اسلامک واقعات دلچسپ وعجیب

فرعون کا مکمل قصہ

فرعون

معزز خواتین و حضرات فرعون کا ذکر قرآن میں بنی اسرائیل کے قصہ میں آتا ہےـ فرعون کا تکبر تاریخ میں مشہور ہےـ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنی رسالت کی نشانیاں دکھائیں مگر اس نے ماننے سے انکار کیاـ جب بنی اسرائیل کو اللہ نے آزاد کیا اور جزیرہ نمائے سینا کی طرف لے گئے تو بالآخر فرعون پانی میں ڈوب کر مر گیا۔ اس کا گناہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو خدا کے برابر سمجھا اور اس کے نتیجہ میں اللہ نے اس کو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنا دیا فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں

غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِ سْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار یا ایک روایت کے مطابق ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔تو ان کی والدہ نے فرعون کے خوف سے ان کو ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ دریا سے نکل کر ایک نہر فرعون کے محل کے نیچے بہتی تھی۔ یہ صندوق دریائے نیل سے بہتے ہوئے نہر میں چلا گیا۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیوی ”آسیہ” دونوں محل میں بیٹھے ہوئے نہر کا نظارہ کررہے تھے۔

جب ان دونوں نے صندوق کو دیکھا تو خدام کو حکم دیا کہ اس صندوق کو نکال کر محل میں لائیں۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں سے ایک نہایت خوبصورت بچہ نکلا جس کے چہرہ پر حسن و جمال کے ساتھ ساتھ انوار ِ نبوت کی تجلیات چمک رہی تھیں۔ فرعون اور آسیہ دونوں اس بچے کو دیکھ کر دل و جان سے اس پر قربان ہونے لگے اور آسیہ نے فرعون سے کہا کہ”یہ بچہ میری اورتیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ بے خبر تھے۔”چونکہ ابھی حضرت موسیٰ علیہ السلام شیر خوار بچے تھے۔ اس لئے ان کو دودھ پلانے والی کسی عورت کی تلاش ہوئی مگر آپ کسی عورت کا دودھ پیتے ہی نہیں تھے۔ ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بے حد پریشان تھیں کہ نامعلوم میرا بچہ کہاں اور کس حال میں ہوگا؟ پریشان ہو کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن ”مریم” کو جستجوئے حال کے لئے فرعون کے محل میں بھیجا۔ اور مریم نے جب یہ حال دیکھا کہ بچہ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتا تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ میں ایک عورت کو لاتی ہوں شاید کہ یہ اُس کا دودھ پینے لگیں۔ چنانچہ ”مریم” حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو فرعون کے محل میں لے کر گئیں اور انہوں نے جیسے ہی جوش محبت میں سینے سے چمٹا کر دودھ پلایا تو آپ دودھ پینے لگے۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو اُن کا بچھڑا ہوا لال مل گیا۔ اس واقعہ کا تذکرہ قرآن مجید کی سورہ قصص میں موجود ہےاللہ رب العزت ارشاد فر ما تے ہے کہ”اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا ضرور قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے اور (اس کی ماں نے )اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا تو

وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”اسی طرح اللہ رب العزت قرآن کر یم میں ب حضرت موسی ؑ کے بارے میں بیان فر ما تے ہے کہ اور جب موسٰی (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور (سنِّ) اعتدال پر آگئے تو ہم نے انہیں حکمِ (نبوّت) اور علم و دانش سے نوازا، اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔ اور موسٰی (علیہ السلام) شہرِ (مصر) میں داخل ہوئے اس حال میں کہ شہر کے باشندے (نیند میں) غافل پڑے تھے، تو انہوں نے اس میں دو مَردوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا یہ (ایک) تو ان کے (اپنے) گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ (دوسرا) ان کے دشمنوں (قومِ فرعون) میں سے تھا، پس اس شخص نے جو انہی کے گروہ میں سے تھا آپ سے اس شخص کے خلاف مدد طلب کی جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا پس موسٰی (علیہ السلام) نے اسے مکّا مارا تو اس کا کام تمام کردیا، (پھر) فرمانے لگے: یہ شیطان کا کام ہے (جو مجھ سے سرزَد ہوا ہے)، بیشک وہ صریح بہکانے والا دشمن ہے۔موسٰی علیہ السلام) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو تو مجھے معاف فرما دے پس اس نے انہیں معاف فرما دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔(مزید) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! اس سبب سے کہ تو نے مجھ پر (اپنی مغفرت کے ذریعہ) احسان فرمایا ہے اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔

