اسلامک وظائف

سورۃ الفاتحہ صبح پانچ بار پڑھنے کے فوائد

آج ہم آپ کو سورۃ الفاتحہ جو کہ قرآن حکیم کی سب سے پہلی سورۃ ہے اس کی فضیلت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔ سورۃ الفاتحہ کس موقع پر نازل ہوئی؟ سورۃ الفاتحہ کے فضائل کیا ہیں؟ اگر صبح کے وقت جب دن کا آغاز ہوتا ہے اس مختصر سی سورۃ کو چار بار پڑھا جائے تو دنیا و آخرت میں اس سے کیا ثواب حاصل ہوتا ہے اور سورۃ الفاتحہ کا وظیفہ کیا ہے؟

سورۃ الفاتحہ کی فضیلت سورۃ الفاتحہ مکی ہے، اس میں 7 آیتیں ہیں ۔سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ الفاتحہ کے معنی” آغاز اور ابتدا “کے ہیں ۔اسی لیے اس کو”الکتاب” کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اہم نام “الصلوۃ” بھی ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے اللہ نے فرمایا: “میں نے الصلوة (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے” ۔(صحیح مسلم) مراد سورہ فاتحہ ہے جس کا نصف حصہ اللہ کی حمد و ثناء اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔ اس حدیث میں سورہ فاتحہ کو “نماز” سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔شائخ نے لکھا ہے کہ اگر سورۃ الفاتحہ کو ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا جائے تو ہر بیماری سے شفا ہوتی ہے ۔اس سورہ کے 30 نام اور بھی مذکور ہوئے ہیں اور شاید قرآن حکیم کی یہی واحد سورہ ہے جو اتنے بہت سارے ناموں سے مشہور ہے۔ سورہ فاتحہ چونکہ اس سورہ سے قرآن حکیم کا افتتاح ہوتا ہے

اس لیے یہ سورہ فاتحہ کہلاتی ہے۔ اس کا پورا نام “فاتحہ الکتاب” یعنی کتاب کا افتتاح کرنے والی سورہ ہے اس سورہ کو افضل القرآن کا نام بھی دیا گیا ہے اور یہ نام اس کی عظمت و رفعت پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ احادیث میں بھی اس سورہ کے 30 نام اور بھی مذکور ہوئے ہیں اور شاید قرآن حکیم کی یہی واحد سورہ ہے جو اتنے بہت سارے ناموں سے مشہور ہے۔ اس کا ایک نام” ام القرآن ” بھی ہے۔ اسے ام القرآن اس لیے کہتے ہیں کہ یہ سورہ قرآن حکیم کے تمام مضامین کا نچوڑ ہے اور تمام روحانی عقائد کی بنیاد ہے۔ بعض علماءنے فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ متن ہے اور پورا قرآن اس متن کی شرح ہے۔ اس سورہ کو”سورہ الشفا” بھی کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورہ مختلف بیماریوں کیلئے وجہ شفا ثابت ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک مرتبہ کسی شخص کو سانپ نے کاٹ لیا۔ حضرت ابوسعید خدری نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔ تفسیر بیضاوی میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سورہ فاتحہ تمام جسمانی بیماریوں کیلئے شفاءہے۔ اس سورہ کا ایک نام “کافیہ” بھی ہے۔

یہ سورہ ایک مومن کیلئے ہر اعتبار سے کافی ہے۔ یہ سورہ دوسروں کی محتاجی سے روکتی ہے۔ ایک بار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر سورہ فاتحہ کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیں اور بقیہ تمام قرآن فاتحہ کے علاوہ ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھدیں تو سورہ فاتحہ کا وزن سات قرآنوں کے برابر ہوگا۔ (تفسیر بیضاوی‘ تفسیر عزیزی) اس سورہ کا ایک نام “کنز” بھی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ سورہ عرش الٰہی کے خصوصی خزانوں میں سے عطاءکی گئی ہے۔ صوفیاءسے منقول ہے کہ جو کچھ پہلی کتابوں میں تھا وہ سب کلام پاک میں موجود ہے اور جو کچھ قرآن حکیم میں ہے۔ اس کا خلاصہ سورہ فاتحہ میں ہے اور جو کچھ سورہ فاتحہ میں ہے اس کا خلاصہ بسم اللہ میں ہے۔ ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس جیسی سورہ نازل نہیں ہوئی نہ توریت میں نہ زبور میں نہ انجیل میں اور نہ بقیہ قرآن میں۔ (معارف القرآن) 1: مشائخ نے لکھا ہے کہ اگر سورہ فاتحہ کو ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا جائے تو ہر بیماری سے شفا ہوتی ہے۔

ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں ۔ ایک مرتبہ دوران سفر گاڑی میں ایک عورت پے درپے قے کرتی جارہی تھی جس کی وجہ سے تمام مسافر بیزار ہورہے تھے اسی دوران میں سورہ فاتحہ کا ورد کثرت سے کرتا رہا اور اس عورت کی طرف منہ کرکے پھونک ماری۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میں نے جیسے ہی پھونک ماری سورہ فاتحہ کی برکت سے اس عورت کو مکمل شفاءنصیب ہوئی۔اگر کسی کی کوئی ایسی جائز مراد جو پوری نہ ہوتی ہو تو ہر نماز کے بعد مسجد میں سر رکھ کر (خواتین گھر میں ) سورہ فاتحہ اس طریقے سے پڑھیں جب ” ایاک نعبد وایاک نستعین “پر پہنچے تو اس کا21 مرتبہ تکرار کرے پھر سورہ فاتحہ مکمل کرکے سجدہ سے سر اٹھائے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کیلئے دعا مانگے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی ہر جائز دلی مراد بہت جلد پوری کردیں گے۔2: اس سوره سے شفاء بھی ملتی ہےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایہ:”سورہ الفاتحہ ہر بیماری کی شفاء ہے “حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے ۔رات میں ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے،

ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکر انے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کراس پر دم کر دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ الفاتحہ منتر بھی ہے۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن) 3: اس کے مثل کوئی نہیں مفہوم حدیث :رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ الله نے ام القرآن۔ (سورہٴ فاتحہ)کی طرح کوئی سورة نہ تورات میں اتاری او رنہ انجیل میں اتاری اور وہ سبع المثانی ہے، جو میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہے۔4: ایک نور ہے جو صرف خاتم الانبیاء صلی الله علیہ وسلم کو دیا گیاحضرت ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے

کہ فرمایا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جبريل علیہ السلام نبي صلى الله عليه وسلم کے پاس بیٹهے تهے ، کہ اچانک آسمان کی طرف سے آواز سنی تو اپنا سر اٹهایا اور فرمایا کہ یہ آواز آسمان اس دروازه کے کهلنے کی وجہ سے ہے جو کبهی نہیں کهلا ، آج کهولا گیا ہے ، تو اس دروازه سے ایک فرشتہ نازل ہوا ، توجبريل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف نازل ہوا پہلے کبهی نازل نہیں ہوا مگر آج ہی نازل ہوا ہے ، فرشتہ نے سلام کیا اور فرمایا کہ خوشخبری ہو آپ کو دو نوروں کی جو آپ کو عطا کیے گئے آپ سے پہلے کسی نبی کو ایسے دو نور نہیں عطا کیئے گئے ، سورۃ الفاتحہ و البقرة کی آخری آیات ، آپ ان دونوں میں سے جس حرف کو پڑهیں گے ( یا ان دونوں کو پڑہیں گے ) وه آپ کو عطا کیا جائے گا (یعنی سورة الفاتحہ کا نور اور سورة البقرة کی آخری آیات کا نور)۔5: عرش کے نیچے ایک خزانے سے نازل هوئی ہےحضرت معقل بن يسار رضي الله عنه سے روایت ہے فرمایا کہ نبي صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : فاتحة الكتاب مجهے عرش کے نیچے ایک خزانے سے دی گئ ہے ، اور مفصل ( سورتیں یعنی سورة الحجرات سے آخرقرآن تک ، اصح قول کے مطابق ) اس سے زائد ہیں۔

(المستدرك على الصحيحين : كتاب فضائل القرآن)6: سوائے موت کے ہرچیز سے حفاظت کرتی ہے حضرت أنس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “جب تو اپنا پہلو بستر پر رکهے ، اور تو فاتحہ الكتاب اور قل ہو الله احد پڑھ لے ، تو سوائے موت کے ہرچیز سے محفوظ ہوجائے گا”۔

Leave a Comment