قصص الانبیا ء

علی کا راستہ حق ھے جس سے ھم وابستہ ھیں۔

علی کا راستہ حق ھے جس سے ھم وابستہ ھیں۔ یہ بات سب مانتے ھیں کہ علی کا راستہ حق ھے۔ چاھے وہ شیعہ ھوں یا مسلمان۔ اب دیکھتے ھیں کہ کون اِس راستے سے وابستہ ھیں۔ علی نے ابوبکر کی بیعت کی اور جب تک وہ زندہ رھے اُن کی امامت میں نمازیں پڑھتے رھے۔ یعنی اُن کا ابوبکر سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔ اگر اختلاف ھوتا تو علی کمزور نہیں تھے۔ بزدل نہیں بلکہ شیرِ خدا تھے۔ اسدالله تھے۔ وہ کُھل کر اختلاف کرتے۔ علی نے عمر کی بیعت کی تھی۔

اور عمر کی شھادت تک اُن کو بھی اپنا امام مانا۔ کوئی اختلاف نہیں کیا۔ علی نے عثمان کی بیعت کی۔ اُن کو بھی امام تسلیم کیا۔ کوئی اختلاف نہیں کیا۔ علی تینوں خلفاء راشدین کے وزیر اور مشیر رھے۔ اگر ابوبکر کے باغِ فدک کے فیصلے پر علی کا اختلاف ھوتا تو اپنی خلافت میں اُس فیصلے کو منسوخ کرتے۔ اگر عمر کے ساتھ اختلاف ھوتا تو اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح عمر سے نہ کرتے۔
یہی علی کا راستہ تھا جس پر وہ چلے۔ نہ ابوبکر، نہ عمر اور نہ ھی اُن کا عثمان سے اختلاف تھا۔ عمر کی مدینے سے غیر حاضری کے وقت علی قائمقام خلیفہ بھی رھے۔ علی جیسے بہادر باپ کے بہادر بیٹے نے یزید کو حق پر نہیں پایا تو ببانگ دھل مخالفت کی۔ سر کٹوایا لیکن سر نہیں جھکایا۔ اگر علی اپنے تینوں اماموں کو حق پر نا سمجھتے تو حسین کی طرح وہ بھی کھل کر مخالفت کرتے۔

تو جو علی کے اِن فیصلوں میں علی کے ساتھ نہیں۔ وہ علی کے راستے سے وابستہ نہیں۔

Leave a Comment