اسلامک وظائف

سورۃ اخلاص کے فضائل، سورۃ الاخلاص کے پڑھنے پر ثواب کتنا؟

سورۃ اخلاص کے فضائل، سورۃ الاخلاص کے پڑھنے پر ثواب، سورۃ اخلاص کا ایسا وظیفہ جس سے لڑکا یا لڑکی کی شادی یا نکاح میں رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے، سورۃ الاخلاص کا وظیفہ جس سے مال میں برکت ہوتی ہے، اگر آپ سورۃ الاخلاص کو روزانہ صبح کے وقت چلتے پھرتے صرف آٹھ مرتبہ اس کو پڑھ لیتے ہیں تو اس سے آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوگا دنیا میں بھی؟

سورۃ الاخلاص 4آیات 15 کلمات اور 47 حروف پر مشتمل ایک چھوٹی سی سورہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا تعارف کرانے کے لیے نازل ہوئی ۔سورۃ الاخلاص میں توحید باری تعالیٰ ٰ کو ہر قسم کے شرک سے پاک خالص کرکے بیان کیا گیا، اس لئے سورۃ اخلاص کہلائی۔ کہتے ہیں کہ سورۃ چھوٹی لیکن مطلب اورمعیت میں بہت وسیع ہے۔ اس کے مکی اور مدنی دونوں کی ہونے میں اختلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بیان کیجیے، جواب میں یہ سورۃ نازل کی گئی۔ اہل عرب کا یہ قاعدہ تھا کہ وہ جب کسی اجنبی کو ملتے تو پہلے اس سے اس کا حسب نسب پوچھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی علماء حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا

کہ ابوالقاسم اللہ نے ملائکہ کونور حجاب، آدم کو مٹی سڑے ہوئے گارے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھوئیں اور پانی کو جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیں وہ کس چیز سے بنا ہے؟ وہ سونے سے بنا ہے یا تانبے سے، لوہے سے یا چاندی سے ،کیا وہ کھاتا پیتا ہے اور کس سے اس نے وراثت پائی ہے، اس کے بعد اس کا وارث کون ہوگا؟ اس پر اللہ نے اس سورت کا نزول کیا ۔روایت کی بنا پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مکہ میں مدینہ میں مختلف لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ،ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ ملا کہ جواب میں ہر سوال کرنے والے کے سامنے اس سورت کو دوہرائے۔ قرآن پاک کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے اٹھنے والے ہر سوال کا نہ صرف واضع جواب دیا ہے بلکہ اس کو مکمل جامع اور ثبوت کے ساتھ محفوظ کر دیا تاکہ قیامت تک کوئی بھی متنازع سوال دشمنان اسلام کی طرف سے اٹھایا جائے

تو قرآن پاک سے بہترین جواب دیا جاسکے۔ قرآن پاک میں اللہ کی عظمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وہی اس کائنات کا رب ہے اور کسی دوسرے کی ربوبیت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، وہی مالک الملک ہے۔ سورۃ الاخلاص کی فضیلت اس سورت کی بہت ہی بڑی فضیلت ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر لوگوں کو بتایا کہ” یہ سورہ ایک تہائی قرآن پاک کے برابر ہے “۔(بحوالہ بخاری مسلم نسائی ابوداؤد ) حضرت عائشہؓ کی یہ روایت بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ و سلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر سردار بنا کر بھیجا اور اس پورے سفر کے دوران میں ان کا مستقل طریقہ یہ رہا کہ ہر نماز میں وہ قل ہو اللہ احد پر قرات ختم کرتے تھے۔ واپسی پر ان کے ساتھیوں نے حضور صلی اللہ و علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا۔

آپؐ نے فرمایا، ’ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں رحمٰن کی صفت بیان کی گئی ہے، اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔ حضور صلی اللہ و علیہ و سلم نے یہ بات سنی تو لوگوں سے فرمایا ” ان کو خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو محبوب رکھتا ہے”۔ سورۃ الاخلاص کی فضیلت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ یہ سورت طنزیہ اور نفی و اثبات کی جمع اقسام پر مشتمل ہے اسی لیے ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔” انصار میں ایک صاحب مسجد قباء میں نماز پڑھاتے تھے ان کا معمول تھا کہ وہ ہر رکعت میں پہلے سورۃ اخلاص پڑھتے پھر کوئی اور سورت کی تلاوت فرماتے ۔ لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ سورۃ الاخلاص پڑھنے کے بعد اسے نہ کافی سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ یہ دوسری سورت مبارک کی تلاوت کرتے ہیں یہ بات درست نہیں یا تو اس کو پڑھ لیں یا پھر اسے چھوڑ کر کسی اور سورت کی تلاوت کریں۔ انہوں نے بڑے تحمل سے الزام کو سنا

