اسلامک وظائف

لفظ اللہ کا مجرب وظیفہ

Allah

اللہ جل شانہ کے بہت سے بہتر نام ہیں،بلکہ تمام بہترین نام اسی کے ہیں، اسی کو فرمایا: وَلِلّٰہِ الأَسْماَءُ الْحُسْنی ۔بلکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: حق تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ کی تعداد ننانوے ہے، جو شخص ایمان اور عقیدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے اس کے ننانوے نام محفوظ کر لے، یا ان کے ذریعہ دعا کرے، یاان کے ذریعہ اپنے رب کو یاد کرے، یا ان کے معانی جان کر عمل کرے تو وہ جنت میں جائے گا۔

بعض سلف سے منقول ہے کہ جس نے “اللّٰہم” سے دعا مانگی اس نے گویا تمام ہی اسماءِ حسنیٰ کے ذریعہ دعا مانگی۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ جل شانہ کے جتنے بھی اسماءِ حسنیٰ ہیں وہ سب کے سب اس کی الوہیت و ربوبیت اور شانِ عظمت و رفعت،قدرت وقوت، نصرت و حفاظت، محبت و ہدایت،شفقت و سخاوت وغیرہ پر دلالت کرتے ہیں،ان تمام اسماءِ حسنیٰ میں لفظ اللہ اسمِ ذات اور باقی اسماءِ صفات ہیں،جیسا کہ خود قرآنِ پاک کے ارشاد سے پتہ چلتا ہے، فرمایا: وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں،اسے تمام کھلی چھپی باتوں کا علم ہے، وہی رحمٰن و رحیم ہے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں لفظ اللہ کو اسم ذات قرار دیا اور موصوف بنایا، اور دوسرے اسماءِ حسنیٰ کو صفت بنایا ہے، پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس کی عظمتِ شان اس کے ہر ہر عظیم الشان نام سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کا مبارک نام اللہ ،الوہیت سے نکلا ہے جس کا معنی ہے پوجنا عبادت کرنا الغرض لفظ اللّہ عَلَم ہے (نام نامی ہے) ایسی ذات واجب الوجود معبود حقیقی کا کہ جو تمام کمالات کی جامع اور کل کے کل نقائص وعیوب سے پاک و منزہ ہے ۔ ذات خدا وندی کو ’’اللہ‘‘ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ و ارفع اور بلند و بالاہے، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اتنی بلند ہیں کہ پستی کا امکان ہی نہیں،وہ عجز و فنا سے بلند، ضعف و اضمحلال سے بلند،فقر و محتاجی سے بلند،سونے اور اونگھنے سے بلند،کمزوری اور سستی سے بلند،ہر قسم کے نقص و عیب اوروہم و گمان سے بلند ہے، اس کی بلندی کے سامنے تمام بلندیاں ہیچ ہیں، اس کے علم کے سامنے سب علوم جہالت،اس کی سماعت کے سامنے سب کی سماعتیں بہرا پن، اس کی بصارت کے سامنے سب کی بصارتیں اندھا پن،اس کی فصاحت کے سامنے سب کی فصاحتیں گونگا پن،اس کے وجود کے سامنے سب کا وجود کالعدم اور اس کی بقا کے سامنے سب کی بقا فنا۔

وہ اس قدر بلند و بالا ہے کہ عظمتوں کی معراج اور بلندیوں کی انتہا اسی کے لیے ہے۔لفظ’’اللہ‘‘ حق تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے:اور یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ جل شانہ کی ذات و صفات بلند و بالا ہیں، ان میں اس کا کوئی ثانی اور شریک نہیں،اسی طرح اس کا اسم ذات بھی بلند و بالا ہے، اس میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں،اس لیے علماء نے فرمایا کہ لفظ ’’اللہ‘‘ حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا لفظ ’’اللہ ‘‘ سے حق تعالیٰ ہی کو موسوم کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ کسی کو نہیں۔ چناں چہ ارشاد ربانی ہے: کیا کوئی اور ہے؟ جو اللہ کے نام سے موسوم ہو۔(سورۃ مریم)اس کی ایک تفسیر یہی منقول ہے، اسی لیے اس مبارک نام کا نہ تثنیہ ہے اور نہ جمع۔ (قاموس الفقہ)لفظ اللہ کی ایک زبردست خصوصیت یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں لفظ ’’اللہ ‘‘تقریباً دو ہزار نو سو چالیس مرتبہ آیا ہے۔ () حتیٰ کہ جمہور اہل علم نے تولفظ ’’اللہ‘‘ ہی کو اسم اعظم قرار دیا ہے۔ (مرقاۃ)لیکن قطب ربانی، محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر لفظ ’’اللہ‘‘ زبان سے اس حال میں ادا کیا جائے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کچھ نہ ہو، تب لفظ ’’اللہ‘‘ اسم اعظم ہے۔ (مرقاۃ)اور ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ دل اگر غیر سے اور پیٹ حرام سے خالی ہو تو پھر اللہ جل شانہ کا ہرنام’’اسم اعظم‘‘ہے۔لفظ ’’اللہ‘‘ تو ایسا بابرکت نام ہے کہ اگر خدا نہ خواستہ غفلت کے ساتھ لیا جائے تب بھی برکت سے خالی نہیں،پھر عظمت کے ساتھ لینے کی کیا فضیلت ہوگی؟کیوں کہ اللہ جل جلالہ کا مقدس نام تو اس وقت بھی تھاجب کائنات میں کچھ نہ تھااور اس وقت بھی ہوگا جب کچھ بھی باقی نہ رہے گا،اللہ جل جلالہ کا مقدس نام ہی کائنات کی اصل روح اور جان ہے، یہ دنیا کی بستی اسی وقت تک آباد رہے گی جب تک کسی ایک کی زبان پر بھی یہ مقدس نام جاری رہے گا،اور جس وقت کوئی زبان بھی ’’اللہ، اللہ‘‘ کا ورد کرنے والی باقی نہ رہے گی اس وقت بساطِ عالم کو لپیٹ دیا جائے گا

