اسلامک واقعات

قضاء نمازوں کا حکم

.قضاء نمازوں کا حکم

بالغ ہونے کے بعد سے جتنی نمازیں رہ گئی ہیں ان تمام کی قضاء کرنا ضروری ہے۰
قضاء نمازوں کا حکم کے سلسلہ میں کچھ اصولی باتیں یہ ہیں ۔

♦قضا نمازوں کی ادائیگی لازم ہے :

اگر کسی کی ایک یا کئی نمازیں چھوٹ گئی ہوں .تو ان تمام نمازوں کی قضا کرنا واجب ہے.توبہ سے نمازیں معاف نہیں ہوتی ہیں. البتہ وقت پر ادا نہ کرنے کا گناہ معاف ہوجاتا ہے.لہذا قضا نمازوں کے ادا کرنے میں جلدی کرنا چاہیئے بلا عذر تاخیر کرنا گناہ ہے

تنبیہ :

.خاص دنوں جیسے رمضان المبارک وغیرہ یا خاص جگہ جیسے حرمین شریفین میں کسی مخصوص طریقے سے نماز پڑھنا .

اس نیت سے کہ سب نمازیں معاف ہو جائیں گی. شرعا اس کی کوئی اصل نہیں ہے.اس سے نمازیں معاف نہیں ہوتی ہیں بلکہ تمام نمازوں کی قضا کرنا ضروری ہے-

♦نمازیں قضا کرنے کا طریقہ :

اگر کسی شخص کے ذمہ بہت سی نمازیں ہوں . اس کو اپنی فوت شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو .تو ایسے شخص کو چاہیے کہ بلوغت کے بعد سے اب تک کی فوت شدہ نمازوں کی محتاط اندازہ کےمطابق تعداد مقرر کرلے. اور اس میں فرضوں کے ساتھ وتر بھی شامل کرے. اور غالب گمان کے مطابق نماز کی جو بھی تعداد طے ہو جائے .تویہ تعداد کسی کاپی میں لکھ لے.

ورثاء کو بھی وصیت

روزانہ ادا شدہ نمازیں کاپی میں سے کم کرتا جائے. یہاں تک کہ وہ تعداد پوری ہوجائے، نیز اس کے ساتھ اپنے ورثاء کو بھی وصیت کردے .کہ اگر اسی دوران میرا انتقال ہو جائے .تو ورثاء اس کاپی کے مطابق تہائی مال کی حد تک بقیہ نمازوں کا فدیہ ادا کر دیں-

قضاء نمازیں

ان نمازوں کی ادائیگی کی آسان صورت یہ ہے .کہ ہر وقتی نماز کے ساتھ اس وقت کی کچھ قضاء نمازیں ادا کرلی جائیں۔ نیز قضاء نمازوں میں صرف فرائض کی ادائیگی کی جائے گی؛ البتہ عشاء کے فرائض کے ساتھ وتر کی قضاء بھی ادا کرنا ہوگی۔

♦قضا نمازوں کی نیت کا طریقہ :

اور اگر قضا شدہ نمازوں کے دن اور تاریخ یاد نہ ہوں تو نیت اس طرح کرلیں. کہ اس وقت کی (مثلاً فجر کی) جتنی نمازیں میرے ذمہ ہیں. ان میں سے پہلی نماز کی قضا کرتا ہوں. اسی طرح فجر کی ایک نماز کی قضاء کے بعد دوسری فجر کی نماز کی قضاء کرتے ہوئے یہی نیت کرلیا کریں. باقی نمازوں کی قضاء میں بھی نیت کا یہی طریقہ ہے۔

♦وہ اوقات جن میں قضاء نماز ادا کرنا جائز نہیں :

قضاء نمازیں جتنی چاہیں کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں. البتہ طلوعِ شمس.زوالِ شمس اور غروب کے وقت جب سورج سرخی کی طرف مائل ہونا شروع ہوجائے تو قضاء نماز پڑھنا جائز نہیں.صبحِ صادق کے بعد طلوعِ شمس سے پہلے اور عصر کے بعد سورج کے سرخی کی طرف مائل ہونے سے پہلے قضاء نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ نیز ایک وقت میں جتنی چاہے اور جو چاہیں نمازیں قضاء پڑھ سکتے ہیں- [امداد الفتاویٰ : 1/95]

♦سنت غیر موکدہ اور نوافل کے بجائے قضاء نمازیں پڑھنا بہتر ہے :

متعدد احادیثِ مبارکہ میں سننِ مؤکدہ کی بہت اہمیت اور فضیلت وارد ہوئی ہے. سننِ مؤکدہ کا درجہ واجب کے قریب ہے.چنانچہ آپ ﷺ اپنی حیاتِ طیبہ میں سننِ موکدہ کا بہت اہتمام فرمایا کرتے تھے اور اس پر مواظبت فرمائی ہے .

اور آپ ﷺ کے بارے میں پوری حیاتِ مبارکہ میں اس کا ترک کسی عذر کی وجہ سے ایک یا دو مرتبہ منقول ہے.لہٰذا بلا عذر سننِ موکدہ کو مکمل طور پر چھوڑ دینا درست نہیں؛ تاہم نوافل اور سننِ غیر موکدہ کی جگہ قضاء نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں .اور اگر کوئی سنت غیر موکدہ اور نفل کی جگہ قضا نمازیں پڑھے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ اسے دونوں کا ثواب مل جائے گا-

Leave a Comment