اسلامک معلومات

قرآن مجید کب اور کیسے نازل ہوا

قرآن مجید

قرآن مجید کا پہلا نزول

قرآن مجید دراثر کلام الہی ہے۔ اس لئے ازل سے ہی لوح محفوظ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے “بلکہ یہ قرآن مجید ہی لوح محفوظ میں موجود ہے” پھر لوح محفوظ سے اس کا نزول دو مرتبہ ہوا۔
ایک دفعہ قرآن مجید پورے کا پورا آسمان دنیا کے بیت العزت پر نازل کر دیا گیا۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ حضرت ابن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا کے ایک مقام بیت العزت، جس کا دوسرا نام بیت المعمور ہے وہاں پر یوا۔ جو کہ کعبہ کے اوپر آسمان پر فرشتوں کی عبادت گاہ ہے۔

قرآن مجید کا دوسرا نزول

قرآن پاک کا دوسرا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ اس نزول کا آغاز لیلتہ القدر میں ہوا۔ قرآن پاک کے آغاز کے بارے میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو خود قرآن پاک سے ثابت ہیں۔ جس کے مطابق قرآن پاک کے نزول کی ابتداء رمضان کے مہینے میں ہوئی۔ اور جس رات میں نزول قرآن کا آغاز ہوا وہ شب قدر تھی۔ قرآن پاک کی سب سے پہلے نازل ہونے والی آیات سورت علق کی پہلی پانچ آیات ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا فرمان

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ یہ واقعہ اس طرح بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوت میں عبادت کرنے کا شوق ہوا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں کئی کئی راتیں گزارتے اور عبادت میں مشغول رہتے۔ ایک دن اسی غار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی جانب سے حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے۔ اور انہوں نے پہلا لفظ اقراء کہا یعنی پڑھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پکڑا، زور سے جنجھوڑا اور مجھ پر ایک مشقت کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اور پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا پڑھو اور انہوں نے سورت العق کی پہلی پانچ آیات پڑھیں۔ اس کے بعد کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ جس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت مدثر کی آیات سنائی۔ اس طرح قرآن پاک نزول کا سلسلہ جاری رہا

Leave a Comment