اسلامک وظائف

لا اله الا الله پڑھنے کی فضیلت..لا الہ الا اللہ” کو مضبوطی سے تھامے رہنے کا حکم

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام جب حالتِ نزع میں تھے، اس وقت آپ نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تمہیں “لا الہ الا اللہ” کو مضبوطی سے تھامے رہنے کا حکم دیتا ہوں ۔ کیونکہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اگر ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں، اور”لا الہ الا اللہ” ایک دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے، تو کلمہ توحید کا پلڑا بھاری ہوجائے گا

اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایک پیچیدہ معمّہ ہوتے، تو کلمہ توحید اس کا حل ضرور پیش کردے گا(امام بخاری نے اپنی کتاب”الادب المفرد” میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے) یہ کتنی فضیلت والا کلمہ ہے اس کا اندازہ آپ کو اس حدیث مبارکہ سے ہی ہو گیا ہوگا ۔اس کلمے کی اتنی زیادہ فضیلت ہے کہ اگر آپ اس کو صبح شام یا صبح کے آغاز کے وقت اگر دس بار پڑھ لیں تو اللہ پاک آپ کو کن کن انعمات سے نوازتے ہیں یہ جان کر آپ بہت خوش ہو جائیں گے اور اپنا معمول بنا لیں گے کہ اس کو روزانہ پڑھا جائے آج ہم آپ کو لا اله الا الله پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں بتائیں گے۔لا الہ الا اللہ کی فضیلت کے بارے میں تو سب سے پہلے لا الہ الا اللہ کے معنی و مطلب اور مقام و فضیلت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ لا الہ الا میں “لا “نفی ہے اور” الا” اس کا اسم ہے اور خبر مخصوف ہے یعنی لا الہ حق نہیں ہے کوئی معبود برحق لا الہٰ مگر اللہ یہ خبر حق سے استثنیٰ ہے۔ الا کے معنی ہیں وہ ذات جس کی عبادت میں دل وارفتہ ہو یعنی دل اس کی طرف مائل ہوں اور اور حصول نفع یا دفع زر کے لئے اس کی طرف رجوع اور رغبت کریں۔یہ کلمہ اثبات اور نفی دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔

تمام مخلوقات سےعلویت کی نفی اور اللہ کے لیے علویت کا اثبات یعنی اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا مشرکین نے جتنے بھی معبود بنا رکھے ہیں سب باطل ہیں اور اس کا مطلب صرف اللہ ہی مشکل کشا ہے، اس کے علاوہ کوئی مشکل کشا نہیں ، اس کا مطلب صرف اللہ ہی حاجت روا ہے اس کے علاوہ کوئی حاجتوں کو قبول کرنے والا نہیں۔ یہ کلمہ تمام شرع اور سارے انبیاء کی محنت کا خلاصہ اور حاصل ہے لہٰذا جس کثرت سے قرآن اور حدیث میں اس کا بیان ہوا وہ کرینِ قیاس ہے۔ یہ دین کی اصل اور ایمان کی جڑ ہے بلکہ دنیا کے وجود کا مدار اسی کلمے پر ہے۔ اس کے دو نوں جزو میں اللہ شامل ہے۔ اس کی تکرار سے زبان کو تراوٹ ملتی ہے۔ اس کے ورد سے ایمان کی تجدید ہوتی ہے اور دل کا فکروغم دور ہوتا ہے اور اس کے فضائل کے بارے میں بہت ساری احادیث میں ذکر ملتا ہے ۔ “حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک سفید کپڑے میں سو رہے تھے، میں دوبارہ حاضر ہوا تب بھی آپ سو رہے تھے، تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے، میں آپ کے پاس بیٹھ گیا

