اسلامک معلومات

غلط فہمی

اللہ نے اپنے نیک بندوں کو بھی کچھ اختیارات دے رکھے ہیں ازالہ پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ھاتھ میں ہے ؟ جو پناہ دیتاہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا۔ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ؟ یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ھے۔ کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دئیے جاتے ہو؟ المومنون ۸۸,۸۹۔۔۔ قرآن کریم کی صراحت سے یہ بات واضح ہے کہ مشرکینِ مکہ اللہ کی ربوبیت, اسکی خالقیت , مالکیت و رزاقیت کے منکر نہیں تھے۔

بلکہ یہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے۔ انہیں صرف توحید الوھیت سے انکار تھا یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا اسکی تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اور صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ بھی اللہ کے نیک بندے تھے۔ انکو بھی اللہ نے کچھ اختیارات دے رکھے ہیں اور ہم انکے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں یہی مغالطہ آج کے قبر پرست, مردہ پرست اہلِ بدعت کو ھے۔ جسکی بنیاد پر وہ فوت شدگان کو مدد کے لئے پکارتے ہیں ۔ انکے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں اور انکو اللہ کی عبادت میں شریک گردانتے ہیں۔

حالانکہ اللہ نے کہیں بھی نہیں فرمایا کہ میں نے کسی فوت شدہ بزرگ, ولی یا نبی کو اختیار دے رکھے ہیں , تم انکے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرو, انہیں مدد کے لئے پکارو یا انکے نام کی نذر نیاز دو۔ اسی لئے اللہ نے آگے فرمایا ہم نے انہیں حق پہنچا دیا یعنی یہ اچھی طرح واضح کر دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ اگر اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کر رہے ہیں تو اس لئے نہیں کہ انکے پاس اسکی کوئی دلیل ہے ‘ نہیں’ بلکہ محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بلکہ آباء پرستی کی وجہ سے اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

Leave a Comment