اسلامک معلومات اسلامک واقعات

سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہ

آپ کانام “برہ ” تھا بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یریہ رکھا۔ آپ کے والد حارث خاندانِ بنو مصطلق کے سردار تھے۔ آپ کا پہلا نکاح ان کے قبیلے ہی کے ایک شخص مصافحہ بن صفوان سے ہوا تھا ۔مصافحہ اور آپ کے والد دونوں سخت دشمنِ اسلام تھے۔ آپ کے والد حارث نے قریش کے اشارے پر مدینہ طیبہ پر حملہ کی تیاریاں شروع کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ حارث بن ابوضرار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے بہت سی فوج جمع کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریدہ رضی اللہ عنہ کو حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے واپس آ کر خبر کی تصدیق کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور جنگ کی تیاری کا حکم دیا چنانچہ پانچ ہجری کو مسلمانوں کی فوج مدینہ سے مراثی کی جانب روانہ ہوئی جو مدینہ سے نو منزل کی مسافت پر واقع ہے۔ مسلمان کی فوج نے اسی مقام پر قیام کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر سے قبل سیدنا زید بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر فرمایا اور ازواج مطہرات میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا۔ اسلامی لشکر نے تیز رفتاری کے ساتھ ایک اچانک ان پر حملہ کیا ۔وہ حملے کی تاب نہ لاسکے اور ان کے 11 مرد قتل ہوئے جبکہ باقی مرد عورتیں اور بچے گرفتار کر لئے گئے، مال اسباب لوٹ لیا گیا، دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں مال غنیمت میں ہاتھ آئیں چنانچہ انہی قیدیوں میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی برہ بھی تھی۔ بعد میں جن کا نام جویریہ رضی اللہ عنہ رکھا گیا ۔مال غنیمت کی تقسیم میں سیدہ جویریہ سیدنا ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں۔
جویریہ کے لیے بحیثیت ل لونڈی زندگی بسر کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مجھ سے مکاتبت کر لیں یعنی مجھ سے کچھ رقم لے کر چھوڑ دیں اور ثابت بن قیس نے نو اوکا سونے پر مکاتبت کر لی ۔ان کے پاس اتنا سونا نہیں تھا انہوں نے سوچا کہ لوگوں سے چندہ مانگ کر یہ رقم ادا کرلیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “کیا تمہیں اس سے بہتر چیز کی خواہش نہیں؟” انہوں نے کہا “وہ کیا چیز ہے “تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “تمہاری طرف سے میں روپیہ ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں”۔ تو سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہ راضی ہو گئیں۔

ادھر سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہ کے باپ حارث بن ابی ضرار کا شمار روسائے عرب میں ہوتا تھا ۔وہ اپنی بیٹی کی گرفتاری سے شدید متاثر ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ اس نے عرض کیا کہ” میں عرب کا ایک سرکردہ آدمی ہوں، میرا مقام و مرتبہ اور میری بیٹی کی عزت و آبرو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی کنیز بن کر رہ،ے میں اپنے قبیلے کا سردار ہوں آپ میری عزت کا احساس کرتے ہوئے میری بیٹی کو آزاد کر دیں” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “آپ اپنی بیٹی سے پوچھ لیں، میں معاملہ اس کی مرضی پر چھوڑتا ہوں” حارث نے جویریہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ تمہاری مرضی پر چھوڑ دیا ہے، اب جو تم کہو گی اسے کر لیا جائے گا لیکن اتنی بات یاد رکھو کہ ہمیں ذلیل اور رسوا نہ کرنا “اس پر سید جویر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ “میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دیتی ہوں”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو ان کی طرف سے مکاتبت کی رقم نو اوکیہ ادا کرکے شادی کرلی اور ہارث جو بیٹی کو چھڑانے کے لئے آیا تھا مسلمان ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کرکے اپنی زوجیت میں لے لیا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے بنی مصطلق کے قیدیوں کو آزاد کر دیا۔انہوں نے کہا اب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار ہیں ہم انہیں قید میں نہیں رکھ سکتے ۔اس طرح بنی مصطلق کے سو گھرانے آزاد ہوئے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں” میں نے جویریہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو اپنی قوم کی حق میں بابرکت نہیں دیکھا، جن کی وجہ سے ایک دن میں سو گھرانے آزاد ہوئے ہوں”۔

مستدرک حاکم اور ترمذی کی روایتوں میں ہے کہ” سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے تین رات پہلے خواب میں دیکھا کہ چاند یثرب سے چلا آرہا ہے اور وہ میری آغوش میں آگرا ہے،میں نے یہ بات لوگوں کو نہیں بتائی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے،جب ہم قیدی بنے تو مجھے اس خواب کی تعبیر نظر آنے لگی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد کر کے اپنی ازواج مطہرات میں شامل فرما لیا”۔

جب آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی۔ وفات کے وقت عمر 65 سال تھی اور آپ نے ربیع الاول 50 ہجری میں انتقال فرمایا، ایک روایت کے مطابق انتقال 56 ہجری میں ہوا۔ مروان نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔صرف چند احادیث کی راوی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر ہزاروں رحمتیں نازل ہوں۔

Leave a Comment