اسلامک واقعات

غزوہ بدر کا واقعہ

.غزوہ بدر کا واقعہ

غزوہ بدر کا واقعہ

.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار مکہ کے لشکر کی آمد کی خبر ہوئی .تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کا راستہ روکنے کے لئے بدر کی طرف روانہ ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 313 مجاہدین تھے.

جن میں اسی مہاجرین اور باقی انصار تھے. اسلامی لشکر کے پاس لڑنے کے لیے ہتھیار نہیں تھے .مسلمانوں کے پاس کل چھ تلواریں تھیں سواری کے لئے 70 اُونٹوں اور دو گھوڑے تھے. ان کے مقابلے میں کفار کا لشکر ایک ہزار افراد پر مشتمل تھا
ان کے پاس ایک سو گھوڑے اور سینکڑوں اونٹ تھے .

.کفار مسلمانوں کے لشکر بدر کے مقام پر آمنے سامنے ہوئے. لڑائی سے ایک رات پہلے اللہ تعالی نے موسلا دھار بارش برسائی. جس سے مجاہدین تازہ دم ہو گیا سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالی سے کامیابی کی دعائیں کرتے رہے. 17. رمضان المبارک 2 ہجری کو لڑائی کی ابتدا ہوئی کفار کے ظلم سے عتبہ اور شیبہ اور ولید بن عتبہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نکلے. مسلمانوں کی جانب سے حضرت علی حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث .رضی اللہ تعالی عنہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے .

کافروں کو قتل

 

جلد ہی ان تینوں کو کافروں کو قتل کر دیا .اس کے بعد عام شروع ہوگئی
مسلمانوں نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا بالآخر مسلمانوں کو کامیابی ملی .اس جنگ میں فرشتوں کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں کی غیبی مدد کی. ابو جہل جو کفار کے لشکر کی قیادت کر رہا تھا .وہ دونوں عمر مجاہد معاذ اور معوذ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا. اس لڑائی میں 17 افراد مارے گئے جن میں ان کے بڑے بڑے سردار بھی تھے .کفار کے ستر آدمی اس لڑائی میں مارے گئے جبکہ14 مسلمان شہید ہوئے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کابرتاؤ کیا ان میں سے بعض کو انسانیت اور ہمدردی کے طور پر چھوڑ دیا .

بچوں کو لکھنا پڑھنا

جو باقی بچے تھے ان کے متعلق یہ طے ہوا کہ وہ فدیہ دے کر آزادی حاصل کر لیں .وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں . آزادی حاصل کرنے کے نتائج غزوہ بدر حق و باطل کا معرکہ تھا .جس میں حق کو کامیابی ملی .باطل کا معرکہ غزوہ بدر میں کفار مکہ کا غرور خاک میں مل گیا . ان کے زوال کی ابتدا ہوئی نظر بدلنے کامیابی کے بعد اسلام تیزی سے پھیلنے لگا کر بدر میں مسلمانوں کو کامیابی اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے دھلائی .

مکمل بھروسہ

غزوہ بدر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے . اللہ پر مکمل بھروسہ کرنا چاہیے اور خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالی کا ایک ہی دین کا کام کریں. اللہ تعالی اپنے بندوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑتا. بلکہ ان کی مدد کرتا ہے. اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے. کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے

Leave a Comment