اسلامک واقعات

قیامت سے پہلے ہی قیامت..ہماری زندگی میں بھی آسکتا ہے

بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ یہ دنیا فانی کے اور ایک دن سب ختم ہو جانا ہے۔ یہ جملہ اس طرح ہمارے ذہنوں میں بیٹھا ہے کہ اب اس پر شک کی کوئ گنجائش ہی نہیں ہے۔ مگر ہمارے اس یقین میں ایک ٹیڑھا پن ہے اور اس ٹیڑھے پن نے نہ صرف ہماری سوچ بلکہ ہمارے رویوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ہم سب یہ تو مانتے ہیں کہ اس دنیا کو ایک دن ختم ہو جانا ہے

مگر یہ نہیں مانتے کہ “وہ” دن ہماری زندگی میں بھی آسکتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جب یہ دنیا فنا ہو گی، وہ دن صرف قیامت کا ہو گا۔ ہاں ٹھیک ہے کہ قیامت لے روز اللہ تعالی اس دنیا پر موجود ہر شے کو تباہ کر دیں گے مگر اس بڑی اور اصل قیامت سے پہلے بھی ایک قیامت ہوتی ہے۔ اور وہ ہے موت۔ جی ہاں! موت۔ جب انسان پر موت چھا جاتی ہے تو بھلے ہی یہ دنیا تباہ نہین ہوتی مگر اس ایک شخص کی ساری کائنات ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی خوشیاں، اس کے غم، اس کا مال، اس کا رعب، غرض اس کی زندگی تک ختم ہو جاتی ہے اور وہ ایک اور ہی دنیا میں اپنا ابدی سفر شروع کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں کئ مرتبہ انسان کو اس دنیا کی حقیقت بتائی ہے کہ دنیا دھوکے کا سامان ہے۔ مگر انسان اسی دھوکے کے پیچھے اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے حتی کہ جان بھی۔ہم سب اسی دھوکہ میں ہیں کہ ابھی قیامت بہت دور ہے اور پتہ نہیں ہم اس وقت تک زندہ بھی نہ ہوں۔ لیکن ہم یہ بھول گئے ہیں کہ بھلے ہی اس دنیا کو ابھی ختم نہیں ہونا مگر ہماری زندگی کا کوئ بھروسہ نہیں نجانے کب سانسیں دغا کر جائیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی قیامت یعنی موت آنے سے پہلے ہی اس کی تیاری کر لیں۔

اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اس بات کو اپنے ذہنوں میں بٹھا لیں کہ ہماری ایک قیامت تو اس دنیا کو تباہ کرے گی مگر اس سے پہلے ایک اور قیامت قیامت ہو گی جب ہمیں اس دنیا کو چھوڑ کر رخصت ہونا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر انسان کا حساب اس کی موت کے فورا بعد شروع ہو جاتا ہے۔ کیا یہ سوچ ہمارے ذہنوں میں ہر وقت رہتی ہے؟ کیا ہمارے رویے اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں؟

Leave a Comment