قصص الانبیا ء

زندہ انسان اور مردہ انسان میں فرق

زندہ انسان کے سارے جسمانی اعضإ کام کرتے ہیں وہ سن اور بول اور چل پھر سکتا ہے۔ جبکہ مردہ انسان کے تمام اعضإ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔وہ نہ سن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔▪️زندہ انسان باشعور اور ہوش و حواس میں رہتا ہے جبکہ مردہ انسان کے اندر کوٸ شعور باقی نہیں رہتا۔

▪️زندہ انسان ہر بات کا احساس رکھتا ہے جبکہ مردہ انسان احساس سے خالی ہوتا ہے۔▪️زندہ انسان اپنے رب کی شکرگزاری کے ساتھ دنیا کی ہر چیز سے لطف اندوز ہوتا ہے جبکہ مردہ انسان کو ملنے والے یہ مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔▪️زندہ انسان کو نیند سے جگایا اور جھنجھوڑا جاسکتا ہے جبکہ مردہ انسان کو کتنا ہی اٹھاٶ وہ کبھی بیدار نہیں ہوسکتا۔▪️زندہ انسان اپنی منزل کو پانے کے لیے دنیا میں بھاگ دوڑ کرسکتا ہے جبکہ مردہ انسان کی بھاگ دوڑ اور کوششوں کا دروازہ اس کی موت کے ساتھ ہی بند ہو جاتا ہے۔

▪️زندہ انسان پڑھ سکتا ہے سیکھ سکتا ہے عمل کرسکتا ہے جبکہ مردہ انسان اب اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا اس کی موت کے ساتھ اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔سواۓ صدقہ جاریہ کے۔▪️زندہ انسان دوسروں کا محتاج نہیں ہوتا سواۓ کچھ مجبوریوں کی بنإ پر جبکہ مردہ انسان موت کے وقت دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔

▪️زندہ انسان خوش بھی ہوتا ہے اور غمگین بھی جبکہ مردہ انسان اگر جنتی ہوتا ہے تو ہمیشہ ملنے والی خوشی اس کو بتادی جاتی ہے اور اگر جہنمی ہوتا ہے تو ہمیشہ ملنے والا غم اور عذاب اس کا مقدر بن جاتا ہے۔▪️زندہ انسان کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جبکہ مردہ انسان کے حالات یکایک بدل جاتے ہیں اور یا تو ہمیشہ کی خوشحالی پاتا ہے یا بدحالی اس کا نصیب۔▪️زندہ انسان کے لیے وقت اور مہلت ہوتی ہے جبکہ مردہ انسان کی مہلت اس کی موت کے ساتھ ختم شد۔

▪️زندہ انسان دوسروں کے کام آسکتا ہے خیر خواہی کرسکتاہے اللہ کے دین کا پیغام دوسروں تک پہچانے میں اپنی ہر صلاحیت کا استعمال کرسکتا ہے جبکہ مردہ انسان اس میں سے جو اپنی زندگی میں کر گیا وہی اس کے بعد بھی اس کو فاٸدہ دیگا ورنہ تو اس کے ہاتھ ہونگے خالی۔

▪️زندہ انسان ڈوبتے انسانوں کو بچا سکتے ہیں جبکہ مردہ انسان تو خود سکرات الموت اور غمرات الموت کے عالم میں روانگی موت کا مسافر ہوتا ہے وہ تو بس اب اپنے رب کے فیصلوں کا محتاج ہوتا ہے وہ کیا کسی کو بچا سکتا ہے۔آہ !! زندہ انسان اپنے اور دوسروں کے لیے دعا کرسکتا ہے جبکہ مردہ انسان تو خود دوسروں کی دعاٶں کا محتاج ہوتا ہے۔تو اے گوشت پوشت رکھنے والے انسانوں ! ہوش میں آجاٶ اپنے دلوں کو مردہ ہونے سے بچالو ۔زندہ لوگوں میں شمار ہونے والوں میں شامل ہوجاٶ ورنہ تم کل کس نام سے پکارے جاٶگے اس بات کو تم جلد ہی جان جاٶگے۔

حاسبو قبل ان تحاسبو اللہ ہم کو سچی ناموری عطا فرماۓ۔اور اور ہمارے دلوں کو غفلت سے بچاۓ۔ہم سے راضی ہوجا۔اے ہمارے رب آپ سراسر سلامتی ہیں ہمیں سلامت دل عطا فرماٸیے۔ آمین۔

Leave a Comment