اسلامک وظائف

قرآن کی آیات جن کو پڑھ کر دعا ضرور قبول کی جاتی ہے

دعا ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم تقدیر تک بدل سکتے ہیں-سچے دل کی دعائیں اللہ تعالی ضرور قبول کرتے ہیں-ہم نے انبیاء کرام کے کتنے ہی معجزوں کا سن رکھا ہے اور پڑھا بھی-ہم غور کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہر معجزہ دعا کے ذریعے ہوا-جب بھی کوئی نبی یا صحابہ معجزہ کرتے تھے تو اس سے پہلے ہاتھ بلند کر کے دعا کرتے تھے-

کیونکہ جو بھی معجزات ہوئے وہ اللہ تعالی کی مرضی سے ہوئے-جب ہم سنتے ہیں کہ دریا کے دو حصے ہوگئے تو ہمیں یہ ناممکن سی بات لگتی ہے لیکن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے کیے تھے- حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت اڑا کرتا تھا یہ بھی اللہ کی ہی مرضی تھی-کچھ دعائیں ایسی ہوتیں ہیں جن کا ہم بہت شدت سے پوری ہونے کا انتظار کرتے ہیں-قرآن پاک کی سورہ الفاتحہ اور سورہ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں اور اس کے بعد دعا کی جائے تو وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے-ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اس دوران کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اوپر سے ایک آواز سنی تو اپنا سر اٹھایا اور کہا:یہ آسمان کا دروازہ ہے جسے آج کے دن کھولا گیا ہے-

آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا-پھر اس سے ایک فرشتہ اترا-کہا:یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے آج سے پہلے کبھی نہیں اترا-اس (فرشتے) نے سلام کیا اور کہا آپ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ کو دیے گئے اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے- فاتحہ الکتاب اور سورہ البقرہ کی آخری آیات آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ کو ضرور عطا کیا جائے گا” (مسلم صحیح 1877)ِتو اگر ہم دیکھیں الفاتحہ کی آخری دو آیات میں کیا کہا گیا تو اس میں ہم اللہ سے صراط مستقیم مانگتے ہیں اور اللہ سے اس کی رحمت مانگتے ہیں انعام مانگتے ہیں جبکہ سورہ البقرہ کی آخری آیات میں ہم اللہ ، اس کے رسول، اس کی کتابوں اور اسے فرشتوں پر ایمان لانے کا اعتراف کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ہم کسی بھی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے یعنی ہم سب رسولوں پر ایمان لاتے ہیں

اور ہم یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے-اور اللہ ہمیں یہ بھی باور کراتے ہیں کہ اللہ کسی بھی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا-اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی برائی ہوجائے تو ہماری پکڑ نا کی جائے ہمیں معاف کر دیا جائے-

Leave a Comment