اور ملائمت سے فرمایا میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا تم کسی اور کو امام بنانا چاہو تو تمہیں آزادی ہے میں نماز پڑھاؤ ں گا تو ایسے ہی پڑھاؤں گا۔ لوگوں کو ان کی جگہ کسی اور کو امام بنانا منظور نہیں تھا آخر یہ معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا ماجرہ ہے کیوں ان لوگوں کی بات کو نہیں مانتے ہو؟ تمہارے ساتھی جو چاہتے ہیں اس کو قبول کر لو ۔انھوں نے جواب میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس سورت سے محبت ہے میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری اس محبت نے تمہیں جنت میں داخل کرا دیا” ۔ یہ واقعہ بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ اگر سوتے وقت یہ سورت پڑھی جائے تو انسان ہر شر سے محفوظ ہو جاتا ہے

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” تو سونے سے پہلے اگر سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص پڑھ لے تو موت کے سوا ہر چیز سے محفوظ ہو جاتا ہے”۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کے لیے تشریف لاتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر لیتے پھر سورۃ الاخلاص سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر ان پر دم کرتے اور اپنے سر اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے جہاں تک ممکن ہوتا پھیرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تین بار کرتے”۔ آپ نے فرمایا کہ” گھر میں داخل ہوتے ہوئے جس نے سورۃ الاخلاص کا ورد کیا اس کے گھر سے فقروفاقہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوا “۔ سورۃ الاخلاص کےچند وظائف آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کون سے مسئلے کے لئے کتنی بار سورۃ اخلاص پڑھ سکتے ہیں۔

سر درد کے علاج کے لیے کچھ لوگ سورۃالاخلاص کو سر درد کے لیے دم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کا طریقہ روایت میں کچھ اس طرح ملتا ہے کہ دم کرنے والا اور کروانے والا دونوں آمنے سامنے چوڑی مار کر بیٹھ جائیں اور پھر گیارہ بار سورۃ الاخلاص کو پڑھ کر مریض کی کنپٹیوں کو انگلی سے پکڑتے ہوئے آہستہ آہستہ دونوں بھنوؤں کے درمیان لاکر دم کرتے ہیں اور انگوٹھا کھینچ لیتے ہیں۔ اس طرح دن میں تین بار دم کرنے سے سر کا درد مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ بچوں کا فوت ہو جانا کچھ خواتین کے بچے اوائلِ عمل میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں ۔حمل کے پہلے مہینے دیسی اجوائن ایک پاؤ، کالی مرچ ایک پاؤ، شہد ایک پاؤ لے کر عروجِ ماہ میں سو بار سورۃ اخلاص پڑھ کر ان پر دم کیا جائے پھر روزانہ ایک چٹکی اجوائن اور تین کالی مرچ لے کر انگلی پر شہد لگا کر کھلاتے ہیں۔

کچھ لوگ الگ الگ بھی سو بار ان پر سورۃ الاخلاص کو پڑھتے ہیں تاکہ زیادہ اثر ہوجائے۔ کسی نیک اور معتبر بزرگ سے دم کروانا چاہیے نہ کہ خود کیا جائے۔ ڈراؤنے خواب کچھ لوگوں کو بہت برے خواب آتے ہیں۔ وہ شدید ڈر کے باعث دوبارہ سو نہیں سکتے۔ ان کو چاہئے کہ وہ با وضو نماز پڑھ کر بستر پر لیٹ جائیں پھر سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص دونوں پڑھیں انشاءاللہ ڈراؤنے خواب سے محفوظ رہیں گے۔ روزانہ آٹھ بار سورۃ اخلاص کا پڑھنا اگر آپ روزانہ آٹھ بار سورۃ الاخلاص کو پڑھتے ہیں تو اس سے دن میں ہر طرح کی پریشانی ختم ہو جاتی ہے ،ہر طرح کی حاجات اللہ پاک پوری فرما دیتے ہیں۔میاں بیوی میں محبت : سورۃ الاخلاص 41 بار پڑھی جائے اور اس کے اول تا آخر درود پاک کو پڑھا جائے اور شیرینی پر دم کرکے ناراض میاں بیوی کو کھلائی جائے تو دونوں میں باہمی محبت بڑھے گی ۔

یہ عمل نکاح میں بندے میاں بیوی کے لئے ہے۔ اس مختصر سی سورہ میں اللہ پاک نے کتنی زیادہ فضیلت رکھی ہے۔ اب ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو روزانہ پڑھنے کی عادت بنا لیں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں سنور سکے۔

Leave a Comment