اسلامک معلومات

غیراللہ سے استغاثہ کفر ہے

اللہ نے انکو بھی کافر قرار دیا ہے جو بتوں سے استغاثہ کرتے تھے اور انکو بھی جو اس غرض سے اولیاء و صلحاء سے رجوع کرتے تھے اور انہی لوگوں سے رسول اللہ نے قتال کیا اس پر اگر آج کا کلمہ گو مشرک اگر یہ کہے کہ کفار بتوں کی پوجا کرتے تھے اور ان سے مدد مانگتے تھے جبکہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ نفع نقصان کا مالک اور کائنات کا مدبر صرف اللہ ہے۔ ہم اسی سے مانگتے ہیں۔

لیکن ہم اس لئے انکی طرف رجوع کرتے ہیں کہ اللہ کے یہاں وہ ہماری سفارش کر دیں تو اس بات کا آپ انہیں جواب دیں کہ آپکی بات میں اور کفار کے قول میں کوئی فرق نہیں ہے اور اللہ کا فرمان ہے کہ الزمر 3 آگاہ ،دین خالص صرف اللہ کے لیے ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے حمایتی بنا رکھے ہیں، کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو خدا سے قریب کردیں۔بے شک اللہ ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا،حق کو نہ ماننے والا ہو۔ نیز مشرک کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے یونس 18

آجکے مشرک کے یہ بڑے شہبات ہیں جب آپ نے جان لیا کہ اللہ قرآن کے اندر بڑی وضاحت کے ساتھ ان شہبات کو بیان کرتاہے پھر آپنے ان شہبات کو اچھی طرح سمجھ لیا تو انکے علاوہ جو شہبات ہوں گے ان کا جواب کہیں زیادہ آسان ہو گا۔
انبیاء مشرکین سے کہتے تم انکی عبادت کیوں کرتے ہو تب کے مشرک بھی آج کے مشرک جیسا جواب دیتے کہ عبادت تو تب ھو جب ہم اللہ کو خالق مالک و رازق نہ مانیں۔

انبیاء انہيں سمجھاتے کہ اللہ کے سوا جسے پکارا جائے وھی غیراللہ ہے اور اس پکارنے والے کا آلہ و مقصود ہے۔ ایک اور شبہ سنیں وہ کہتے ہیں جن مشرکین کے بارے قرآن نازل ہوا لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتے تھے, رسول اللہ کی تکذیب کرتے تھے, آخرت کا انکار کرتے تھے, قرآن کو جھٹلاتے اور اسے جادو کہتے تھے لیکن ہم انکی گواہی دیتے ہیں ,,تو ھم انکے برابر کیوں قرار دیتے ہو؟ جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے جو شخص تمام باتوں میں رسول کی تقدیق کرے اور صرف ایک بات کو جھٹلا دے , وہ کافر ہے۔ اسی طرح جو شخص قرآن کے بعض حصہ پر ایمان لائے اور بعض کو جھٹلا دے تو وہ کافر ہے۔ جیسے کوئی شخص توحید کا اقرار کرے اور نماز کا انکار۔

یہ توحید اور نماز دونوں کا اقرار کرے مگر زکوٰۃ کا انکار یا ان سب فرائض کا اقرار کرے اور اور حج کا انکار , یا مذکورہ پانچوں فرائض کا اقرار کرے مگر یومِ آخرت کا انکار تو ایسا شخص بالا جماع کافر ہے۔ اسکی جان و مال مباح ہے۔ لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے۔

اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ میں ایک راہ نکالیں۔ 151۔ ایسے لوگ پکے منکرہیں اور ہم نے منکروںکے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ النساء 150,51اللہ نے جب پوری صراحت کے ساتھ یہ بیان فرما دیا کہ جو شخص بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کرے تو وہ پکا کافر ہے تو مشرکین کا پیش کردہ مذکورہ شبہ بھی ختم ہو جاتاہے۔ سب جانتے ہیں کہ توحید رسول اللہ کا لایا ہوا سب سے اہم فریضہ ہے اور اسکی حثیت نماز حج زکوٰۃ سے بھی بڑھ کر ہے تو یہ کیسے ہو سکتاہے کہ رسول کی لآئی ھوئی شریعت پر مکمل عمل کرنے کے باوجود کوئی شخص ایک بات کا انکار کر دے اور وہ مسلمان رہے۔

بنو خنیفہ کے لوگ رسول اللہ کے ہاتھ پر ایمان لائے۔ صحابہ نے انسے قتال کیا کیوں کہ وہ مسلیمہ کو نبی کہتے تھے تو انکا شہادت دینا اور نماز پڑھنا کچھ کام نہ آیا اور وہ کافر قرار پائے۔اسی طرح علیؓ نے جن لوگوں کو آگ میں جلایا اور سب کے سب اسلام کے دعویدار اور خود آپکے ساتھیوں میں سے تھے لیکن جب انہوں نے آپکے بارے میں الوھیت کا عقیدہ ظاہر کیا تو صحابہ نے متفقہ طور پر انہیں کافر قرار دے دیا.

Leave a Comment