اسلامک معلومات معلومات عامہ

لیلۃ الجائزہ

لیلۃ الجائزہ:

جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے. تو اُسے آسمانوں پر’’ لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات‘‘ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے

مضان کی آخری رات میں روزے داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا ’’کیا یہ شب مغفرت ’’شبِ قدر‘‘ ہے۔آپﷺ نے فرمایا، نہیں بلکہ (اللہ کا) دستور یہ ہے کہ مزدور کا کام ختم ہونے کے وقت اسے مزدوری دے دی جاتی ہے۔(مسند احمد)

ہولناک اور دہشت ناک دن

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’جو شخص ثواب کی نیت (یقین) کرکے دونوں عیدوں (عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ) میں جاگے (اور عبادت میں مشغول رہے) اس کا دل اس دن نہ مرے گا (مُردہ نہ ہوگا) جس دن سب کے دل مرجائیں گے (یعنی فتنہ و فساد کے وقت اور قیامت کے ہولناک اور دہشت ناک دن میں یہ محفوظ رہے گا) (ابن ماجہ)
جو شخص پانچ راتوں میں(عبادت کے لئے) جاگےاس کیلئے جنت واجب ہو جائے گی۔لیلۃ الترویہ(8 ذوالحج کی رات)، لیلۃ العرفہ (9 ذوالحج کی رات) لیلۃ النحر (10 ذوالحج کی رات)عید الفطر کی رات، اور شب برأت یعنی 15شعبان کی رات

(فضائل رمضان. مولانا محمد زکریا رح)

لیلۃ الجائزہ

عیدالفطر کی رات

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’. جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے. تو اُسے آسمانوں پر’’ لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات‘‘ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے. اور جب صبحِ عید طلوع ہوتی ہے. تو حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے . وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں .ایسی آواز سے، جسے جنّات اور انسانوں کے سِوا ہر مخلوق سُنتی ہے. پکارتے ہیں کہ’’ اے اُمّتِ محمّدیہﷺ اس کریم ربّ کی بارگاہِ کرم میں چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں. تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے’’.

لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات

اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں’’ اے ہمارے معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اور اُجرت پوری پوری عطا کردی جائے‘‘. تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی‘‘. اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے .کہ’’ اے میرے بندو!. مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے. عطا کروں گا۔دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے.اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا۔ مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘(الترغیب والترہیب)

عید الفطر:

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایاتم سال میں دو دن خوشی منایا کرتے تھے  اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن مقرّر فرما دیے ہیں، عیدالفطر اور عید الاضحٰی اور ارشاد فرمایا کہ یہ ایام کھانے پینے اور باہم خوشی کا لطف اٹھانے اور خدا کو یاد کرنے کے ہیں(اسوہ
رسول اکرم ﷺ)

رسول اللہﷺ نے عیدالفطر اور قربانی کے دن صوم سے منع فرمایا (بخاری)

صدقۃ الفطر:

نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا سنت ہے( اسوہ رسول اکرم ﷺ)

صدقۂ فطر عید سے پہلے رمضان المبارک میں بھی دیا جاسکتا ہے، جیسا کہ بعض صحابہ کرام کا عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا ذکر احادیث مبارکہ (بخاری) میں موجود ہے۔

عید کی سنتیں:

  • غسل کرنا(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • خوبصورت اور عمدہ لباس پہننا(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • عیدین کے لیے بھی آرائش فرماتے اور مستقل جدا لباس محفوظ رکھتے تھے (مدارج النبوۃ)
  • (عیدین کے موقع پر) زیب و زینت کرنا مستحب ہے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • (٥) عید کے دن خوشبو لگانا مستحب ہے(فتح الباری)
  • عیدین میں بکثرت تکبیر(اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ) کہنا سنت ہے(طبرانی)
  • حضور اکرم ﷺ عید الفطر میں نماز سے پہلے کچھ کھاکر جاتے تھے اور عید الاضحی میں بغیر کھائے جاتے تھے (ترمذی)
  • عید گاہ جانے سے پہلےطاق عدد میں کھجوریں کھانا(٣،٥ ، ٧ وغیرہ) (بخاری)
  • نماز عیدالفطر کے لئے عید گاہ جانا(بخاری، مسلم)
  • نماز عیدالفطر کے لئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا(بخاری، ترمذی)
  • عید گاہ تک پاپیادہ جانا (ابن ماجہ)
    اس پر عمل کرنا سنت ہے. بعض علماء نے مستحب کہا ہے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • نماز عید الفطر کو تاخیر سے ادا کرنا(مدارج النبوۃ)
  • عید الفطر میں راستہ میں چلتے ہوئے آہستہ تکبیر کہنا مسنون ہے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • عیدگاہ پہنچ کر فوراً نماز شروع فرماتے، نہ اذان، نہ اقامت اور نہ الصلوۃ جامعہ وغیرہ کی ندا کچھ نہ ہوتا(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • حضور اکرم  ﷺنماز خطبہ سے پہلے پڑھتےاور جب نماز سے فارغ ہوتے تو کھڑے ہو کر خطبہ فرماتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • آپﷺ جب عیدگاہ میں پہنچتے تو نماز عید سے قبل کوئی(نفل وغیرہ) نہ پڑھتے اور نہ بعد میں پڑھتے(زادالمعاد)
    عید گاہ میں نماز سے پہلے یا بعد میں نفلوں کا پڑھنا منع ہے اور نماز عید سے گھر پر بھی (اسوہ رسول اکرم ﷺ)
  • آپﷺ عید گاہ میں صرف دو رکعتیں ادا کرتے(زادالمعاد)

Leave a Comment