اسلامک معلومات

فقہ اور تقلید کیا ہے!!

فقہ اور تقلید کیا ہے!!
سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ۔
پانچ منٹ نکال کر تحریر اخر تک پڑھئیے بہت کام کی چیز ہے اور آگے بھی شئر کیجئے گا ۔۔۔

اصل میں بات یہ ھے کہ فقہ کہتے ہیں ۔۔۔سمجھ بوجھ کو اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں
کہ اس کی کوئی ضرورت ھے یا نہیں ۔۔۔۔جب آدمی قرآن اور حدیث پر غور کرے اور اس کا مُدّعا سمجھنے کی کوشش کرے ۔۔ اور اس سے وہ یہ معلوم کرے۔۔۔۔ کہ اللہ اور اُس کا رسول فی الواقع ہم سے کیا چاہتے ہیں
اور ہمارے لئے راہِ عمل کیا ھے تو اسی چیز کا نام فقہ ھے
یہ پوچھنا کہ فقہ کی کیا ضرورت ھے بالکل ایسا ہی ھے جیسے کوئی شخص کہے کہ قرآن کو سمجھنے کی کیا ضرورت ھے ۔۔۔۔اور حدیث پر غور کرنے کی کیا حاجت ھے اب دیکھئے کہ اصطلاحًا فقہ کس چیز کو کہتے ہیں
یہ بات تو ظاہر ھے کہ عام لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ ہر شخص قرآن و حدیث میں اتنی نظر پیدا کر لے ۔۔۔کہ وہ خود مسائل کا استنباط کر سکے ۔ نـہ ہر ایک کے پاس اتنا وقت ہوتا ھے اور نـہ ہر ایک میں اتنی صلاحیت ھے
اللہ کے کچھ بندوں نےدین کا فہم حاصل کرنےاور پھر اسے ایک مفصّل اور مرتّب صورت میں پیش کرنے میں عُمریں کھپا دیں انہوں نے قرآن پر غور کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی احادیث پر اور آپ کے زمانے کے جُملہ احوال پر غور کر کے صحابہ رضی اللہ عنہ کےزمانہ میں جو عمل تھا اسے معلوم کر کے اور تابعین نے جو فتوے دیے تھے
اُن سب کو جمع کر کے ، شریعت کے جملہ احکام و مسائل مُنقّح کر کے نکالے اور اُنہیں ایک جامع شکل میں پیش کر دیا
یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے ۔۔جو اُنہوں نے انجام دیا اور اس طرح انہوں نے محنت کر کے بے شمار لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں
آج بعض لوگ اُن کی اِن عظیم الشان خدمات کا صِلہ یہ دیتے ہیں
کہ اُن پر تنقید اور اعتراضات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ظاہر بات ہے کہ جو شخص خود علم نہ رکھتا ہو ،
اور اس کے اندر اتنی صلاحیت نہ ہو کہ براہِ راست قرآن و حدیث سے مسائل معلوم کر سکے اُسے بہرحال کسی نہ کسی پر اعتماد کرنا ہو گا اُس کا کام ھے۔۔۔۔۔۔ کہ جو شخص علم رکھنے والا ہے وہ اس سے پوچھے ۔ خود قرآن مجید کہتا ھے کہ جو لوگ علم رکھنے والے ہیں اُن سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ، اس میں کوئی حرج اور گناہ کی بات نہیں ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ ایک آدمی جس کے اندر احکام مستنبط کرنے کی صلاحیت موجود ھے
اور وہ قرآن و حدیث پر غور کر سکتا ھے اس کے پاس مسائل معلوم کرنے کے ذرائع ہیں ۔۔۔۔۔ اُس کے لئے اس طرح کی تقلید درست نہیں ھے جس طرح کی تقلید عوام کے لئے ھے
اس کا یہ فرض ھے کہ وہ کس فقہ کے کسی مسئلے کو ماننے سے پہلے یہ اطمینان کر لے کہ اس کے دلائل کیا وزن رکھتے ہیں اور وہ کہاں تک قرآن و حدیث کے مطابق ہیں ۔
اگر دلائل سے اسے یہ محسوس ہو کہ فلاں مسئلہ میں فلاں فقہ کے دلائل کمزور ہیں تو اس کے بعد جان بوجھ کر اگر وہ اسی کی پیروی کرے گا تو غلط کام کرے گا
آپ دیکھیے کہ جو عُلماء آج مُقلّد گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ ایک ایک مسئلے میں اپنی تقلید کے دلائل دیتے ہیں ۔۔۔۔اور بتاتے ہیں کہ اِس فقہ کا یہ مسئلہ اس بنا پر درست ھے ۔
یہ دلیل دینا بجائے خود یہ معنی رکھتا ھے۔۔۔۔ کہ وہ اندھے مقلّد نہیں
بلکہ تبع ہیں پھر کیا فرق پڑتا ھے۔۔ اس بات سے کہ کوئی شخص امام ابو حنیفہ رح کی تقلید کرے یا مولانا ثناء اللہ رح کی تقلید کرے یا امام بُخاری رح یا ابنِ تیمیہ رح یا مولانا ابراہیم سیالکوٹی رح کی تقلید کرے شافعی مالکی احمد سارے رحمت اللہ عنہم کے تقلید کریں
بہرحال جو شخص علم نہیں رکھتا اس کے لئے اس کے سِوا چارہ نہیں ھے ۔۔۔۔۔۔کہ وہ کسی صاحبِ علم کی بات سنے اور اُس پر عمل کرے اب مسلک فقہی کے اعتبار سے کسی کا طریق اہلِ حدیث یاطریقِ حنفی یا طریقِ شافعی وغیرہ پر چلنا بجائے خود کسی قباحت کا موجب نہیں ھے۔۔۔۔ لیکن اگر یہ چیز آگے بڑھ کر یہ صورت اختیار کر لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ مسلمان فی الحقیقت ایک اُمّت نہ رہیں ۔۔۔۔۔۔ بلکہ اہلِ حدیث ، احناف ، شوافع وغیرہ ناموں کے ساتھ الگ الگ مستقل اُمّتیں بن جائیں ، اور شرعی اعمال کی جو خاص صورتیں اِن مختلف گروہوں نے اختیار کی ہیں ۔وہ ہر ایک گروہ کے مخصوص شعائر قرار پا جائیں ۔۔۔۔جن کی بِنا پر ان گروہوں میں مغائرت اور امتیاز واقع ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر یقینًا یہ دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ھے۔۔ اور میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دینِ اسلام میں اِس تقسیم اور تعصّب کے لیے کوئی جگہ نہیں ھے ۔۔۔۔

Leave a Comment