قصص الانبیا ء

عصر کی نماز کے بعد یہ الفاظ پڑھیں پھر آپ کی ہر حاجت پوری ہو گی…

عصر کی نماز

.عصر کی نماز کے بعد صرف یہ الفاظ پڑھیں. پھر اللہ سے جو بھی ما نگوگے مل کر رہے گا. دُعا سے پہلے کے وظائف درج ذیل وظائف نماز فرض کے بعد دعا سے پہلے پڑھنے کے لئے ہیں: 1. لَا اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَ يُمِيْتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَّا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo

 

برکات:

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وظیفہ کے کرنے والے کے گناہ اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں بخش دیئے جاتے ہیں۔ کونسا وظیفہ پڑھنے سے ہر مشکل حل ہوجائے گی؟ (مسلم، الصحيح، کتاب المساجد و مواضع الصلاة، باب استحباب الذکر بعد الصلاة، 1: 418، رقم: 597)

2. اس کے بعد سورۃ توبہ کی آیات 128.129 کی تلاوت کریں: بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْکُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَؤُفٌ رَّحِيْمٌo

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اﷲُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ط عَلَيْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِo 3. بعد ازاں یہ تسبیح کریں: سُبْحَانَ اﷲِ: 33 بار؛ اَلْحَمْدُِﷲِ: 33 بار؛ اَﷲُ اَکْبَرُ: 34 بار 4. درج ذیل تسبیح تین بار پڑھیں: سُبْحَانَ اﷲِ بِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اﷲِ الْعَظِيْمِ. پھر دعا کریں۔

5. دعا کے اِختتام پر یہآیات پڑھیں: سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَo وَ الْحَمْدُِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَo (الصّٰفت، 37: 180.182) دُعا کے بعد

 دعا کے بعد درج ذیل وظائف حسبِ فرصت و سہولت جاری رکھیں:. سورۃ الفاتحہ ایک بار . آیت الکرسی ایک بار. لَا اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ کم از کم سو (100) مرتبہ پڑھیں۔ ایک سو چھیاسٹھ (122) مرتبہ پڑھنا افضل ہے اور آخر میں مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ پڑھیں۔ اس وظیفہ سے صفائے قلب، قبولیت اور قربِ الٰہی نصیب ہو گا۔

9. استغفار تین بار اَسْتَغْفِرُ اﷲَ الْعَظِيْمَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُ الْقَيُوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِo حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یہ استغفار روزانہ سو (100) مرتبہ فرماتے تھے۔ یہ وظیفہ گناہوں کی بخشش، بلندی درجات، رزق میں وسعت، عطائے الٰہی میں اضافہ حصولِ برکات اور تنگی و مشکلات کے حل کا باعث ہے۔

Leave a Comment