اسلامک معلومات

سلطنتیں بنتی ہیں اور بکھرتی ہیں لیکن عظیم درویشوں اور صوفیا کرام کے مزارات پر اب بھی زائرین حاضری دیتے ہیں…قسط نمبر 2

امیر خسرو قسط 2 – ہندو ازم کے کچھ پہلو امیر خسرو کے دل و دماغ پر اثر پذیر ہوتے ہیں ان کے ہم مذہب (مسلمان)خدا کی واحدانیت پر یقین رکھتے تھے.
ہندسوں (Number) کی سائنس جو عربی میں ”ہندسہ“ کہلاتی ہے اس نے بھی یہاں ہندوستان میں جنم لیا تھا۔صفر (Zero) کا علم پہلے پہل ہندوؤں کو ہوا تھا۔صفر (Zero) کے بغیر ریاضی کی کوئی بھی شاخ مکمل نہیں ہو سکتی۔لفظ ”ہندسہ“ بذات خود دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ”ہند“ یعنی ہندوستان اور ”سہ“ جواس برہمن کا نام ہے جس نے ہندسے (Digits) متعارف کروائے تھے۔

”یونانیوں نے بھی یہ سائنس ہندوؤں سے سیکھی تھی۔علم کی عظیم کتاب یعنی خالیلا (Khalila) اور ڈمنا (Dimna) ہندوستان میں کمپوز کی گئی تھی اور اس کا ترجمہ عربی․․․․․ترکی․․․․․․اور فارسی وغیرہ میں کیا گیا تھا۔شطرنج کا کھیل بھی ہندوستان میں ایجاد ہوا تھا․․․․ہندوستانیوں سے بہتر شطرنج کا کھیل کوئی نہیں کھیل سکتا۔
اس ملک کی موسیقی دنیا بھر میں ناقابل شکست ہے․․․․منطق․․․․․علم فلکیات․․․․․ریاضی اور طبی سائنسوں کے میدان میں ہندوستانی مفکرین بہت آگے ہیں۔

یہاں پر عالم فاضل برہمن پائے جاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے علم سے بہت کم استفادہ حاصل کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر ممالک میں بہت کم جانے جاتے ہیں۔
روحانی سائنسوں کے میدان میں․․․․․․ہندو صحیح راستے سے بھٹک چکے ہیں لیکن ماسوائے مسلمان دیگر مذاہب کے لوگ بھی ان ہی کی مانند راستے سے بھٹک چکے ہیں اگر چہ وہ ہمارے مذہب (اسلام) کی پیروی نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود ان کے مذہب کے کئی ایک اصول ہمارے مذہبی اصولوں کی مانند ہیں وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ اس نظریے کے حامل ہیں کہ خدا مفقود الوجودی سے کوئی بھی چیز تخلیق کرنے پر قادر ہے (یعنی)صفر (Zero)
ہندو ازم کے کچھ پہلو امیر خسرو کے دل و دماغ پر اثر پذیر ہوتے ہیں ان کے ہم مذہب (مسلمان)خدا کی واحدانیت پر یقین رکھتے تھے لہٰذا انہوں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی یہ ثابت کرتے ہوئے کہ ہندوستان بھی ایک خدا پر یقین رکھتے تھے اگرچہ وہ ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرتے لیکن ان کے بہت سے اعتقادات ان کے مذہبی آئیڈیاز کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے وہ بھی اس نظریے کے حامل تھے کہ خدا ایک ہے وہ ازلی اور ابدی ہے۔
وہ خالق ہے․․․․․وہ قادر مطلق ہے وہ زندگی عطا کرنے والا ہے اور پالن ہار ہے۔
امیر خسرو ہندو ازم کا اسلام کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن دیگر مذاہب کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہوئے وہ اسے دیگر مذاہب سے بہتر تصور کرتے تھے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ امیر خسرو کے روحانی رہنما حضرت نظام الدین اولیاء تھے اور ان کی وفات کے بعد انہیں ان کے قریب ہی غیاث پور (اب حضرت نظام الدین) میں دفن کیا گیا تھا۔
خسرو نے حضرت نظام الدین اولیاء کی وفات کے عین چھ ماہ بعد وفات پائی تھی۔
خسرو اس دور میں حیات تھے جو دور ہندوستان میں عدم برداشت اور عدم رو اداری اور ہلچل کا دور تھا اور حضرت نظام الدین اولیاء اور امیر خسرو دونوں نے محبت اور انسانیت اور بھائی چارے کا درس دیا دونوں اعلیٰ درجے کے صوفی بزرگ تھے دیگر عظیم شاعروں کی مانند․․․․․․خسرو نے بھی”خمسہ“ تحریر کیا تھا جس میں 18,000اشعار تھے اور ان کے ہم وطنوں نے اس تعریف سر انجام دی تھی․․․․․”عشقیہ“پر ان کا کام(محبت کا عنوان)شہزادہ خضری خان اور دیول دیوی کی محبت کا قصہ بیان کرتا ہے۔
دیول دیوی گجرات کے بادشاہ کی بیٹی تھی اور بالآخر دونوں کی شادی ہو گئی تھی۔ان کی نظموں میں سے درج ذیل بے حد توقیر کے قابل ہیں۔
تحفتہ الثقلین (Tuhfat-ul-Saqlain)
شفاعت الحیات (Shaft-ut-Hayat)
گھرت الکمال (Ghurat-ul-Kamal)
باگیا ناگیا (Bagia Nagia)
ہشت بہشت (Hasht Bihisht)
اسکندر نامہ (Sikandar Nama)
رسال نصر (Risale Nasr)
درج ذیل امیر خسرو کا پرجوش بے ساختہ اظہار ہے․․․․․ان کے دل کی تازگی لئے ہوئے۔

میں قبرستان چلا آیا اور دوستوں کی غیر حاضری پر
شدید رویا جواب عدم وجود کے اسیر ہیں
وہ کہاں ہیں؟میں نے اداسی اور غم سے کہا․․․․․․
میرے دل کے وہ عزیز ترین دوست؟“
جب قبر سے ایک نرم آواز نے دہرایا
”وہ کہاں ہیں!“
ان کی زندگی کے آخری برس طمانیت اور خوشی سے بھرپور تھے کیونکہ شہزادہ غیاث الدین تغلق تخت نشین ہو چکا تھا جس کی تعریف انہوں نے اپنے تغلق نامے میں سر انجام دی تھی۔

Leave a Comment