قصص الانبیا ء

لباس پہننے کے باوجود ننگی عورتوں كا ظہور

{علامات صغریٰ / قیامت کی چھوٹی نشانیاں} لباس پہننے کے باوجود ننگی عورتوں كا ظہور حدیث شریف کا مفہوم ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ ارهما. وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا (صحیح بخاری شریف 2128) ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔۔۔۔ دوسری وہ عورتیں جو لباس پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں

(یعنی ستر کے لائق اعضاء کھلے ہیں یا کپڑے ایسے تنگ اور باریک پہنتی ہیں جن میں سے بدن نظر آتا ہے تو گویا ننگی ہیں) وہ سیدھی راہ سے بہکانے والی اور خود بہکنے والی ہیں اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم ہے) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہوں گے؟ وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ ان کو اس کی خوشبو بھی نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی دور جاتی ہے، وضاحت) حضرات علماء كرام نے درج ذيل فرمان نبوى ﷺ ميں چار توجيہات بيان كى ہيں، خود مائل ہونے والياں اور دوسروں كو اپنى طرف مائل كرنے والياں، 1) مائلات) وه عفت و عصمت اور استقامت سے ہٹى اور مائل ہونگى يعنى ان كے ہاں ايسى معاصى و برائياں ہونگى جس طرح ایک فاحشہ عورت كى ہوتى ہيں يا پھر وه فرائض نماز وغيره كى ادائيگى ميں كوتاہى كرتى ہونگى، مميلات : يعنى دوسروں كى شر و برائى اور فساد كى طرف مائل كرنے والياں ہونگى لہذا ان كے افعال اور اقوال كى بنا پر دوسرے لوگ فساد و فتنہ اور معاصى و برائى كى طرف مائل ہونگے اور اپنے عدم ايمان يا ايمان كى كمزورى و قلت كى بنا پر فحش كام كرينگے، 2) مائلات) يعنى اپنى چال ميں مائل ہونگى اور لہك لہك كر چليں گى اور مميلات اپنے كندھوں كو مائل كرينگى،3) مائلات)

وه مردوں كى جانب مائل ہونگى اور ان كے بناؤ سنگھار اور زينت وغيرہ ظاہر كرنے كى بنا پر مرد ان كى جانب مائل ہونگے،4) مائلات) يعنى وه ٹيڑھى كنگھى كرينگى جو كہ فاحشہ عورتوں كى كنگھى ہوتى ہے،مميلات : ان كے علاوہ دوسرے اس طرح كى كنگھى كر كے بال بنائينگے كنگھى سے مراد يہ ہے كہ سر كے درميان كى بجائے سر كى ایک طرف مانگ نكال كر ایک طرف زياده اور دوسرى طرف كم بال كيے جائيں جو كہ دور جاہليت ميں فاحشہ عورتوں كا شعار اور علامت تھى،🗒🖋نوٹ : بعض اہل علم حضرات كہتے ہيں كہ نبى كريم ﷺ كے فرمان مائلات مميلات سے مراد يہى ہے، صحيح يہ ہے كہ مائلات سے مراد وه عورتيں ہيں جو اپنے اوپر واجب شرم و حياء اور دين سے مائل ہوں اور ہٹى ہوئى ہوں اور مميلات يعنى دوسروں كو اس سے مائل كرنے والياں، المائلۃ عمومى ميلان كے معنى ميں ہے لباس يا شكل و صورت يا كلام وغيرہ ميں صراط مستقيم سے ہٹى ہوئى ہوں،اور مميلات : وه عورتيں جو دوسروں كو مائل كريں اور يہ اس طرح ہے كہ عورتوں كا ايسى اشياء استعمال كرنا جس ميں فتنہ و فساد ہو حتى كہ اللہ كے بندوں ميں كچھ لوگ ان كى جانب مائل ہو جائيں،

سب بال اكٹھے كر كے ایک سائڈ پر ركھنے كے متعلق شيخ ابن عثيمينؒ كہتے ہيں بالوں كى مانگ نكالنے ميں سنت يہ ہے كہ پيشانى كے وسط سے سر كے اگلے حصہ سے شروع كر كے مانگ نكالى جائے كيونكہ بالوں كى جہت آگے ، پيچھے اور دائيں بائيں ہوتى ہے اس ليے مشروع مانگ كا طريقہ يہى ہے كہ سر كے درميان سے نكالى جائے ليكن سر كے ایک طرف سائڈ ميں مانگ نكالنا مشروع نہيں بلكہ اس ميں غير مسلموں سے مشابہت ہوگى، ●علامت نمبر19) انواع و اقسام کے فتنوں کا کثرت سے ظہور حدیث شریف کا مفہوم ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ : بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا (صحيح مسلم شریف 118) ترجمہ : حضرت ابوہریرهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کر لو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا،

Leave a Comment