قصص الانبیا ء

غم نہ کرو میں تمھاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں

خدا جب نوازنے پہ آتا ہے تو وہ مانگنے والے کی اوقات نہیں اپنی وسعت کے مطابق نوازتا ہے۔

وہ خرا جو قرآن پاک میں ہم سے کہتا ہے کہ” غم نہ کرو میں تمھاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں”. سب ریکھ رہا ہوں، ہمیں تسلی دیتا ہے ہماری امید باندھتا ہے اور ہم جلد باز انسان، نا امیدی جیسے کفریہ کام میں لگ پڑتے ہیں۔

ایک بار زرا اپنے مانگنے کے طریقے پر نظر ثانی کر کے دیکھیے آیا کہ آپ کے مانگنے کا طریقہ کار درست بھی ہے؟ دعا ایک عبادت ہے کیا آپ اسے عبادت کی طرح سر انجام دیتے ہیں؟ کیا آپ خدا سے ضد باندھتے ہیں؟

 

الفاظ کی اصلاح

آپ جس سے مانگ رہے ہیں کیا اس کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں؟ کیا آپ اس نوازنے والے کو خوش رکھتے ہیں؟ اپنا محاسبہ کیجئے۔ اپنا ایمان درست کیجئے۔ اپنے عقائد کے ساتھ ساتھ اپنے منہ سے نکلنے والے الفاظ کی اصلاح کیجئے۔ اللہ رب العالمین سے مانگیے ہر طرح سے مانگیے لیکن محض اس ہی سے مانگیے۔

غم نہ کرو

تہجد کا راستہ اپنا کے تڑپ کے ساتھ مانگیے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضرور کہیے کہ ” اے اللہ رب العزت! تو بہترین جاننے اور کرنے والا ہے۔ تیرے ہر فیصلے میں مصلحت اور ہم کم عقلوں کے لیے خیر ہے۔ ہمیں اپنے ہر فیصلے پر بخوشی راضی ہونے کی توفیق عطا فرما-”
دعا کیجیے کوشس کیجئے اور بے فکر ہو جایے۔ وہ جو دو جہانوں کا پالنے والا اوپر بیٹھا ہے نا، گر منہ مانگی چیز نہ بھی دے تو اس سے دس گنا بہتر سے نوازتا ہیے۔ ❤

وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلا ً

Leave a Comment