اسلامک معلومات

-: صوفیاء اور مسئلہ تقدیر :-

کائنات میں جو تصرف ہو رہا ہے وہ اللہ کے اذلی علم کے تابع ھے اور اللہ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے وہ مستقل علم رکھتا ہے لیکن کسی کو کسی فعل پر مجبور نہیں کرتا۔پس انسان کو مجبور محض سمجھنا یہ بھی غلط ہے اور انسان کی حرکات کو اللہ کے علم کے تابع نہ سمجھنا یہ بھی غلط ہے۔ اگر ہم نیک کام کر رہے ہیں تو اس کی توفیق اور ھدایت شاملِ حال ہے اور اگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں تو اس میں بھی اسکا علم و مشیت موجود ہے .

اگرچہ اللہ کی طرف سے جبر موجود نہیں ہے اس کی بادشاہت میں کوئی کام اسکی اجازت کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے ؟ اللہ اگر چاھتا تو کافر کو کفر سے باز رکھتا لیکن اس کا نہ روکنا اسکی طرف سے آزمائش ہے اگر تیرا پروردگار چاھتا تو زمین میں رہنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ اللہ کی یاد سے تغافل برتنے والوں پر شیطان مسلط کر دیا جاتا ہے صوفیاء جب مسئلہ تقدیر کو سمجھنے سے قاصر رھے تو انہوں نے کھلے لفظوں میں اعلان کر دیا کہ کفار فجار کا فعل ناصرف یہ کہ اللہ کے ارادے کے موافق ھے بلکہ وہ اس پر راضی ہے ۔ بلکہ حلاج نے تو ابلیس اور فرعون کے متعلق بھی کہہ دیا تھا کہ وہ بھی اللہ کے ارادے کے تابع ہیں اور انکے فعل میں انکو دخل نہیں۔

اسی لئے تو ابلیس نے سجدہ نہ کیا اور فرعون ایمان نہ لایا البتہ اس نے اپنے آپ کو خدا قرار دیا اور پھر اس قول سے رجوع نہ کیا لہٰذا انکے افعال اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ صوفیاء جب قضا و قدر کی حقیقت معلوم نہ کر سکے تو اس قسم کے باطل فرسودات کے قائل ھو گئے۔ اور انکے عقائد میں یہ خیال مضبوط ھوتا چلا گیا کہ ہمارے علم و فہم کا اسناد کشف ہے اور ھمارے دلوں پر علمِ لدنی کا فیضان ھوتا ھے اور بلاواسطہ ہم وحی الٰہی سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔

Leave a Comment