اسلامک وظائف

سترحاجتیں پوری ہونے کیلیے قرآنی وظیفہ

سترحاجتیں پوری

سترحاجتیں پوری ہونے کیلیے قرآنی وظیفہ

سترحاجتیں پوری ہونے کیلیے قرآنی وظیفہ۔ دوستو۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہی سے اپنی تمام تر حاجات اور ساری ضروریات(خواہ ان کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے) مانگناہی ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے۔

رب العزت ہی حاجت روا اور مشکل کشا ہی.

اللہ کے علاوہ نہ تو کوئی حاجت روا ہے اور نہ ہی مُشکل کشا۔ صرف وہی ذات ہمیں فائدہ پہنچا سکتی اور نقصان سے بچا سکتی ہے۔ ہم سب اس کے مملوک اور وہ ذات ہم سب کی مالک ہے۔

 سب اس کے در کے فقیر اور محتاج ہیں.

وہ غنی اور وہاب ذات ہے.

ہم مانگنے والے اور وہ دینے والا ہے۔ ال غرض ہم بندے ہیں اور وہ آقا ہے۔ اس کریم ذات کا محض اتنا کرم ہی کافی ہے .

وہ ہم جیسے نالائق، غیر مستحق بل کہ قابلِ سزا و عتاب لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نواز رہا ہے.

لیکن یہاں تک معاملہ صرف کرم کا ہے.

اب اْس کرم کی انتہا تو دیکھیے کہ جو اس سے دعا نہ مانگے.  وہ ذات اس سے ناراض ہوجاتی ہے۔ایک حدیث پاک میں ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.

دنیا کے بالکل برعکس

مفہوم : ’’ جو شخص اللہ سے (دعا) نہیں مانگتا تو اس پر اللہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
یہ دستورِ دنیا کے بالکل برعکس ہے.

کیوں کہ دنیا والوں سے مانگو تو ناراض اور نہ مانگو تو خوش ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود اگر ہم اس ذات سے اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کی دعا نہ مانگیں.

سترحاجتیں پوری ہونے کیلیے : ضروریات کے حل

بتائیے ہم سے زیادہ بے عقل اور کون ہوگا ؟ اس لیے ہمیں اپنی ضروریات کے حل کے لیے دعا کی اہمیت کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

یوں تو مسلمان کے لیے صرف اتنی بات ہی کافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مملوک اور بندہ ہے.

اس لیے اسے اللہ سے اپنی حاجات اور ضروریات کو مانگنا چاہیے۔ مزید یہ کہ اگر غور کیا جائے تو کئی وجوہات ایسی ہیں کہ جن کا بھی تقاضا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے دعا مانگنی چاہیے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ بے رحم سے کچھ نہیں مانگا جاتا، رحم کرنے والے سے ہی مانگا جاتا ہے۔

اللہ رب العزت کی ذات تو صرف رحم کرنے والی ہی نہیں، بل کہ بے حد رحم کرنے والی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ دعا صرف اسی سے مانگی جائے جو بے حد رحم کرنے والا ہے۔
قرآن کریم میں ہے، مفہوم: اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 20)
جس ذات سے مانگنا ہے اس کے لیے قدرت والا ہونا بھی ضروری ہے.

اگر اس کی قدرت ہی نہ ہو تو دعائیں کیسے قبول ہو سکتی ہیں.

وہ مرادیں کیسے پوری کرے گا ؟ اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دعا اس سے کی جائے .

جس کو ہر کام کی مکمل قدرت ہو اور وہ ذات سوائے اللہ رب العزت کے اور کسی کی نہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو فرماتے ہیں، مفہوم :۔

سترحاجتیں پوری ہونے کیلیے : دوسرے کا محتاج ہو

ظاہر سی بات ہے کہ جو خود کسی دوسرے کا محتاج ہو اس سے کیا مانگنا ؟ مانگنا تو اس ذات سے چاہیے.

جو تمام خزانوں کا مالک ہو اور کسی کا محتاج نہ ۔اسلیے اللہ رب العزت کبھی انسان کو خوشی سے نواز دیتے ہیں.

انسان اللہ رب العزت کا شکر ادا کر یں اورکبھی غم دے دیتے ہیں کہ انسان اس غم پر صبر کر ے .

اس صبر کر نے پر اللہ رب العزت اس کے درجات کو بلند فر ما ئے ۔اسلیے انسان کو چا ہیے کہ وہ کبھی بھی اللہ رب العزت سے شکوہ شکا یت نہ کر ے

بلکہ ہر حا ل میں اللہ رب العزت سے ہی ما نگتا رہے اور اپنی تما م حا جا ت کو اللہ رب العزت کے سامنے ہی رکھے۔۔۔
اس وظیفے کی تعلیم ہمیں قرآن کر یم نے خود فر ما ئی ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں اس قرآنی وظیفے کو اہتما م کے ساتھ پڑ ھنے کی تو فیق عطا فر ما ئے اور ہما ری دنیا وی وآخروی مسا ئل کوحل فر ما ئے۔۔۔۔۔آمین ۔۔۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ

Leave a Comment