پس موسٰی (علیہ السلام) نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی اس انتظار میں (کہ اب کیا ہوگا؟) تو دفعتًہ وہی شخص جس نے آپ سے گزشتہ روز مدد طلب کی تھی آپ کو (دوبارہ) امداد کے لئے پکار رہا ہے تو موسٰی (علیہ السلام) نے اس سے کہا: بیشک تو صریح گمراہ ہے۔ سو جب انہوں نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن ہے تو وہ بول اٹھا: اے موسٰی! کیا تم مجھے (بھی) قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ تم صرف یہی چاہتے ہو کہ ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم یہ نہیں چاہتے کہ اصلاح کرنے والوں میں سے بنو۔۔اس بنی اسرائیلی شخص کے اس طرح بولنے سے اس واقعے کی فرعون اور اس کے اھل دربار کو اطلاع پہنچ گئی انھوں نے حضرت موسی سے اس عمل کے مکرر سرزد هونے کو اپنی شان سلطنت کے لئے ایک تہدید سمجھا ۔ وہ باھم مشورے کے لئے جمع هوئے اور حضرت موسی کے قتل کا حکم صادر کردیا ۔اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا: اے موسٰی! (قومِ فرعون کے) سردار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو قتل کردیں سو آپ (یہاں سے) نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں”سو موسٰی (علیہ السلام) وہاں سے خوف زدہ ہو کر (مددِ الٰہی کا) انتظار کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے،”عرض کیا: اے رب! مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرما۔”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پختہ ارادہ کرلیا کہ وہ شھرمدین کو چلے جائیں گے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔

اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اُس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو ایک مقدس عصا عطا فرمایا۔ جو حضرت آدم علیہ السلام جنت سے لائے تھے۔ جو مختلف انبیاء سے ہوتا ہوا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس موجود تھا۔پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ”طُویٰ” میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ عجیب آگ ہے۔ اس آگ کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام کو خوف ساپیدا ہوااور انہوں نے ارادہ کیا کہ واپس ہوجائیں جوں ہی وہ پلٹنے لگے آگ قریب آگئی اور قریب ہوگئی اور قریب ہوئے تو سنا کہ یہ آواز آر ہی ہے:”اے موسیٰ!میں ہوں اللہ پروردگار تمام جہانوں کا۔ “پس جب موسیٰ اس( آگ) کے قریب آئے تو پکارے گئے اے موسیٰ! میں ہوں تیرا پروردگار پس اپنی جوتی اتار دے تو طویٰ کی مقدس وادی میں کھڑا ہے اور دیکھ! میں نے تجھ کو اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے پس جو کچھ وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس روشنی کو آگ سمجھا تھا وہ آگ نہ تھی بلکہ تجلّیٔ الہٰی کا نور تھا ۔اُس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اُس کو اِ س طرح بیان فرمایا کہ”اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔”(۱)اس کو ہاتھ میں لے کر اُس کے سہارے چلنا (۲)اُ س سے بات چیت کر کے دل بہلانا (۳)دن میں اُس کا درخت بن کر آپ پر سایہ کرنا(۴)رات میں اس کی دونوں شاخوں کا روشن ہو کر آپ کو روشنی دینا (۵)اُس سے دشمنوں،

