اسلامک واقعات اسلامک وظائف

فرقہ واریت کے نتائج

ایک استاد نے دنیا کا نقشہ لیا اور اسے پھاڑ دیا۔ کئی ٹکڑے کر کے ایک شاگرد کے سامنے رکھ دیا اور اسے کہا دوبارہ جوڑو اور بالکل ٹھیک جوڑنا ہے ۔ ملک کے ساتھ ملک ، سمندر کے ساتھ سمندر، براعظم کے ساتھ براعظم ہونا چاہیے۔ شاگرد پریشان ہو گیا کہ مجھے تو ملکوں کے نام تک نہیں آتے، میں جوڑوں گا کیسے۔ اسے ایک ٹکڑے پر انسانی آنکھ نظر آئی تو اسے لگا

پوری انسانی تصویر یہاں ہو سکتی ہے ۔تو اس نے ملکوں کے ٹکڑے چھوڑ کر انسانی اعضاء کی تصویریں جوڑنی شروع کیں۔ کہیں سے ناک ، کہیں سے کان، آہستہ آہستہ جب اس نے جب انسانی اعضاء جوڑ کر الٹا کر کے دیکھا تو وہ پوری دنیا کا نقشہ اپنی جگہ پر فٹ تھا۔ جب اس نے آ کر اپنے استادکو دیکھایا تو وہ کہنے لگے اتنی جلدی کیسے بنا لیا تو شاگرد نے کہا کہ وہ تو مجھ سے نہیں بن سکتا تھا میں نے دیکھا کے ایک ٹکڑے پر انسانی آنکھ ہے ۔ مجھے خیال آیا کہ یہ پورا انسان بنا ہو گا جب میں نے جوڑنا شروع کیا تو وہ پورا نقشہ بن گیا۔ تو استاد نے کہا بیٹا بس یہی آپ کو سمجھانا چاہتا تھا کہ جب انسان بنتا ہے تو دنیا بنتی ہے اور جب انسان بگڑتا ہے تو دنیا بگڑ جاتی ہے۔ وکالت عظیم و شان چیز ہے۔ عدالت عظیم و شان چیز ہے۔ ممبرو محراب نبیوں کی وراثت ہے ۔ شعبے بگڑے ہوئے نہیں ہیں اس میں بگڑے ہوئے انسان داخل ہوئے تو کائنات میں بگاڑ آیا ۔بگڑا ہوا انسان کالا کوٹ پہن کر آیا تو وکالت اور عدالت بگڑ گئ ۔ بگڑا ہوا انسان جب سفید گاون پہن کر آیا تو میڈکل لائن بگڑ گئ۔ بگڑا ہوا انسان چہرے پر داڑھی اور سر پر پگڑی پہن کر آیا تو ممبر بگڑ گئے۔

فرقہ واریت کی آگ نے پورے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ یہ فتنہ وکیلوں نے نہیں اٹھایا ۔ یہ فتنہ تاجروں نے نہیں اٹھایا یہ فتنہ ممبر نے اٹھایا ہے ایسی مقدس جگہ بھی آگ بن جاتی ہے جب انسان بگڑتا ہوا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔انسان جب سے فرقوں میں بٹا ہے، اس وقت سے زمین پر فساد برپا ہے۔

Leave a Comment