معلومات عامہ

شکم پُری کیا ہے؟اس کی ممانعت کیوں آئی ہے؟

شکم پری کیا ہے

شکم پُری کیا ہے؟اس کی ممانعت کیوں آئی ہے؟

شکم پُری کیا ہے: شکم پری سے مراد پیٹ بھر کر کھانا ہے-حضرت علی رضی اللہ عنہہ کا قول ہے کہ:” شکم پری سے پرہیز رکھ کہ جو آدمی پیٹ بھر کر کھاتا ہے، وہ بہت سے امراض میں مبتلا ہوتا ہے اور پریشان خواب دیکھتا ہے”۔ اس قول سے ہمیں پتا چلتا ہے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے سے مختلف امراض لاحق ہوتے ہیں-اور یہ سائینسی اعتبار سے بھی درست ہو چکا ہے-اسی لیے ضرورت سے زیادہ 9نہیں کھانا چاہیے۔آپ کبھی غور کریں تو زیادہ کھانے کے بعد ہماری طبیعت بھی بےچین ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

منہ سے بدبو آنا

حضرت علرضی اللہ عنہہ کا ایک اور قول ہے کہ:
“زیادہ غذا کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے اور فضول خرچی انسانوں کو ہلاکت تک پہنچاتی ہے”۔جب کبھی ہم زیادہ کھا لیں تو منہ سے بدبو آنے لگتی ہے جو کہ آسانی سے جاتی بھی نہیں ہے۔کھانے پر بہت زیادہ پیسے لگانا بھی فضول خرچی میں آتا ہے-ہمارے گھروں میں کتنی ہی چیزیں کئی کئی دن تک فریج میں ہی پڑی رہ جاتی ہیں۔اور جب خراب ہو جاتی ہیں تو ہم ان کو پھینک دیتے ہیں۔یہ نا صرف فضول خرچی میں شمار ہوتا ہے بلکہ رزق کی بےادبی ہوتی ہے۔جس سے اللہ تعالی بھی ناراض ہوتے ہیں۔

جھوٹے اور پریشان خواب

حضرت علی رضی اللہ عنہہ کا قول ہے کہ:” جو شخص شکم پر ہو کر سوئے ۔ اسے جھوٹے اور پریشان خواب نظر آتے ہیں” تو شکم پر کا ایک یہ بھی نقصان ہے۔کچھ لوگ پریشان رہتے ہیں کہ ان کو برے خواب آتے ہیں۔تو ان کو ایک دفعہ یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں وہ شکم پری میں تو مبتلا نہیں-شکم پری سے ویسے بھی انسان موٹا ہو جاتا ہے۔ موٹے لوگ قدرے سست ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ سست ہونگے تو کوئی بھی کام وقت پر کرنے سے قاصر رہے گے۔اور اس سے آپ کا اپنا ہی نقصان ہے۔اسی لیے اللہ کی نعمتوں کی شکرگزاری کریں اور انہیں صحیح طرح استعمال کریں۔

Leave a Comment