اسلامک واقعات

غیبت کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

اگر کسی کی برائی کی جائے اور جس کی برائی کی جا رہی ہو وہ شخص موجود ہی نا اسے غیبت کہتے ہیں-غیبت کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے-ہم نے آج کل غیبت کو بہت عام کردیا ہے یہاں تک کے غیبت کے معانی تک بدلے ہوئے ہیں-کوئی کسی شخص کی برائی کر رہا ہو اور اسے بتایا جائے کہ اپ غیبت کر رہے ہو تو وہ بھڑک اٹھتا ہے

اور کہتا ہے میں تو صرف سچ بیان کر رہا ہوں-اگر ہم کسی کی غیبت کریں اور اگر کوئی ہمیں بتائے کہ ہم غیبت کررہے ہیں تو یہ بات ہم کو ناگوار گزرتی ہے کیونکہ ہمیں پتا ہوتا ہے غیبت کرنے کا سخت گناہ ہے-ہم غیبت اسی لیے کرتے ہیں تاکہ سامنے والے کو لگے کہ ہم اس کے حامی ہیں-اسے یہ نا لگے کہ ہم اس کی بات سے اختلاف رکھتے ہیں-رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب مجھے معراج کرائی گئی تو میرا گزر ایسے لوگوں میں سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے-میں نے پوچھا: جبرئیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ کہا:

یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے (سنن ابی داود، کتاب الادب :4878)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اور ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، اس کے ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کے پیچھے اس کی پاسبانی و نگرانی کرتا ہے-اس حدث سے پتا چلتا ہے مومن دوسرے مومن کے لیے سکون کا باعث ہے نا کہ تباہی کا-غیبت کسی بھی بندے کی ساکھ کو مسخ کر سکتی ہے-جب گناہوں کی پردہ پوشی خدا کرتا ہے تو بندوں کا حق نہیں ان گناہوں کو دوسروں کے سامنے کھولے-

ہم غیبت سے اس طرح بچ سکتے ہیں کہ جہاں کسی شخص کی برائی ہو رہی ہو ہم وہاں سے اٹھ کر چلیں جائیں-یا اس شخص کو بتائیں کہ وہ غلط بات کر رہا ہے-اگر ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ ہمارا اپنا تعلق اس انسان سے خراب ہو جائے گا تو اپ نرمی سے موضوع گفتگو بدل دیں-اس شخص کا دھیان کسی اور دلچسپ چیز پر لگا دیں-اگر اگلا بندہ غیبت کر رہا ہے اور آپ نہیں کر رہے لیکن آپ خاموش ہیں تو بھی آپ اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں-اسی لیے اس گناہ سے جلد از جلد جان چھڑانی چاہیے تاکہ ہم روز آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچ جائیں-

Leave a Comment