درندوں اور سانپوں، بچھوؤں کو مارنا (۶)کنوئیں سے پانی بھرنے کے وقت اس کا رسی بن جانا اور اُس کی دونوں شاخوں کا ڈول بن جانا (۷)بوقتِ ضرورت اُس کا درخت بن کر حسبِ خواہش پھل دینا(۸)اس کو زمین میں گاڑ دینے سے پانی نکل پڑنا وغیرہ اب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’موسیٰ ! اپنی اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔‘‘اور موسیٰ علیہ السلام نے اس ارشاد عالی کی تعمیل کی:’’موسیٰ نے لاٹھی کو زمین پر ڈال دیا پس ناگاہ وہ اژدہا بن کردوڑنے لگا۔‘‘حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ حیرت زدہ واقعہ دیکھا تو گھبراگئے اور بشریت کے تقاضہ سے متأثر ہو کر بھاگنے لگے، پیٹھ پھیر کر بھاگے ہی تھے کہ آواز آئی:( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) موسیٰ! اس کو پکڑ لو اور خوف نہ کھائو ہم اس کو اس کی اصل حالت پر لوٹادیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی دوشاخہ تھی اب وہی دوشاخہ اژدہے کا منہ نظر آرہا تھا سخت پریشان تھے مگر قربت الہٰی نے طمانیت وسکون کی حالت پیدا کردی اور انہوں نے بے خوف ہو کر اس کے منہ پر ہاتھ ڈال دیا اس عمل کے ساتھ ہی فوراً وہ دوشاخہ پھر لاٹھی بن گیا۔اب موسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ پکارا گیا اور حکم ہوا کہ اپنے ہاتھ کو گریبان کے اندر لیجا کر بغل سے مس کیجئے اور پھر دیکھئے وہ مرض سے پاک اور بے داغ چمکتا ہوا نکلے گا۔اور ملادے اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کے ساتھ نکل آئے گا وہ روشن بغیر کسی مرض کے( یعنی برص سے پاک) یہ دوسری نشانی ہے۔(طٰہٰ)تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرادیں’’پس تیرے پروردگار کی جانب سے فرعون اور اس کی جماعت کے مقابلہ میں تیرے لئے یہ دوبرہان ہیں بلاشبہ وہ فرعون اور اس کی جماعت نافرمان قوم ہیں۔

اب جاؤاور فرعون اور اس کی قوم کو راہ ہدایت دکھاؤ انہوں نے بہت سرکشی اور نافرمانی اختیار کررکھی ہے اور اپنے غرور و تکبر اور انتہاء ظلم کے ساتھ انہوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے سوان کو غلامی سے رستگاری دلاؤ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کیا:’’ پروردگار! میرے ہاتھ سے ایک مصری قتل ہو گیا تھا اس لئے یہ خوف ہے کہ کہیں وہ مجھ کو قتل نہ کردیں مجھے یہ بھی خیال ہے کہ وہ میری بڑی زور سے تکذیب کریں گے اور مجھ کو جھٹلائیں گے یہ منصب عالی جب تو نے عطا فرمایا ہے تو میرے سینہ کو فراغ اور نورسے معمور کردے اور اس اہم خدمت کو میرے لئے آسان بنادے اور زبان میں پڑی ہوئی گرہ کو کھول دے تا کہ لوگوں کو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو اور چونکہ میری گفتگو میں روانی نہیں ہے اور میری بہ نسبت میرابھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح بیان ہے اس لئے اس کو بھی اس نعمت(نبوت) سے نواز کر میراشریک کار بنادے۔‘‘’’اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطمینان دلایا کہ تم ہمارا پیغام لے کر ضرور جائو اور ان کو حق کی راہ دکھائو،وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے اور جو نشانات ہم نے تم کو بخشے ہیں وہ تمہاری کامیابی کا باعث ہوں گے اور انجام کار تم ہی غالب رہوگے ہم تمہاری درخواست منظور کرتے ہیں اور تمہارے بھائی ہارون علیہ السلام کو بھی تمہارا شریک کار بناتے ہیں دیکھو تم دونوں فرعون اور اس کی قوم کو جب ہماری صحیح راہ کی جانب بلائو تو اس پیغام حق میں نرمی اور شیریں کلامی سے پیش آنا کیا عجب ہے کہ وہ نصیحت قبول کرلیں اور خوف خدا کرتے ہوئے ظلم سے باز آجائیں۔‘‘

