اسلامک واقعات قصص الانبیا ء

عثمان بن ابی طلحہ کا واقعہ؟عثمان بن ابی طلحہ کون تھے ؟

فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم میں موجود تھے-اور بیت اللہ کے دروازے کو پکڑے کھڑے تھے-آپ نے اعلان کیا کہ جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے لے گا وہ محفوظ ہوگا-ابو سفیان جو اٹھارہ سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرتا رہا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرتا رہا آپ نے اس کے گھر کو امن کی جگہ بنا دیا-عثمان بن ابی طلحہ کے پاس بیت اللہ کی چابی ہوا کرتی تھی-

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دفعہ چابی مانگی تھی اور بیت اللہ کے اندر جانے کی اجازت مانگی لیکن عثمان بن ابی طلحہ نے انکار کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اس دن کیا ہوگا جب یہ چابی میرے پاس ہوگی؟ تو عثمان بن ابی طلحہ نے کہا کہ قریش وہ دن کبھی نہیں دیکھیں گے یہ چابی تمھارے پاس ہوگی-اس وقت عثمان بن ابی طلحہ مسلمان نہیں تھے-فتح مکہ کے بعد عثمان بن ابی طلحہ چھپ گئے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہہ سے کہا کہ ان کو ڈھونڈ کر لاو-جب حضرت علی رضی اللہ عنہہ ان کو پکڑ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو ان کی گردن جھک گئی-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیت اللہ کی چابی پکڑی ہوئی تھی-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن ابی طلحہ کو پکارا اور چابی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کیا ہے-لیکن وہ گردن جھکائے خاموش رہے-حضرت عباس رضی اللہ عنہہ نے کہا کہ کہ بیت اللہ کی چابی ان کو دے دیں-لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سے عثمان کو پکارا لیکن وہ پھر سے خاموش ہی رہے- پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہی چابی ہے جب تم نے کہا تھا کہ قریش وہ دن کبھی نا دیکھیں گے-

یہ لو یہ چابی تمھیں اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دے رہا ہے اور یہ قیامت تک تمھاری نسل میں رہے گی باہر نہیں جائے-اس وقت عثمان بن ابی طلحہ مسلمان نہیں تھے-اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھ لیا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور اعلی اخلاق کی وجہ سے بہت سے کفار ایمان لائے تھے-وہ عورت جو روز آپ پر کوڑا پھینکتی تھی آپ کی سخاوت کی وجہ سے ہی آپ پر ایمان لے آئی-ہمیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے سخاوت کو اپنانا ہے اور دوسروں کے لیے دل میں نفرت ختم کرنی ہے-

Leave a Comment