قصص الانبیا ء

سب سے بڑا دشمن کون؟

سب سے بڑا دشمن کون؟

سب سے بڑا دشمن کون؟

سب سے بڑا دشمن کون؟ : غصہ ایک سخت دشمن
حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: “غصہ ایک شخت دشمن ہے۔پس تم اسے اپنے نفس پر قدرت نا دو” حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے غصے کو ایک سخت دشمن قرار دیا ہے۔غصے میں ہم بہت سے لوگوں کا دل دکھا دیتے ہیں۔اور غصے کے وقت منہ سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں جن پر ہم بعد میں پچھتاتے رہتے ہیں۔غصہ میں انسان جسمانی نقصان بھی کر بیٹھتا ہے۔اسی لیے یہ ہمارا دشمن ہے جس کے خلاف ہمیں خود لڑنا ہے۔

نفس:
نفس انسان کا بڑا دشمن ہے۔یہ انسان کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور خالق حقیقی سے بھی دور کر دیتا ہے۔نفس ہمیں ان چیزوں پہ اکساتا ہے جو اللہ تعالی کو ناپسند ہوتی ہیں۔ہم اپنے نفس کے ہاتھوں بہت بڑے گناہ کر جاتے ہیں۔لیکن بعد میں ہم الزام شیطان پر لگاتے ہیں۔لیکن شیطان صرف اکساتا ہے باقی وہ برا کام ہم خود کرتے ہیں۔اگر ہم اسی وقت رک جائیں اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کر لیں۔تو وہ برا خیال دل سے خود ہی جاتا رہے گا۔نفس سے لڑنے کو جہاد کہا گیا ہے۔

خواہشات
انسان خواہشات کرتے کبھی نہیں تھکتا۔ایک پوری ہوتی ہے تو دوسری آجاتی ہے۔خواہش کرنا کوئی بری چیز نہیں ہے۔لیکن کسی خواہش کو سر پہ ہی چڑھا لینا اور زندگی کا مقصد بنا لینا یہ غلط ہے۔بہت سے لوگ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے برے کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔اور وہ ایسے برے کاموں میں پڑتے جن سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔انسان کو خواہشات کا غلام نہیں بننا چاہیے۔یہ دنیا کی رنگینیاں یہی رہ جانی ہے۔ہر چیز فنا ہو جانی ہے۔ہمیں اپنے اصل کو یاد رکھنا یے۔اور اپنے مقصد کو یاد رکھنا ہے۔

لالچ و حوس

لالچ و حوس انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتے-انسان مستقل پریشان رہتا ہے۔اور اسے کہیں سے سکون نہیں ملتا۔وہ گناہوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور اسے پتا بھی نہیں چلتا۔لالچ جتنی کی جائے اتنی بڑھتی جاتی ہے اسی لیے اللہ سے اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔اور اپنے اچھے کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔

Leave a Comment