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام منصب نبوت سے سرفراز ہو کر کلام ربانی سے فیضیاب بن کر اور دعوت وتبلیغ حق میں کامیابی وکامرانی کا مژدہ پاکروادی مقدس سے اُترے تو اپنی بیوی کے پاس پہنچے جو وادی کے سامنے جنگل میں ان کی منتظر اور چشم براہ تھیں ان کو ساتھ لیا اور یہیں سے تعمیل حکم الہٰی کے لئے مصر میں داخل ہو کر اپنے مکان پہنچے مگر اندرداخل نہ ہوئے اور والدہ کے سامنے ایک مسافر کی حیثیت میں ظاہرہوئے یہ بنی اسرائیل میں مہماں نواز گھر تھا ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خوب خاطر مدارت کی گئی اسی دوران میں ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام آپہنچے یہاں پہنچنے سے قبل ہی ہارون علیہ السلام کو خدا کی طرف سے منصب رسالت عطا ہوچکا تھا اس لئے ان کو بذریعہ وحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سارا قصہ بتا دیا گیا تھا وہ بھائی سے آکرلپٹ گئے اور پھر ان کے اہل وعیال کو گھر کے اندر لے گئے اور والدہ کو سارا حال سنایا تب سب خاندان آپس میں گلے ملا اور بچھڑے ہوئے بھائیوں نے ایک دوسرے کی گذشتہ زندگی سے تعارف پیدا کیا اور والدہ کی دونوں آنکھوں نے ٹھنڈک حاصل کی۔ اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کچھ عرصہ بعد اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فرعون کے دربار کی طرف روانہ ہوئے۔ جب دونوں بھائی فرعون کے دربار میں جانے لگے تو والدہ نے غایت شفقت کی بنا پر روکنا چاہا کہ تم ایسے شخص کے پاس جانا چاہتے ہو جو صاحب تخت و تاج بھی ہے اور ظالم ومغرور بھی ،وہاں نہ جائو وہاں جانا بے سود ہوگامگر دونوں نے والدہ کو سمجھایا کہ خدائے تعالیٰ کا حکم ٹالا نہیں جا سکتا اور اس کا وعدہ ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔غرض دونوں بھائی اور خدا کے سچے پیغمبر و نبی فرعون کے دربارمیں پہنچے اور بغیر خوف و خطر اندرداخل ہوگئے

جب فرعون کے تخت کے قریب پہنچے تو حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام نے اپنے آنے کی وجہ بیان کی اور گفتگو شروع ہوئی ۔حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام فرعون کے دربارمیں پہنچے اور بغیر خوف و خطر اندرداخل ہوگئے جب فرعون کے تخت کے قریب پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آنے کی وجہ بیان کی اور گفتگو شروع ہوئی اور انہوں نے فرمایا:’’اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! میں جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہو اایلچی ہوں میرے لئے کسی طرح زیبا نہیں کہ اللہ پر حق اور سچ کے علاوہ کچھ اور کہوں بلاشبہ میں تمہارے لئے تمہارے پر وردگار کے پاس سے دلیل اور نشان لایا ہوں پس تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔‘‘فرعون نے جب یہ سنا تو کہنے لگا کہ’’ موسیٰ! آج تو پیغمبر بن کر میرے سامنے بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتاہے وہ دن بھول گیا جب تو نے میرے ہی گھر میں پرورش پائی اور بچپن کی زندگی گذاری اور کیاتو یہ بھی بھول گیا کہ تو نے ایک مصری کو قتل کیا اور یہاں سے بھاگ گیا، موسیٰ نے فرمایا فرعون ! صحیح ہے کہ میں نے تیرے گھر میں پرورش پائی اور ایک مدت تک شاہی محل میں رہا اور مجھے یہ بھی اعتراف ہے کہ غلطی کی بنا پر مجھ سے نادانستہ ایک شخص قتل ہو گیا اور میں اس خوف سے چلا گیا تھا لیکن یہ خدائے تعالیٰ کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام بیکسانہ مجبوریوں کی حالت میں تیرے ہی گھرانے میں میری پرورش کرائی اور پھر مجھ کو اپنی سب سے بڑی نعمت نبوت ورسالت سے سرفراز کیا۔‘

