اسلامک معلومات

مرد وعورت کا تجارت کرنا:

سفر ہو کہ حضر ،مرد اور عورت دونوں کیلیےتجارت اور کاروبار کرنا اصول و قاعدے کے اعتبار سے حلال ہے.کیوں یہ کہ اس آیت کے عموم سے ثابت ہوتا ہے1″وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا…سورۃ البقرۃ: 272 ترجمہ:”حالانکہ اللَّه نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ۔” نیز مندرجہ ذیل حدیث کے عموم سے بھی اس کا جواب ثابت ہوتا ہے ۔ آپﷺ سے پوچھا گیا : کون سی کمائی پاکیزہ تر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ” آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنااور بیع مبرور جو احکام شریعت کے مطابق ہو۔ ” مسند احمد 4/141 ،الصحیحۃ رقم الحدیث 607۔

اس کے جواز کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں عورتیں باوقاراور باحیا انداز میں زیب وزینت کا اظہار کیے بغیرخریدوفروخت کیا کرتی تھیں ۔
لیکن جب عورت کا تجارت کرنا اس زیب و زینت کے اظہار کا سبب بنےجو حرام ہےجیسے چہرہ کھلا رکھنا محرم کے بغیر سفر کرنا یا غیر مردوں سے اس انداز میں میل جول رکھنا کہکسی فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو پھر اس کے لیے تجارتی معاملات اور لین دین میں شمولیت اختیار کرنا جائز نہیں ، بلکہ اس کو منع کرنا واجب ہے ،کیونکہ وہ محض مباح اور جائز کام کے حصول کے لیےحرام عمل کا ارتکاب کر رہی ہے ۔

Leave a Comment