیا، برطانیہ، کولمبیا اور سربیا سے تعلق رکھنے والے چند قبائل اپنے پیاروں کو درخت کی جڑوں اور شاخوں سے باندھ کر چھوڑ دیتے تھے۔خاموشی کا مینار: قدیم زمانے کے آتش پرست اپنے مردوں کو ایک اونچے پہاڑ پر بنے خاموشی کے مینار(ٹاور آف سائیلنس) پر لا کر رکھ دیتے تھے- اور جب ان مردوں کی باقیات طور پر صرف ہڈیاں رہ جاتیں تو یہ انہیں جمع کر کے چونے میں ڈال کر گلا دیتے۔ آتش پرستوں کا عقیدہ تھا کہ ان کے اس عمل سے مرنے والے نے جس جس چیز کو چھو کر گندہ کیا ہوتا ہے وہ پاک ہوجاتی ہے۔مردے کے ساتھ اپنی انگلیوں کی بھی قربانی: مغربی پاپواگنی کے دانی قبیلے میں ایک عجیب رسم رائج ہے- یہاں جب کوئی شخص مرتا ہے تو اس کے جسم کے ساتھ اس کی رشتہ دار خاتون کو اپنی انگلیاں کاٹ کر مردے کے ساتھ دفن کرنا ہوتی ہیں اور اس طرح وہ اپنے دکھ اور غم کا اظہار کرتی ہیں۔

ایکوامیشن: امریکا میں عام طور پر یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس میں لاش کو ایک اسٹیل کی مشین میں رکھ کر اسے ایک خاص درجہ حرارت پر چلایا جاتا ہے جس سے جسم مائع میں تبدیل ہوجاتا ہے جبکہ ہڈیاں محفوظ رہتی ہیں تاہم اسے ہاتھوں سے راکھ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس راکھ کو متعلقہ رشتے دار کے حوالے کردیا جاتا ہے جو اسے پانی میں بہا دیتا ہے۔

Leave a Comment