اسلامک معلومات

شہر مکہ مکرمہ کیسے وجود میں آیا؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور اپنے شیرخوار بچے حضرت اسمائیل کو ایک سنسان علاقے میں لے آئے تھے-ہر جگہ صحرا نظر آتا تھا-وہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں کی جا سکتی تھی اور نا ہی کوئی پھل اگایا جا سکتا تھا-

حضرت ابراہیم نے وہاں کھڑے ہو کر دعا کی تھی کہ “اے میرے رب اس شہر کو امان والا کر دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کو پوجنے سے بچا اے میرے رب بے شک بتوں نے بہت سے لوگ بہکائے ، تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ میرا ہے اور جس نے میرا کہنا نا مانا تو بے شک کو تو بخشنے والا مہربان ہے” حضرت ابراہیم کو اس وقت نہیں پتا تھا کہ وہاں ایک شہر آباد ہونے والا ہے لیکن پھر بھی انہوں نے یہ دعا کی-اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور وہاں ایک امن والا شہر یعنی مکہ مکرمہ آباد فرمایا-حضرت ابراہیم جن کو اللہ کا دوست کہا جاتا ہے انہوں نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بتوں کے شر سے پناہ مانگی-اور یہ کہا کہ جو ان کا ساتھ نہیں دے گیں تو پھر اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے-انہوں نے بدعا نہیں دی بلکہ دعا کی تھی-

ان کو شاید اندازہ تھا کہ ان کی نسل میں سے کچھ سرکش لوگ بھی آئے گے اسی لیے انہوں نے یہ دعا کی-اس جگہ کوئی پھل وغیرہ نہیں اگتا تھا تو انہوں نے یہ دعا بھی کی تھی ان کی غذا کا انتطام کر دیں-اور یہ بھی کہ لوگوں کو دل ان کی بیوی اور ان کے بچے کی طرف مائل کر دیں یعنی مدد کے لیے-کیونکہ وہ ان کو اکیلا چھوڑ کر جانے والے تھے-حضرت ابراہیم کے جانے کے بعد ان حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیاس لگنے لگی-حضرت ہاجرہ اپنی پیاس تو برداشت کر جاتیں لیکن اپنے بچے کی تکلیف ان سے نہیں دیکھی جا رہی تھی-انہوں نے اپنا لعاب بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے منہ میں ڈالا تھا-اور جب پیاس کی شدت میں اضافہ ہوا تو انہوں نے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر چکر لگائے جن کو آج صفا اور مروہ کہا جاتا ہے-

وہ پانی کی تلاش میں چکر لگاتیں رہیں اور وقفے وقفے سے بچے پر نظر ڈالتی-اسماعیل نے روتے ہوئے اپنی ایڑھی زمین پر رگڑی تو وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا-حضرت ہاجرہ نے اللہ کا شکر ادا کیا بچے کو پانی پلایا اور خود پیا پھر چشمے کے گرد پتھر لگائے اور کہا زم زم یعنی “رک جا ، ٹھہر جا” اور پھر پانی ٹھہر گیا-وہاں سے ایک خانہ بدوش قافلہ گزرا تھا انہوں نے حضرت ہاجرہ سے پانی پینے کی اجازت مانگی-اور پھر انہوں نے وہی ٹھکانہ بنالیا-اور اسی طرح کئی لوگ آتے گئے-اور پھر ایک پورا شہر آباد ہوا جسے آج ہم مکہ مکرمہ کہتے ہیں

Leave a Comment