‘فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پرورش اور حسن سلوک کا جو احسان جتلایا تھا اسکا جواب دیتے ہوۓ انہوں نے فرمایا: ” مجھ پر تیرا کیا یہی وہ احسان ہے جسے تو جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟” یعنی تو نے مجھ ایک فرد پر جو احسان کیا ہے، کیا تو اپنے اس ظلم کے مقابلے میں اسکا ذکر کر سکتا ہے کہ تو نے ایک پوری قوم کو غلام بنا کر اپنی خدمت میں لگا رکھا ہے؟اللہ پاک نے سورۃ الشعراء کی مندرجہ ذیل آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا مکالمہ بیان کیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”فرعون نے کہا، رب العالمین کیا ہوتا ہے؟ موسیؑ نے فرمایا: وہ آسمانوں اور زمین اور انکے درمیان تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔ فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا: کیا تم سن نہیں رہے؟ موسیؑ نے فرمایا: وہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے۔ فرعون نے کہا: (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، یہ تو یقینا” دیوانہ ہے۔ موسیٰؑ نے فرمایا: وہی مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو۔” (الشعراء، ۲۳۔۲۸)فرعون اللہ پاک کے وجود کا انکار کرتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ (نعوذ باللہ ) وہ خود معبود ہے اس کے اس اعلان کا ذکر قرآنِ پاک میں کچھ یوں ہے۔ ” اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔” ( القصص، ۳۸) ایک اور جگہ ذکر ہوا : ” تم سب کا سب سے بلند و بالا رب میں ہی ہوں۔” (النازعات،۲۴) وہ یہ سب محض ہٹ دھرمی کی بنیاد میں کہہ رہا تھا حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ ایک بندہ ہے اور کسی اور کے سایہ ربوبیت میں ہے اور اللہ ہی خالق ہے اور سچا معبود ہے۔

لیکن وہ دلائل کے میدان میں شکست کھا چکا تھا اسے اسکے شبہات کا واضح جواب مل چکا تھا اور اب اسکے پاس عناد اور ضد کے سوا اللہ پاک کے وجود سے انکار کی کوئی وجہ نہ تھی اوراس نے اپنی بادشاہت، اقتدار اور اختیارات کا رعب ڈالنا چاہا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:” فرعون کہنے لگا: (سن لے!) اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر لوں گا۔ موسیٰؑ نے کہا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں تو بھی؟ فرعون نے کہا: اگر تُو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر۔ آپ نے اسی وقت اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی، جو اچانک زبردست اژدھا بن گئی اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وہ بھی اس وقت دیکھنے والوں کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا۔” ( الشعراء،۲۹۔۳۳)یہ دو معجزے ہیں جن سے اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد فرمائی، یعنی عصا اور ید بیضا۔ لیکن ان سب سے بھی فرعون کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ کفر پر اڑا رہا۔ اس نے ان معجزات کو جادو قرار دیا اور انکا مقابلہ جادو کے ذریعے سے کرنا چاہا۔ اس نے اپنے ملک کے ان تمام جادوگروں کو جمع کرنے کے لئے آدمی بھیج دئیے جو اسکی رعیت میں شامل تھے لیکن اسکے نتیجے میں حق کی حقانیت مزید پختہ ہو گئی۔فرعون نے ایک میلہ لگوایا۔ اور اپنی پوری سلطنت کے جادوگروں کو جمع کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دینے کے لئے مقابلہ پر لگا دیا۔ اور اس میلہ کے ازدحام میں جہاں لاکھوں انسانوں کا مجمع تھا، ایک طرف جادوگروں کا ہجوم اپنی جادوگری کا سامان لے کر جمع ہو گیا۔ اور اُن جادوگروں کی فوج کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا ڈٹ گئے۔

جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم کھا کر اپنے جادو کی لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکا تو ایک دم وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر پورے میدان میں ہر طرف پھنکاریں مار کر دوڑنے لگیں اور پورا مجمع خوف و ہراس میں بدحواس ہو کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا اور فرعون اور اس کے تمام جادوگر اس کرتب کو دکھا کر اپنی فتح کے گھمنڈ اور غرور کے نشہ میں بدمست ہو گئے اور جوشِ شادمانی سے تالیاں بجا بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرنے لگے کہ اتنے میں ناگہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اپنی مقدس لاٹھی کو اُن سانپوں کے ہجوم میں ڈال دیا تو یہ لاٹھی ایک بہت بڑا اور نہایت ہیبت ناک اژدہا بن کر جادوگروں کےتمام سانپوں کو نگل گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑے اور باآوازِ بلند یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ امَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَمُوْسٰی یعنی ہم سب حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے رب پر ایمان لائے۔چنانچہ قرآنِ مجد نے اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ”بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی اُن کی رسیاں اور لاٹھیاں اُن کے جادو کے زور سے اُن کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے اورڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور اُن کی بناوٹوں کو نگل جائے گا وہ جو بنا کر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے تو سب جادوگر سجدے میں گرالئے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔”(سورۃ،طہ65تا70)لیکن فرعون پھر بھی ایمان نہ لایا اور اپنے کفر پر اڑا رہا ۔ ایک روایت کے مطابق اس نے تمام جادوگروں سے کہا کہ مجھے رب مان لو نہیں تومیں تمہیں قتل کروادوں گا۔ لیکن تمام جادوگر اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے اور فرعون نے ان تمام جادوگروں کو آگ میں پھینک کر مار دیا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا تو جادوگر سجدے میں گر کر ایمان لائے۔ مگر فرعون اور اس کے متبعین نے اب بھی ایمان قبول نہیں کیا۔

