قصص الانبیا ء

عبداللہ بن امر بن عاص کا واقعہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں بیٹھے تھے-رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس دروازے سے جنتی آراہا ہے-اس دروازے سے ایک صحابی داخل ہوئے ہاتھ میں جوتے پکڑے تھے اور داڑھی گیلی تھی یعنی وہ وضو کر کے آئے تھے-دوسرے دن پھر سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس دروازے سے جنتی آرہا ہے-

یہ وہی صحابی تھے-پھر جب تیسرے دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی صحابی کو دیکھ کر کہا کہ اس دوازے سے جنتی آرہا ہے تو اس میں محفل میں بیٹھے عبداللہ بن امربن عاص کچھ سوچنے لگے- عبداللہ بن امر بہت زیادہ عبادت گزار تھے-راتوں کو جاگ جاگ کر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے-روزے رکھا کرتے تھے-اور ایک دن میں قرآن ختم کیا کرتے تھے-اپنا دن بھی عبادت میں گزارتے تھے-تو انہوں نے سوچا بھلاں یہ بابا جی کیا کرتے ہونگے کہ ان کو جنت کی بشارت ملی ہے-پھر وہ ایک دفعہ ان بزرگ صحابی کے پاس گئے ان کو کہا کہ ان کے ابا ان سے ناراض ہو گئے ہیں تو کیا وہ کچھ دن ان کے گھر رہ سکتے ہیں تو ان بزرگ صحابی نے اجازت دے دی-پھر عبداللہ بن امر ان بزرگ پر نظر رکھنے لگے-انہوں نے دیکھا کہ وہ بزرگ رات کو عیشاء پڑھ کر سو جاتے تھے-اور پھر فجر تک سوئے ہی رہتے تھے تہجد نہیں پڑھتے تھے-وہ بہت حیران ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک اور دن رکے گے-جب دوسرے دن بھی بزرگ عیشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے اور پھر فجر کے وقت اٹھے تو عبداللہ بن امر اور حیران ہوگئے یہاں تک تیسرے دن بھی ان بزرگ نے یہی کہا-

بلآخر حضرت عبداللہ بن امر کا صبر جواب دے گیا انہوں نے ان بزرگ کو سچائی بتائی اور کہا کہ انہوں نے تین دن مسلسل ان کے لیے جنت کی بشارت سنی ہے-آخر آپ ایسا کیا کرتے ہیں؟ بزرگ نے کہا کہ سب کچھ تمھارے سامنے ہی تھا-جب عبداللہ بن عاص واپس جانے لگے تو بہت الجھن کا شکار تھے-تو بزرگ نے ان کو واپس بلایا اور کہا کہ میرا یہ جو دل ہے نا اس میں کسی ایک شخص کے لیے بھی نفرت نہیں ہے میں کسی سے حسد نہیں کرتا-اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دل صاف رکھنے سے بھی جنت ملتی ہے-اپنے اندر حسد کو ختم کر دیں اور دوسروں کی خوشی میں خوش ہوں اور اپنے لیے دعا کریں-

Leave a Comment