اسلامک معلومات

سردی کے موسم کو عبادات کی ادائیگی آسان ہونے کی وجہ سے بہار کا موسم قرار دیا

عبادات کی ادائیگی

خود نبی کریمﷺنے مسلمانوں کے لیےسردی کے موسم کو عبادات کی ادائیگی آسان ہونے کی وجہ سے بہار کا موسم قرار دیا ہے .جیسا کہ المسند للامام احمد کی حدیث میں ہے
سردی ہویا گرمی موسمی تغیرات سے قطع نظر ہم اللہ کےبندے ہیں. اس کے حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں.لیکن سردی ،سردی ہےکہ اللہ پاک کی رحمت سے .سردی کے موسم میں بعض عبادات کی انجام دہی بہت آسان ہوجاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :

سردی کا موسم عبادت کرنے والے کے لیے غنیمت ہے۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الزھد ،کلام عمر بن الخطاب ،رقم:۳۴۴۶۸،ج:۸،ص:۱۵۱)

سردی کا موسم

بلکہ خود نبی کریمﷺنے مسلمانوں کے لیےسردی کے موسم کو عبادات کی ادائیگی آسان ہونے کی وجہ سے بہار کا موسم قرار دیا ہے. جیسا کہ المسند للامام احمد کی حدیث میں ہے ،( المسند للامام احمد مسند ابی سعید الخدری،رقم:۱۱۷۱۶،ج:۱۸،ص:۲۴۵)
بلکہ ایک دوسری حدیث میں اس کی رسول اللہ ﷺ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان کے لیے سردی بہار کا موسم ہے،اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ روزہ رکھتا ہے . راتیں لمبی ہوتی ہیں جس میں وہ قیام کرتا ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی، رقم:۸۴۵۶،ج:۴،ص:۴۸۹)

گرمی میں روزہ رکھنا

اسی عنوان کے تناظر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل ملاحظہ کریں.حضرت ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ گرمی کے موسم میں روزہ رکھا کرتے تھے. سردی میں روزے نہیں رکھتے تھے ۔(کنزالعمال، رقم:۳۵۶۸۶،ج:۶،ص:۲۳۶)گرمی میں روزہ رکھنا چونکہ نفس پر شاق ہوتا ہے اور بمطابقِ حدیث:افضل عمل وہ ہے جس میں مشقت زیادہ ہو ۔
اور گرمی میں روزہ رکھنے میں زیادہ مشقت ہوتی ہے. اس لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خصوصیت کے ساتھ گرمی میں روزے رکھا کرتے تھے.سردی کے روزوں کے بارے میں تو خود نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا:سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔(سنن الترمذی ،رقم:۷۹۷،ج:۳،ص:۱۵۳)

روزے رکھو

جب سردی آتی تو حضرت عبید بن عمیررضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے :اے اہلِ قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے رات لمبی ہو گئی اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹے ہو گئے پس تم (موسمِ سرما کو )غنیمت جانو !)مصنف ابن ابی شیبۃ، رقم:۹۷۴۳،ج:۲،ص:۳۴۴)

قرآن کی تلاوت

ایک دوسری روایت میں ہے :جب سردی آتی تو حضرتِ سیِّدُنا عبید بن عمیررضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے :اے اہلِ قرآن! تمہاری تلاوت کےلئے تمہاری رات طویل ہوگئی ہے تو تم قرآن کی تلاوت کرو!اورتمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹا ہوگیاتو روزے رکھو!(لطائف المعارف ،ص:۳۲۷)
سردی کی آمد مرحبا!حضرتِ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:سردی کی آمد مرحبا!اس میں برکت نازل ہوتی ہے رات قیام کے لیے لمبی ہو جاتی ہے اور دن روزہ رکھنے کے لیے چھوٹا ہو جاتا ہے ۔
(لطائف المعارف:المجلس الثالث فی ذکر فصل الشتاء،ص:۳۲۷)
اللہ پاک! ہمیں بھی عبادت کے اس موسم میں شب کو طویل قیام کرنے اور دن میں باکثرت روزے رکھنے کی توفیق عطا فر مائے!

Leave a Comment