اسلامک واقعات

ملکِ شام کی انوکھی شان۔ سن کر مزہ آجائے گا

شام سریانی زبان کا لفظ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام بن نوح کی طرف منسوب ہے۔ طوفان نوح کے بعد حضرت سام اسی علاقہ میں آباد ہوئے تھے۔۔۔ ملک شام کے متعدد فضائل احادیث نبویہ میں مذکور ہیں، قرآن کریم میں بھی ملک شام کی سرزمین کا بابرکت ہونا متعدد آیات میں مذکور ہے۔ یہ مبارک سرزمین پہلی جنگ عظیم تک عثمانی حکومت کی سرپرستی میں ایک ہی خطہ تھی۔

بعد میں انگریزوں اوراہل فرانس کی پالیسیوں نے اس سرزمین کو چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن) میں تقسیم کرادیا،لیکن قرآن وسنت میں جہاں بھی ملک شام کا تذکرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ پورا خطہ مراد ہے جو عصر حاضر کے چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن)پر مشتمل ہے۔ اسی مبارک سرزمین کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں مثلاً اسی مبارک سرزمین کی طرف حضرت امام مہدی حجاز مقدس سے ہجرت فرماکر قیام فرمائیں گے اور مسلمانوں کی قیادت فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی اسی علاقہ یعنی دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ غرضیکہ یہ علاقہ قیامت سے قبل اسلام کا مضبوط قلعہ و مرکز بنے گا۔اسی مبارک سرزمین میں قبلہ اول واقع ہے جس کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام نے تقریباً ۱۶ یا ۱۸ ماہ نمازیں ادا فرمائی ہیں۔ اس قبلۂ اول کا قیام مسجد حرام (مکہ مکرمہ) کے چالیس سال بعد ہوا۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد سب سے بابرکت وفضیلت کی جگہ مسجد اقصیٰ ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب کے باہر اگر کسی ملک کا سفر کیا ہے تو وہ صرف ملک شام ہے۔ اسی سرزمین میں واقع مسجد اقصیٰ کی طرف ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے لے جایا گیا اوروہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرماکر نماز پڑھائی، پھر بعد میں اسی سرزمین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تبارک وتعالیٰ کے دربار میں حاضری ہوئی۔ اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت وجہنم کے مختلف مناظر دیکھے اور سات آسمانوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف انبیاء کرام سے ملاقات ہوئی۔ یہ مکمل واقعہ رات کے ایک حصہ میں انجام پایا۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کے اس سفر کو اسراء اور مسجد اقصیٰ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کے اس سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔اگرچہ قبلۂ اول بیت المقدس حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد خلافت میں فتح ہوا، لیکن اس کی بنیاد حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ ؓ کے لشکر سے پڑ چکی تھی جس کی روانگی کا فیصلہ ماہ صفر ۱۱ہجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی خبر سن کر یہ لشکر مدینہ منورہ کے قریب خیمہ زن رہا۔ اس لشکر نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت میں پہلی فوجی مہم شروع کی۔ ملک شام میں دین اسلام پہونچنے تک تقریباً ۱۵۰۰ سال سے سریانی زبان ہی بولی جاتی تھی، لیکن ملک شام کے باشندوں نے انتہائی خلوص ومحبت کے ساتھ دین اسلام کا استقبال کیا اور بہت کم عرصہ میں عربی زبان ان کی مادری واہم زبان بن گئی، بڑے بڑے جید محدثین، فقہاء وعلماء کرام اس سرزمین میں پیدا ہوئے۔ دمشق کے فتح ہونے کے صرف ۲۶یا۲۷ سال بعد دمشق اسلامی خلافت/حکومت کا دارالسلطنت بن گیا۔اللہ تعالیٰ نے انس وجن وزمین وساری کائنات کو پیدا کیا۔ بعض انسانوں کو منتخب کرکے ان کو رسول ونبی بنایا، اسی طرح زمین کے بعض حصوں (مثلاً مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ملک شام ) کو دوسرے حصوں پر فوقیت وفضیلت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ملک شام کی سرزمین کو اپنے پیغمبروں کے لئے منتخب کیا چنانچہ انبیاء ورسل کی اچھی خاصی تعداد اسی سرزمین میں انسانوں کی رہنمائی کے لئے مبعوث فرمائی گئی۔

خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر رسول اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ہمراہ ملک عراق سے ہجرت فرماکر ملک شام ہی میں سکونت پذیر ہوئے۔ اسی مقدس سرزمین سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے متعدد سفر کرکے مکہ مکرمہ کو آباد کیا اور وہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے بے شمار انبیاء علیہم السلام (مثلاً حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت ایوب، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت الیاس، حضرت الیسع، حضرت زکریا، حضرت یحیےٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام) کی یہ سرزمین مسکن ومدفن بنی اور انہوں نے اسی سرزمین سے اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ غرضیکہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے یہ سرزمین بہت بابرکت ہے۔ فی الحال بیت المقدس کی بابرکت زمین پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کو یہودیوں کے چنگل سے آزاد فرمائے، مسلمانوں کو فتحیاب فرمائے، اپنے دین کی نصرت فرمائے اور ہم سب کو اپنے دین اسلام کی خدمت کے لئے قبول فرمائے۔قیامت کی بعض بڑی نشانیوں کا ظہور بھی اسی مقدس سرزمین پر ہوگا۔

چنانچہ حضرت مہدی اسی سرزمین سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں گے۔ دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نماز فجر کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا،اور اسکے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت مسلمہ کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ دجال اور یاجوج وماجوج جیسے بڑے بڑے فتنے بھی اسی سرزمین سے ختم کئے جائیں گے۔ دنیا کے چپہ چپہ پر اسی علاقہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی۔۔۔ یمن سے نکلنے والی آگ لوگوں کو اسی بابرکت سرزمین کی طرف ہانک کر لے جائے گی اور سب مؤمنین اس مقدس سرزمین میں جمع ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے بعد جلدی ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔قرآن کریم میں اس بارکت زمین کا ذکر خیرہےکہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو رات ہی میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ یہ علاقہ قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت اور انبیاء کا مسکن ومدفن ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لئے اس کو بابرکت قرار دیا گیا۔ (سورۂ الاسراء آیت ۱)ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا

جو اُن کے فرمان کے مطابق اسی زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی ہے،،، (سورۂ الانبیاء آیت ۸۱) یعنی ملک شام کی سرزمین۔جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے مسخر کردئے گئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کردی گئی تھی وہ تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت، لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے۔ ہوا آپ کے تخت کو اُڑا کرلے جاتی تھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔ (سورۂ المائدہ آیت ۲۱) بنی اسرائیل کے مورث حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جاکر آباد ہوگئے تھے۔ تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر نکال نہیں لے گئے۔

ہم ابراہیم اور لوط کو بچاکر اس زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہاں والوں کے لئے برکت رکھی تھی۔ (سورۂ الانبیاء آیت ۷۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام عراق سے مقدس سرزمین ملک شام ہجرت فرماگئے تھے۔ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے۔(سورۂ الاعراف آیت ۱۳۷) زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! ہمیں برکت عطا فرما ہمارے شام میں، ہمیں برکت دے ہمارے یمن میں۔ آپ نے یہی کلمات تین یا چار مرتبہ دوہرائے۔ (بخاری، ترمذی، مسند احمد، طبرانی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے سر کے نیچے سے کھینچا جارہا ہے۔

میں نے گمان کیا کہ اس کو اٹھا لے لیا جائے گا تو میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا ،اس کا قصد (ملک) شام کا تھا۔ جب جب بھی شام میں فتنے پھیلیں گے وہاں ایمان میں اضافہ ہوگا۔ (مسند احمد، طبرانی۔۔۔ حدیث صحیح ۔ مجمع الزوائد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ عمود الکتاب (ایمان) کو لے گئے اور انہوں نے (ملک) شام کا قصد کیا۔ جب جب بھی فتنے پھیلیں گے تو شام میں امن وسکون رہے گا۔ (طبرانی۔۔۔ حدیث صحیح ۔ مجمع الزوائد(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے ہٹایا جارہا ہے، میری آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا تو پایا کہ وہ بلند نو ر کی مانند ہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کو پسند کرتا ہے اور اس کو شام لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے ، تو میں نے سمجھا کہ جب جب بھی فتنے واقع ہوں گے تو شام میں ایمان مضبوط ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے شب معراج میں دیکھا کہ فرشتے موتی کی طرح ایک سفید عمود اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا : تم کیا اٹھائے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا : یہ اسلام کا ستون ہے ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کو شام میں رکھ دیں۔۔ ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے نکالا جارہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین سے لے لیا۔ جب میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا تو دیکھا کہ وہ ایک بلندنور کے مانند میرے سامنے ہے یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا۔ (طبرانی( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے کل قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہونچا سکتے ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی، صحیح ابن حبان(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے گی،