آسمان کی قندیلیں بجھادی جائیں گی،دریاؤں اور سمندروں کا پانی خشک ہوجائے گا،نظامِ عالم درہم برہم ہو جائے گا۔(مشکوٰۃ)بس ثابت ہوگیا کہ اللہ جل شانہ کی ذات جیسے عظیم ہے اس کا مقدس نام بھی اسی طرح عظیم ہے اور عظمت سے اس کا مقدس نام لینے والا بھی عظیم ہے۔ اللہ رب العزت کا نام اتنا عظمت والا ہے کہ اگر ہم ہزار بار بھی مشک اورعنبر سے اپنی زبان دھو کر اس کا مقدس نام لیں تو اس کے تقدس کا حق ادا نہیں کر سکتے، لیکن یہ اس کا انعام اور احسان ہے کہ اس نے اپنا مقدس اور عظیم نام ہماری ناپاک اورحقیر زبان پر بآسانی جاری فرمادیا، اب جو اس پاک نام کو وردِ زبان رکھے گا،اس کی زبان اور جسم دونوں پاک ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔اس کی بہت ساری برکات ہیں جیسے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ ’’ یَااَللّٰہُ ‘‘ پڑھے گا، انشاء اللہ اس کے دل سے تمام شکوک وشبہات دور ہو جائیں گے اور عزم ویقین کی قوت نصیب ہوگی ۔*جو لاعلاج مریض ہواور اس کے مرض سے اطباء عاجز آگئے ہوں وہ بکثرت ’’ یَا اَللّٰہُ ‘‘ کا ورد رکھے اور اس کے بعد شفاء کی دعامانگے اس کوشفاء نصیب ہوگی بشر طیکہ موت کاوقت نہ آگیا ہو۔*جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے پاک وصاف ہوکر خلوت میں پڑھنے سے مقصود آسان ہوجاتا ہے خواہ کیساہی مشکل ہو۔*ہرنماز کے بعد سو (۱۰۰) بار پڑھنے والا صاحبِ باطن وصاحب کشف ہوجاتا ہے۔*چھیاسٹھ (۶۶) بار لکھ کر دھوکر مریض کوپلانے سے اللہ تعالی شفاء عطافرماتا ہے ۔

خواہ آسیب کااثر کیوں نہ ہو۔ *آسیب زدہ کیلئے کسی برتن پر اللّٰہ اس برتن کی گنجائش کے بقدر لکھ کر اس کا پانی آسیب زدہ پر چھڑکیں تو اس پر مسلط شیطان جل جاتاہے۔ *جوشخص اللّٰہ کا محبت الہی کی وجہ سے ذکر کر ے گا اور شک نہیں کرے گا وہ صاحبِ یقین میں سے ہوگا۔ *جوہر نماز کے بعد سات بار (ہُوَاللّٰہُ الرَّحِیْمُ ) پڑھتا رہے گا اس کا ایمان سلب نہیں ہوگا اور وہ شیطان کے شرسے محفوظ رہے گا۔*جوشخص ایک ہزار با (یَااللّٰہُ یَاہُوَ ) پڑھے گا اس کے دل میں ایمان اورمعرفت کو مضبوط کردیاجائے گا ۔*جوشخص جمعہ کے دن عصر کی نماز پڑھ کرقبلہ رخ بیٹھ کر مغرب تک ( یَااَللّٰہُ یَارَحْمٰنُ یارَحِیْمُ ) پڑھتا رہے گا پھر اللہ تعالی سے جو چیز مانگے گا اللہ تعالی اس کو عطا فرمائیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ حق تعالیٰ ہمیں اپنی معرفت اور اپنے نام کی عظمت نصیب فرمائے۔ اور ان نام کی برکتوں سے مالا مال فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment