اسلامک معلومات

معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظی معنی سیڑھی اور بلندی کے ہیں .اسلامی تعلیمات کے مطابق اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مبارک سفر. جس میں اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک وہاں سے سیدھا المنتہیٰ تک .اور وہاں سے جہاں تک جہاں لے گیا اپنی

قدرت کی نشانیاں.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعہ کی رات آرام فرما رہے تھے. حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوایک سواری بُراق .پیش کی یہ بجلی سے بھی تیز رفتار سواری تھی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر بیت المقدس میں آئے .

آسمانوں کا سفر

وہاں تمام انبیاء کرام علیہ السلام جمع تھے. تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھی. وہاں سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف آسمانوں پر مختلف انبیاء علیہ السلام سے ملاقات ہوئی .یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک اور برے انسانوں کے انجام کے کچھ مناظر بھی دکھائے گئے .

سفر شروع ہوا

اس کے بعد اگلا سفر شروع ہوا حضرت جبرائیل علیہ السلام سدرۃ المنتہا تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے.وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے ہی آگے تشریف لے گئے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کا انتہائی قرب نصیب ہوا .آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی سے ہم کلام ہوئے .اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچوں نمازوں کا تحفہ دیا .اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کا مشاہدہ بھی کیا .اور اللہ تعالی کی ..قدرت کی بہت سی نشانیاں دیکھیں

 

واقعہ معراج

 النبی صلی اللہ علیہ وسلم

سے کفار کا انکار:

معراج سے واپسی پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو قریش نے اسے ماننے سے انکار کر دیا
انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ دیکھو تمہارے صاحب محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج کیسی عجیب و غریب بات کر رہے ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ اتنے کم وقت میں اتنا لمبا سفر طے کر لے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا :اگر یہ بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو میں اسے تسلیم کرتا ہوں اس تصدیق پر ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب کب ملا

مقصد:

واقعہ معراج کا یہ مقصد تھا کہ اللہ تعالی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے دوسرا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غم کو ختم کرنا تھا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو طالب کی وفات کی وجہ سے لاحق ہوا تھا اللہ تعالی کی قدرت کا مشاہدہ اور اس سے ہم کلام ہونے کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے غم دور ہوا اور اصلی علیہ وسلم کو تسلی ملی

Leave a Comment