بلکہ فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اَور زیادہ بڑھ گئی اور اس نے بنی اسرائیل کے مومنین اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دل آزاری اور ایذا رسانی میں بھرپور کوشش شروع کردی اور طرح طرح سے ستانا شروع کردیا۔ فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوند قدوس کے دربار میں اس طرح دعا مانگی ”اے میرے رب! فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ہے لہٰذا تو انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرمالے جو ان کے لئے سزا وار ہو۔ اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ہو۔”حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مدت دراز تک فرعون کو ہدایت فرماتے رہے اور آیات و معجزات دکھاتے رہے مگر اس نے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ اور زیادہ اس کی شرارت و سرکشی بڑھتی رہی۔ اور بنی اسرائیل نے چونکہ اس کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا اِس لئے اس نے اُن مومنین کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اِس دوران میں ایک دم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی اُتری کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر رات میں مصر سے ہجرت کرجائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات میں مصر سے روانہ ہو گئے۔جب فرعون کو پتا چلا تو وہ بھی اپنے لشکروں کو ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی گرفتاری کے لئے چل پڑا۔ جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو بنی اسرائیل فرعون کے خوف سے چیخ پڑے کہ اب تو ہم فرعون کے ہاتھوں گرفتار ہوجائیں گے ۔کیونکہ اُن کے پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر تھا اور آگے موجیں مارتا ہوا دریا تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مطمئن تھے اور بنی اسرائیل کو تسلی دے رہے تھے۔ جب دریا کے پاس پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ تم اپنی لاٹھی دریا پر ماردو۔ چنانچہ جونہی آپ نے دریا پر لاٹھی ماری تو فوراً ہی دریا میں بارہ راستےبن گئیں اور بنی اسرائیل ان رستوں پر چل کر ساتھ دریا سے پار نکل گئے۔

فرعون جب دریا کے قریب پہنچا اور اس نے دریا کے رستے کو دیکھا تو وہ بھی اپنے لشکروں کے ساتھ اُن سڑکوں پر چل پڑا۔ مگر جب فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اچانک دریا موجیں مارنے لگا اور سب راہیں ختم ہو گئیں اور فرعون اپنے لشکروں سمیت دریا میں غرق ہو گیا۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے اس طرح بیان فرمایا کہ “پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو اُنہوں نے آلیا موسیٰ نے فرمایا۔ یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہو گیا جیسے بڑا پہاڑ۔ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو پھر دوسروں کو ڈبو دیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور اُن میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ “( سورۃ الشعراء: 61تا 67)ڈوبتے وقت ایک مرتبہ فرعون نے کہا یعنی میں ایمان لایا۔ دوسری مرتبہ کہا یعنی اس اللہ کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے دوسرا کوئی خدا نہیں ہے اور تیسری بار یہ کہا کہ یعنی میں مسلمان ہوں۔ ( سورہ یونس:۹۰)فرعون کے غرق ہوجانے کے بعد بھی بنی اسرائیل پر اس کی ہیبت کا اس درجہ دبدبہ چھایا ہوا تھا کہ لوگوں کو فرعون کی موت میں شک و شبہ ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو خشکی پر پہنچا دیا اور دریا کی موجوں نے اس کی لاش کو ساحل پر ڈال دیا تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کی موت کا یقین بھی کرلیں اور اس کے انجام سے عبرت بھی حاصل کریں۔ دعا ہے اللہ رب العزت ہمیں بھی گزرے ہوئے واقعات سے عبرت حا صل کرنے اور تو بہ کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے ۔۔۔آمین ثمہ آمین السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔۔۔۔

Leave a Comment