اسلامک معلومات

عورت کا تقدس

کچھ دن پہلے ایک گروپ میں پوسٹ پر شعر دیکھا اور اس پر مختلف کمنٹس
یہ عورت کا حوصلہ ہے تیری وحشت کے پانی کو
بدن کی سیپ میں رکھ کر اسے انساں بناتی ھے
اور اسی پوسٹ کے نیچے ایک صاحب کا کمنٹ تھا
جنت جو اس کے قدموں میں آتی ہے
مت بھول وہ مرد کی مہربانی ہے

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ عورت مرد کے وجود سے ہی دنیا میں آئ ۔ عورت پسلی سے نکلی اس لیے ٹیڑھا پن ہے ۔ بات شاید بجا ہو صاحبان علم کی نظر میں..
پر مجھ کم عقل کی نظر اس بات کو کسی اور اینگل سے دیکھتی ہے ۔ میں اسکا جواب ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ۔ یاد رہے کہ جواب آپکو اسی وقت ملنے شروع ہو جاتے ہیں جب غور و فکر اور جستجو بڑھ جائے تب اللہ پاک کائنات کی ایک ایک چیز کو کہتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ میرے لیے میری بنائ ہوئ تخلیق اور چیزوں کو جاننے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ وہ اپنے رب کو پہچان سکے ۔ جی تو بات عورت کی تخلیق کی چل رہی تھی کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر قادر ہے وہ جہاں فرشتوں کو حکم دے کے زمین کے ہر ہر جگہ سے مٹی منگوا کے مرد کی تخلیق کر سکتا ہے کیا وہ رب اسی مٹی سے عورت کی تخلیق نہیں کر سکتا تھاکیا …مرد کی پسلی سے عورت کو بنا کے اللہ نے مرد کو اپنی اس حکمت کا اشارہ دیا کہ میں نے عورت کی تخلیق فرشتوں کی لائ مٹی سے نھیں کی ۔
میں نے اسے تمھارے جسم کے حصے سے اس لیے نکالا کہ عورت کا تقدس اور پردہ قائم رہے ۔ فرشتوں کو بھی خبر نہ ہونے پائے کہ زمین کی لائ ہوئ کس مٹی سے عورت کی تخلیق ہوئ. یعنی عورت کے تقدس کی حد تو دیکھیں کہ فرشتوں سے بھی اسکی بناوٹ کا پردہ لازمی قرار دیا گیا ۔ اور پہلی عورت اسی مرد کی پسلی سے نکلی جس کی وہ منکوحہ کہلائ ۔

اب بات آتی پسلی کی کہ عورت پسلی سے ہی کیوں نکلی کیا ٹیڑھا پن وہاں سے ملا ؟ نہیں یہاں بھی حکمت سے خالی بات نہیں انسانی جسم میں دل اور بہت سے نازک پارٹس پسلی کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں یعنی پسلی ایک ڈھال ہے ان نازک پارٹس کے لیے ۔تو اللہ پاک نے عورت کو پسلی سے نکال کے یہ نہیں بتایا کہ عورت میں ٹیڑھا پن ہے بلکہ اس نے عورت کی پسلی سے تخلیق کر کے یہ بات سمجھا دی کہ عورت وقت پڑنے پہ ڈھال بھی بن سکتی ہے ۔ جتنا ہو سکے سب ہر بات کو مثبت پہلو تلاش کیا کریں منفی پہلو نکال کے اللہ کی بنائ تخلیق اور چیزوں کا مذاق نہ بنائیں

Leave a Comment