اسلامک معلومات

سیرت طیبہ کی روشنی میں وعدے کی پابندی

سیرت طیبہ کی روشنی میں وعدے کی پابندی

 

سیرت طیبہ کی روشنی میں وعدے کی پابندی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ وعدوں کی پابندی کی ۔ اس کی گواہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے بھی دی.سیرت طیبہ کی روشنی میں وعدے کی پابندی کے بارے میں بیان ہے ۔ قیصر روم کے دربار میں ابوسفیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو سوالات کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم وعدہ پورا کرتے ہیں.
اس کے جواب میں ابو سفیان نے کہا ۔ آپ نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۔ہجرت مدینہ کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں امن کی خاطر یہودیوں اور دیگر قبائل سے ایک معاہدہ کیا ۔

میثاق مدینہ

جو تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے آپ نے اس معاہدے کی پوری پوری پابندی کی۔ لیکن یہودیوں نے اس کو توڑ ڈالا ۔ بالآخر رسوا ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والے کی کس حد تک پابندی کرتے تھے ۔حضرت حذیفہ بن رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مجھے جنگ جنگ بدر میں حاضر ہونے سے کسی بات نہیں روکا۔ سوائے اس کے کہ میں اور میرا باپ حسین باہر نکلے ہوئے ہیں نکلے ہوئے تھے ۔ ہمیں کفار مکہ نے گرفتار کرلیا۔ تو انہوں نے ہم سے وعدہ کیا ۔ مدینہ منورہ واپس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنگ نہ کریں ۔پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ۔

مدد مانگیں

تم دونوں آپس میں واپس چلے جاؤ ہم ان کے معاہدے کو پورا کریں گے ۔ اللہ تعالی سے ان کے خلاف مدد مانگیں گے ۔کسی طرح سے ہجری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو صلح حدیبیہ کے لاتا ہے
صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالی علیہ وآلہ تعالی عنہا زنجیروں میں جکڑ زخمی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور پناہی کی تھی۔ کہ کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا ابوجندل رضی اللہ عنہا کو اس عہد کی پاسداری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا ۔

صلح نامہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ نہ ہی مسلمانوں کو کرنے دیں ہمیشہ فارم کہ میں انہیں صلح نامہ حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے رہے اور فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔

معاشرے میں بہتری پیدا ہوتی ہے لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد بڑھتا ہے۔

۔

معاشرے میں بھروسے اور ایمانداری کی فضا قائم ہوتی ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہمیشہ وعدہ کی پابندی کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص وعدے کی پابندی نہیں کرتا ۔اس کے دین کا کوئی اعتبار نہیں

Leave a Comment