اسلامک معلومات

علامہ ابن خلدون کے جدید نظریات

علامہ ابن خلدون

علامہ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ کا پورا نام ابو زید ولی الدین عبدالرحمٰن تھا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے1332 میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ قرآن مجید کے حافظ تھے اللہ تعالی نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔تیونس الجیریا مراکش اور اہم درباری عہدوں پر فائز رہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شمار ۔اسلامی تاریخ کے نامور مفکرین میں ہوتا ہے

 

جدید نظریات

آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک نامور معروف فلسفی اور ماہر تعلیم اور ماہر عمرانیات مانے جاتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کی جدید نظریات پیش کیے جنہیں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ۔ آج تک ان کے افکار و نظریات سے استفادہ کیا جا رہا ہے ۔علامہ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ نے انسانی زندگی کے بارے میں کی بنیادی اصول بیان کیے ہیں جن کی بنا پر انہیں عمرانیات کا بانی قرار دیا جاتا ہے ۔

انہوں نے عمرانیات کے بنیادی اصولوں پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے ۔

کہ انسانی زندگی کے دو بنیادی اصول ہیں ۔مل جل کر زندگی گزارنا انسانی زندگی کا دفاع کرنا پہلے اصول میں انسانی معاشرے کی بنیاد محبت ہمدردی اور باہمی تعاون پر رکھی گئی ہے جبکہ دوسرے اصول میں انسانی زندگی کو پیش آنے والے ممکنہ مسائل اور خطرات سے بچانا ہے
۔علامہ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق میں درج بالا دو بنیادی اصولوں کارفرما نہیں ہوتے تو ترقی نہیں کرسکتے کیونکہ دونوں اصول انسانی فطرت کے انتہائی قریب ہے مل جل کر زندگی بسر کرنا ۔ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا ۔

انسانی فطرت ہے اسی طرح خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ان پر قابو پانا اور خود کو بچانا بھی انسان کی فطرت میں شامل ہے
۔علامہ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ کو تعلیم میں گہری دلچسپی تھی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تعلیم کو انسان کی فطری بنیادیں ضرورت قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جن کے تجسس اور جستجو انسان کی فطرت میں شامل ہیں ۔اس لئے تعلیم ایسی ہونی چاہیے۔

جس میں اس خصوصیت کو مزید ترقی ملے۔ انسان حقیقی علم تک پہنچ جائے تو اسے معرفت تک لے جائے ۔علامہ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ السلام کو دو شعبوں میں تقسیم کیا ہے فطری علوم اور تقلیدی علوم.

Leave a Comment