،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے لا الہ اللہ کہا اور اسی پر مرا وہ جنت میں داخل ہو گا،میں نے عرض کیا کہ خوا زنا کیا ہو یا چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوا زنا کیا ہو خوا چوری کی ہو،میں نے عرض کیا کہ خوا زنا کیا ہو خواہ چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوا زنا کیا ہو خوا چوری کی ہو، میں نے عرض کیا کہ خوا زنا کیا ہو خواہ چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوا زنا کیا ہو خوا چوری کی ہو، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمائی ، چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوا ابوذر کی ناک خاک آلود ہو، پس حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و آپ کی مجلس سے اٹھ کر باہر آئے تو کہہ رہے تھے خوا ابوزر کی ناک خاک آلود ہو”۔ خلوص دل سے کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سفارش کریں گے۔ ایک اور حدیث میں اس طرح سے آیا ہے” حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے معاذ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بردار حاضر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا فرمانبردار حاضر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا فرمانبردار حاضر ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص گواہی دے کہ” اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا، حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں لوگوں کو اس سے آگاہ کروں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر تو لوگ صرف اسی پر تکیہ کر لیں گے اور اعمال کی فکر نہیں کریں گے چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گناہ سے بچنے کے لئے مرتے وقت یہ حدیث بیان کی “۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ” بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے اور بہترین بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے پیغمبروں نے کی وہ لا الہ الا اللہ ہے۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہی ہے اسی کیلئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے”۔( بحوالہ جامع ترمذی” تیسری حدیث جس کا تعلق قیامت کے دن حساب کتاب سے ہے اسے بھی طیبہ کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ٰ میرے ایک امتی کو برسر خلائق نجات عطا فرمائے گا۔اللہ ننانوے رجسٹر کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گا۔ہر رجسٹر کا طول و عرض حد نگاہ تک ہو گا۔پھر اللہ تعالیٰ ٰ کہے گاکیا تو اس میں درج باتوں میں سے کسی کا انکار کرتا ہے ؟یا تیرے خیال میں میرے لکھنے والے محافظین نے تجھ پر ظلم کیا ہے ؟وہ امتی کہے گانہیں،اے میرے رب اللہ فرمائے گا :کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟وہ کہے گا نہیں، اے میرے رب اللہ تعالیٰ ٰ فرمائے گا کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے بلاشبہ آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔پھر کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس پر یہ درج ہو گا۔میں گواہی دیتا ہوں

اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں۔اللہ کہے گا دونوں کا وزن کیا جاتا ہے ، تو دیکھ ،امتی کہے گا اے میرے رب اس ٹکڑے کی ان رجسٹروں کے سامنے کیا حیثیت ہے ؟اللہ فرمائے گا تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔پس سارے رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور کلمہ شہادت والا کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔لیکن قطعہ کاغذ والا پلڑا بھاری اور رجسٹروں والا پلڑا ہلکا ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔(ترمذی)ایک اور حدیث میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو دو باتوں کی وصیت فرمائی، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں تجھےلا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں”۔پھر اس کی درج ذیل فضیلت بیان فرمائی”ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اگر ایک پلڑے میں اور لا الہ الا اللہدوسرے پلڑے میں رکھا جائے ، تو یہ دوسرا پلڑا اس کلمے کی وجہ سے بھاری ہو جائے گا اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک بند حلقہ ہوں تو لا الہ الا اللہ ان کو توڑ دے گا۔(مسند احمد )

مذکورہ احادیث سے کلمہ”لا الہ الا اللہ” کی فضیلت واضح ہے۔ اب ہم آپ کو اس کے پڑھنے کے فضائل کے بارے میں آگاہ کرے گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ” تین شخص کی دعا رد نہیں ہوتی ،ایک وہ جو کثرت سے ذکر کرتا ہے، دوسرا مظلوم اور تیسرا وہ حکمران جو انصاف کرتا ہے”۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احکام شریعت تو بہت ہیں آپ مجھے ایسی چیز بتا دیجئے جس کو میں اپنا معمول بنا لوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ہر وقت تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے، تمام اذکار میں بہترین ذکر کلمہ توحید ہے “۔اس حدیث میں لاالہ اللہ کو سب سے افضل بتایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کلمہ سے انسان ایمان کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور یہی کلمہ تمام انبیاء علیہ السلام کا پہلا سبق تھا ۔دور حاضر میں بے سکونی کی کیفیت ذکر الہٰیٰ سے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اہل مغرب کے ہاں خود کشیاں روحانیت سے فرار کی وجہ سے ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بے سکونی یاد الہٰی سے غفلت کی وجہ سے ہے۔ نِت نئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں یاد الہٰی سے غفلت کی وجہ سے ہے۔ بلاشبہ ذکر الہٰی دلوں کو سکون بخشتا ہے۔ بس اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ہر وقت ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

Leave a Comment