قصص الانبیا ء

مفتی طارق مسعود

مفتی طارق مسعود نے چھوٹی بچیوں سے نکاح والے بیان پر وضاحت پیش کر دی میڈیا نے مفتی طارق مسعود صاحب کی بات کو بڑھا چڑھا کر غلط اداز میں پیش کیا اور وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کبھی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جسمیں وہ علماء کرام کی پگڑیاں اچھالیں ، اس موقع پر انہوں نے ایک ٹویٹ کی جو سوشل میڈیا پر کافی بحث میں رہی

مفتی طارق مسعود صاحب نے جو بات کہی وہ دراصل ایک واقعے سے جڑی تھی،بیان دینے کا مقصد لوگوں کو ترغیب دلانا تھا کہ وہ کم عمر بچیوں کی بجائے بیوہ یا طلاق یافتہ سے شادی کریں، اصل بیان پر غور نہیں کیا گیا جو بات مذاق میں کی گئی اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔
مفتی طارق مسعود نے چھوٹی بچیوں سے نکاح والے بیان پر وضاحت پیش کر دی

مفتی طارق مسعود نے حال ہی میں ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے تین طلاق یافتہ خواتین سے شادی کے بدلے چار چار سال کی بچیوں سے شادی کی پیشکش کی ،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس کے بعد مفتی طارق مسعود پر خوب تنقید بھی کی گئی۔تاہم اب مفتی طارق مسعود نے اپنے بیان پر وضاحت پیش کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ میرا ایک کلپ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہو رہا ہے اور اس میں یہ دکھایا جا رہا ہے کہ میں گویا لوگوں کو ترغیب دے رہا ہوں کہ آپ 4 سال کی بچیوں سے نکاح کریں۔اس ویڈیو کے بعد مجھے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اور صرف مجھے ہی نہیں بلکہ علما کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔میں نے اس بیان میں ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔
(جاری ہے)

آج کل بڑی بڑی عمر کے لوگ نکاح نہیں کرتے اور کرنا چاہیں تو انہیں چھوٹی چھوٹی بچیاں چاہیئے،میں اس چیز کی حوصلہ شکنی کر رہا تھا۔
میں نے ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ ایک بڑی عمر کے صاحب آئے اور کہا کہ مجھے 16 سال کی لڑکی سے شادی کرنی ہے۔انہیں بتایا گیا کہ 16 کی تو آپ کو نہیں ملے گی، جس پر انہوں نے کہا کہ پھر 8 , 8 سال کی دو ہو جائیں۔اسی واقعے پر میں نے کہا تھا کہ پھر 4 ، 4 سال کی 4 ہو جائیں۔اس بیان میں دراصل اس شخص کو مذاق اڑایا جا رہا تھا جو اتنی بڑی عمر میں 16 سالہ لڑکی سے شادی کی بات کر رہا تھا۔

یہ واقعہ میں نے مذاق میں بیان کیا تھا،میں کہہ رہا تھا کہ آپ بیوہ یا طلاق یافتہ سے شادی کیوں نہیں کرتے۔میں نے لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے کہا کہ آپ تین بیوہ عورتوں سے شادی کریں، چوتھی شادی ایک کنواری لڑکی سے میں خو دکرواؤں گا۔میں نے اس بیان کو اسی واقعے جوڑ دیا کہ 4 ، 4 سال کی4 کر دیں۔لیکن بیان دینے کا مقصد لوگوں کو ترغیب دینا تھا کہ آپ کم عمر لڑکیوں سے شادی کی بجائے بیوہ یا طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کریں۔لیکن میرے بیان کو کاٹ کر پیش کیا گیا۔اصل بات پر غور نہیں کیا گیا لیکن جو بات مذاق میں کی گئی تھی اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔جس طرح سے تنقید کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔

Leave a Comment