معلومات عامہ

قارون کون تھا؟

قارون کون تھا؟

قارون کون تھا؟

قارون کون تھا؟ قرون حضرت موسی علیہ اسلام کے زمانہ میں پیدا ہوا۔ وہ اپنی تاریخ کا سب سے دولت مند انسان تھا۔ وہ اسرائیلی تھا اور مصر کا رہنے والا تھا لیکن اللہ کے نبی حضرت موسی علیہ اسلام کو نہیں مانتا تھا۔ اسکے پاس موجود دولت ستر اونٹ اٹھاتے تھے۔ اسے اپنی دولت پر بہت غرور تھا۔ وہ لوگوں پر ظلم کرتا،ان پر تشدد کرتا اور ظلم و جبر کر کے ان کی دولت چھین لیتا۔

جب حضرت موسی علیہ اسلام نے یہ سب دیکھا تو قارون کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، اللہ کا کلام پڑھ کر سنایا، اللہ کے عذاب سے ڈریا لیکن قارون ہر بار غرور کرتا اور حضرت موسی علیہ اسلام کی نہ مانتا۔

قارون کون تھا؟ قرآن میں قارون سے متعلق آیات

سورہ القصص میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔  کہ قارون تھا تو موسی کی قوم سے۔  لیکن وہ اپنی قوم پر بہت ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے اتنے خزانے دے رکھے تھے۔  کہ کئ کئ اونٹ اس کے خزانون کی کنجیوں کا بوجھ اٹھاتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اتنا غرور نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی قارون اپنی قوم بنی اسرائیل پر اس قدر ظلم کرتا تھا۔  کہ اپنی بادشاہت پر غرور کرتے ہوئے اپنی قوم پر جبر کرتا تھا۔

خزانے کی چابیوں کا بھوج

قارون کے خزانے کی چابیوں کا بھوج اس قدر زیادہ تھا۔  کہ طاقتور اونٹ بھی انہیں اٹھاتے ہوئے دقت محسوس کرتے تھے۔ اللہ کے نبی حضرت موسی علیہ اسلام نے اسے بہت بار سمجھایا کہ اپنی دولت پر تقبر نہ کرو۔  اسے اللہ کے لوگوں کی بھلائی کے لئے استعمال کرو۔  بخیل نہ بنو کیونکہ اللہ کو بخیل انسان بلکل پسند نہیں۔ اور اسے کہا کہ یہ جو دولت اللہ نے تجھے دی ہے اسے اچھے کاموں میں استمعال کر۔ اپنی آخرت کی فکر کر اور اس کے لئے بھی چند اچھے عمال کر۔ اللہ نے تجھے اتنی دولت دے کر تجھ پر احسان کیا ہے، تجھے بھی چاہئیے کہ انسانیت کی بھلائی کر کے ان پر احسان کر۔ تیرے مال پر دوسروں کا بھی حق ہے، انہیں انکا حق دے۔

ان سب نصیحتوں کے جواب میں قارون نے کہا کہ یہ ساری مال و دولت تو میں نے خود جمع کی ہے، یہ سب میں نے تجارت کر کے حاصل کیا ہے۔ یہ ساری دولت میری محنت ہے۔ اس سب سے اللہ کا کیا تعلق جب کے اس دولت کو جمع کرنے کے لئے میں نے خود کام کیا ہے۔ اور اگر اللہ نے مجھے یہ مال دیا بھی ہے تو یہ احسان تو نہ ہوا بلکہ میں تو اس سب کا مستحق ہوں۔ لوگ قارون کو دیکھتے تو رشک کرتے، سوچتے کی کاش ہمارے پاس بھی وہ سب ہو جو قارون کے پاس ہے۔ لوگ اس پر فخر کرتے اور اس کی قسمت پر رشک کرتے۔

قارون کا انجام

اور پھر ایک دن قارون اللہ کے عذاب کی پکڑ میں آ گیا، اللہ نے اسے اسکی دولت اور محل سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ کوئ بھی اسکی مدد کو نہ آیا اور نہ ہی وہ خود اپنے لئے کچھ کر سکا۔ جس مال اور جس محل پر قارون تکبر کرتا تھا، اللہ نے اسے اسی سمیت صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

Leave a Comment