جس کو نیچا دکھانے والے اور مخالفت کرنے والے نقصان نہیں پہونچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک وہ اللہ کے دین پر قائم رہیں گے۔۔۔۔۔ مالک بن یخامر ؒ نے کہا اے امیر المؤمنین! میں نے حضرت معاذ ؓ سے سنا ہے کہ یہ جماعت ملک شام میں ہوگی۔ (بخاری، مسلم، طبرانی(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت حق کے لئے لڑتی رہے گی اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کیا۔ (ابو دؤد، مسند احمد، طبرانی(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت دمشق اور بیت المقدس کے اطراف میں جہاد کرتی رہے گی۔ لیکن اس جماعت کو نیچا دکھانے والے اور اس جماعت کی مخالفت کرنے والے اس جماعت کو نقصان نہیں پہونچا پائیں گے اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ (رواہ ابو یعلی ورجالہ ثقات، قال الہیثمی فی مجمع الزوائد

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل کرنے کے دن (یعنی جنگ میں) مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہوگا جو دمشق کے قریب واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہو گا۔ اِس جگہ دمشق نامی ایک شہر ہے جو شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔ حضرت عوف بن مالکؓ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھوٹے خیمہ میں موجود تھے ۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت مجھے قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں۔۔۔ ۱) میری موت۔۔ ۲) بیت المقدس کی فتح۔۔۔۔ ۳) میری امت میں اچانک موتوں کی کثرت ۔۔۔۔ ۴) میری امت میں فتنہ ،جو اُن میں بہت زیادہ جگہ کرجائے گا۔۔۔۔ ۵) میری امت میں مال ودولت کی فراوانی کہ اگر تم کسی کو ۱۰۰ دینار بھی دوگے تو وہ اس پر (کم سمجھنے کی وجہ سے) ناراض ہوگا۔ ۔۔۔۶) تمہارے اور بنی اصفر (صیہونی طاقتوں) میں جنگ ہوگی، ان کی فوج میں ۸۰ ٹکڑیاں ہوں گی اور ہر ٹکڑی میں ۱۲۰۰۰ فوجی ہوں گے۔۔۔۔

اس دن مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ نامی جگہ میں ہوگا جو دمشق شہر کے قریب میں واقع ہے۔ (رواہ الطبرانی باسناد جید، بیہقی(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ صحابۂ کرام نے سوال کیا : کس لئے یا رسول اللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں)۔ (ترمذی ۳۹۵۴، مسند احمد( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الشام ارض المحشر ۔۔۔۔ شام کی سرزمین سے ہی حشر قائم ہوگا۔ (مسند احمد، ابن ماجہ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی( ان دنوں اِس بابرکت خطہ خاص کر سوریا میں مسلمانوں کا ناحق خون بہہ رہا ہے۔ مضمون لکھے جانے تک ہزاروں مسلمانوں کی جان جا چکی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیمتی اقوال کی روشنی میں مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور ایک جسم کے مانند ہیں ، لہذا ہماری دینی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی دعاؤں میں اس خطہ میں امن وسکون کے لئے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اس خطہ کے مسلمانوں کومتحد فرما، اسلام کے جھنڈے کو بلند فرما۔ اللہ تعالیٰ سوریا میں مسلمانوں کے احوال کو صحیح فرما۔ یا اللہ! سوریا میں مسلمانوں کے خون خرابے کو ختم فرما۔ اللہ تعالیٰ اس مقدس سرزمین میں امن وسکون پیدا فرما۔ اللہ تعالیٰ سوریا اور فلسطین کے مسلمانوں کو متحد ہوکر اسلام مخالف طاقتوں سے لڑنے والا بنا۔ اللہ تعالیٰ سوریا اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ ملک شام کے مسلمانوں کو دین اسلام پر قائم رہنے والا بنا۔ جو عناصر ملک شام کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ناکام بنادے، ان کو ذلیل کردے۔ آمین۔ ثم آمین۔

Leave a Comment