اسلامک واقعات

فتح مکہ کے منا ظر

۔فتح مکہ کے منا ظر

فتح مکہ کے منا ظر

 

صلح حدیبیہ میں مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان یہ طے پایا تھا .کہ دونوں دس سال تک جنگ نہیں کریں گے جس فریق کے ساتھ ملنا چاہیے مل جائے قبیلہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف بن گیا جبکہ بنو بکر نے قریش مکہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا .

اسلامی لشکر

۔انہوں نےخانہ کعبہ میں پناہ لی ۔لیکن حرم میں داخل ہو کر بنو .خزاعہ کا خون بہایا .مکہ نے بنو بکر کا بھرپور ساتھ دیا
اسلامی لشکر کی مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 10 رمضان المبارک 8 ہجری کو مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے. تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے.وہ اپنے اہل و عیال کی طرف آرہے تھے۔ وہ مقام حجفہ میں رسول اکرم .صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق انہوں نے اپنے اہل و عیال کو مدینہ منورہ بھیج دیا.خود لشکر اسلام میں شامل ہوگئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا .اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری پڑاؤ مرالظہران میں تھا یہاں سے مکہ مکرمہ تھوڑے ہی فاصلے پر تھا .

روانگی کی اطلاع

آپﷺکے حکم سے تمام فوج نے الگ الگ جگہ آگ روشن کی۔ قریش کو لشکر اسلام کی روانگی کی اطلاع پہنچ چکی تھی .تحقیق کے ۔.لیے انہوں نے ابو سفیان بن حرب اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء کو بھیجا.نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمہ کی حفاظت پر جو دستہ متعین تھا
انہوں نے ابوسفیان وغیرہ کو دیکھ لیا . پکڑ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے .حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کو اسلام کی دعوت دی ابوسفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر لی اور ایمان لے آئے .

پہاڑ کی چوٹی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ابو سفیان کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر کھڑا کرو تاکہ اللہ تعالی کے لشکر کا نظارہ آنکھوں سے دیکھ لیں مسجد حرام میں داخل ہوے. اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے ساتھ مسجد حرام کے اندر تشریف لائے.; اسود کو چومنا اور اپنی اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا تو اسے خانہ کعبہ اور بیت اللہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کمان سے خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے تمام بت گرا دۓ.آپ بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور .

فتح مکہ کے منا ظر میں کہتے تھے حق آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے

Leave a Comment