قصص الانبیا ء

صرف ایک آیت پڑھیں جادو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں

صرف ایک آیت پڑھیں جادو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں

جادو کا توڑ

صرف ایک آیت پڑھیں جادو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ جادو کا توڑ کرنے سے پہلے اس چیز کی تصدیق ضرور کر لیں کہ آپ پر جادو کے اثرات ہیں بھی یا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے افراد پر جب ان کے گمنام دشمن یا حاسدین جادو ٹونہ کروا دیتے ہیں .’صرف ایک آیت پڑھیں جادو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں . کونسی آیت پڑھنے سے کبھی جادو نہیں ہوتا ارشاد باری ہے:’وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘،’’(یعنی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شرسے۔‘‘(الفلق۱۱۳:۴)

اس آیت سے یہ پتا چلتا ہے کہ جادو کرنا ایک شر ہے جس سے بچنے کے لیے ہمیں یہ کلمہ سکھایا گیا ہے۔ اور ارشاد باری ہے:’’ اور یہ (یہودی) ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو سلیمان کے عہد کومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے، … یہی(شیاطین) لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔‘‘(البقرہ۲: ۱۰۲ )

چنانچہ جادو یا کالا علم ایک حقیقت ہے، اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

عام شاہدے میں جو چیز آئی ہے ،وہ یہ ہے کہ جس شخص پر کالا جادو کر دیا جائے، وہ شدید توہمات میں گھر جاتا ہے، بعض صورتوں میں وہ سخت بیمار ہو جاتاہے اور اسے عام ےءلاج معالجے سے بھی کوئی شفا نہیں ہوتی۔

جادو وغیرہ کے لیے روحانی علاج کرانا درست ہے۔ البتہ، تعویذ گنڈے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ جانا ہے۔ ابو داؤد کی’’ کتاب الخاتم‘‘ میں ایک مفصل حدیث بیان ہوئی ہے .جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو مکروہ جانتے تھے .ان باتوں میں سے ایک تعویذ باندھنا بھی ہے۔

روحانی علاج

خود دین نے اس کے توڑ کے لیے جو روحانی علاج بتایا ہے. وہ معوذتین کا پڑھنا ہے۔ یہ دونوں سورتیں دراصل، جادو اور بعض دوسرے شرور سے خدا کی پناہ حاصل کرنے کی دعا ہیں۔

یہ اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھی جائیں تو ان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کسی روحانی عامل سے علاج کرانا چاہیں تو کرا سکتے ہیں .بس یہ دیکھ لیں کہ وہ کوئی شرکیہ عمل اختیار کرنے والا نہ ہو اور دھوکاباز نہ ہو۔ عملیات پر یقین رکھنے کے الفاظ درست نہیں ہیں، کیونکہ اس میں وہ سب کچھ بھی آ جاتا ہے. جو انسانوں کی ایجاد ہے۔ البتہ، اشیا اور کلمات کے خواص اور ان کی تاثیرات کا علم ایک حقیقت ہے۔

Leave a Comment