اسلامک معلومات

سلطنتیں بنتی ہیں اور بکھرتی ہیں لیکن عظیم درویشوں اور صوفیا کرام کے مزارات پر اب بھی زائرین حاضری دیتے ہیں…قسط نمبر 1

امیر خسرو – عظیم درویشوں اور صوفیا کرام اور ان کے پیروکاروں کے مزارات پر اب بھی زائرین حاضری دیتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں.
بادشاہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں․․․․․سلطنتیں بنتی ہیں اور بکھرتی ہیں․․․․․لیکن عظیم درویشوں اور صوفیا کرام اور ان کے پیروکاروں کے مزارات پر اب بھی زائرین حاضری دیتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ان کی عالمگیر محبت․․․․․قوت برداشت․․․․․اتحاد․․․․․ عاجزی و انکساری اور بھائی چارے سے لوگ اب بھی تحریک پاتے ہیں۔
ہندوستان کی تاریخ ان عظیم مرد و خواتین کے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی اور لوگوں کی سوچ کو ایک نئی سمت عطا کی اور ان کو متحد کیا اور ایک معاشرے کے رنگ میں رنگ دیا۔امیر خسرو کا نام بھی ایسے ہی لوگوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ہندوستان کا نامور ترین شاعر جس نے دہلی کے کئی ایک شہنشاہوں کے تحت خدمات سر انجام دیں اور 99شاعرانہ کام سر انجام دیئے․․․․․ امر حسن یاسین الدین خسرہ امیر محمد سیف الدین شمس کے بیٹے تھے جو لاچی(Lachi) قبیلے کے ترک تھے۔
وہ بلخ سے ہندوستان آئے تھے اور اتر پردیش کے پٹیالہ ضلع میں مقیم ہوئے تھے جہاں پر 1253بعد از مسیح میں انہوں نے جنم لیا تھا (651الہجری)خسرہ ترکوں کی فیملی سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے سلطان شمس الدین التتمش 607تا634الہجری(1210تا1236بعد از مسیح)کے دور میں ہندوستان کی جانب ہجرت کی تھی۔ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت ان مسلم روایات کے تحت سر انجام دی گئی تھی جو ان دنوں مروج تھیں․․․․․13ویں صدی عیسویں میں مروج تھیں۔
وہ عظیم محب وطن تھے اور انڈیا سے بے حد محبت کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ!
”حب الوطنی نصف ایمان ہے(پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک)“
اور حب الوطنی مذہب کا ایک لازمی جزو ہے۔
غیاث الدین تغلق نے خسرو کی سر پرستی سر انجام دی اور انہیں امیر کا رتبہ عطا کیا اور شاعر نے ان کی عنایت کا ذکر”تغلق نامہ“ میں کیا ہے۔

حضرت نظام الدین اولیا ء کے روحانی دور کے دوران صوفی سلسلے نے نشوونما اور ترقی پائی۔اسلام کے ایک اعتدال پسند ترجمان ہونے کی حیثیت سے انہوں نے دربار کے ساتھ وابستہ علماء کے اسلام کے بارے میں نظریات کی اصلاح سر انجام دی ۔اس سلسلے کی اعتدال پسندی کی جھلک نہ صرف غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رویے سے جھلکتی تھی بلکہ ان کی ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی سے بھی جھلکتی تھی۔
موسیقی اور رقص(دھمال)کے ذریعے صوفیا کرام صوفیانہ مسرت متعارف کرواتے تھے۔حانقاہیں شاعروں اور موسیقاروں کے لئے کشش کا باعث تھیں۔درحقیقت اس دور کی تمام تر ادبی سر گرمیاں چشتیہ نظریے سے متاثر تھیں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی اپنے خراج تحسین میں فرماتے ہیں کہ:۔
”امیر خسرو شاعروں کے سلطان اور علم و فضیلت کے ثبوت ہیں۔کلام کی وادی میں وہ دنیا میں بے مثال ہیں اور بنی نوع انسان کی روح ہیں۔
گزشتہ چھ صدیوں کے دوران اس قدر جامع اہلیت کے حامل کسی شاعر نے جنم نہ لیا تھا۔حتیٰ کہ فارس کی زرخیز سر زمین نے بھی ایسے محض تین یا چار شاعروں کو جنم دیا ہے“
خسرو افغانستان․․․․․․ایران․․․․․․وسطی ایشیا اور ہندوستان برصغیر کے لوگوں کے درمیان رابطے کی ایک علامت ہیں․․․․․ہندوستان میں وہ دو نمایاں اور ممتاز ثقافتوں کے ملاپ کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی موسیقی کو سنوارتے ہوئے․․․․․گانے اور آلات موسیقی میں اور ایسی ایجادات جیسے قوالی․․․․قوال․․․․ترانہ․․․․․․اور ستار وغیرہ․․․․․ان کی فارسی کی غزلیں ہنوز ترکسان میں یاد کی جاتی ہیں اور گائی جاتی ہیں اس کے علاوہ ایران اور ہندوستانی برصغیر میں بھی گائی جاتی ہیں جبکہ ان کی ہنداوی،ہندوستانی شاعری ہندوستانی وراثت کا حصہ بن چکی ہے۔
اسے مرد ․․․․․․عورتیں ․․․․اور بچے تمام تر شمالی حصے میں گاتے ہیں ان کی شاعری نے ہندوستان کے عظیم روحانی رہنماؤں کی سوچوں اور کاموں کو متاثر کیا تھا مثلاً گرونانک،کبیر،وارث علی شاہ وغیرہ وغیرہ جنہوں نے جواب میں ہندوستان کی نسلوں کو متاثر کیا اور مختلف اعتقادات کے حامل لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب تر کیا۔لہٰذا خسرو اور ہندوستانی برصغیر کی گوناں گوں ثقافتوں کے درمیان ایک رابطہ بنے کیونکہ وہ ہندوستان کے مذہب اور ثقافت سے محبت کرتے تھے۔
ان کی فلسفہ سیکولر نوعیت کا حامل تھا۔لوری جسے امیر خسرو نے کمپوز کیا تھا․․․․وہ ہر گھر میں گائی جاتی ہے خواہ یہ ہندو کا گھر ہو․․․․․یا مسلمان کا گھر ہو․․․․․․․یا بدھ مت کے پیروکار کا گھر ہو۔
امیر خسرو ہندوستانی موسیقی کی بے حد تعریف کرتے تھے اور برملایہ اعلان کرتے تھے کہ کسی بھی ملک کی موسیقی ہندوستانی موسیقی سے بڑھ کر نہ تھی۔
وہ ہندوستان کے ساتھ والہانہ محبت کرتے تھے۔لہٰذا ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ ہندوستانی موسیقی کو نظر انداز کریں گی۔
امیر خسرو ہندوؤں کی علمی استعداد کی بے حد تعریف کرتے تھے۔اس دوران انہوں نے یہ وکالت سر انجام دی کہ ہندوستان میں چھپی ہوئی دانشواری اور عالم فاضل آئیڈیاز کی کوئی کمی نہ تھی۔
”یونانی فلسفے کے میدان میں اپنی کامیابی کے لئے مشہور تھے،لیکن ہندوستان بھی کسی سے پیچھے ہر گز نہ تھا۔یہاں ہندوستان میں منطق․․․․ علم فلکیات․․․․․․اور دیگر علوم کا مطالعہ با آسانی سر انجام دیا جا سکتا ہے۔بے شک ہندو فلسفہ قانون نہیں جانتے لیکن ان کا فزکس․․․․․ریاضی اور علم فلکیات کے میدانوں میں علم قابل تعریف ہے۔“

Leave a Comment