اسلامک معلومات

زندگی ”کن” پر “فیکون” کی پکار ہے.

زندگی خوبصورت ہے لیکن گمان یہ گزرتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر رنگینیوں ، کمال گایوں، جمال و حسن کے باوجود ادھوری رہ گئی ہے، زندگی نے رخ موڑا لیکن چلتی سانسوں کی نوید کو ممتاز اور دلپزیر رعنائیوں نے دم توڑتی شہنائیوں کی جانب دھکیل دیا، زندگی تو موجود تھی لیکن کہیں راستے میں کچھ کھو گیا تھا، بہت کچھ کھو کر بھی بہت کچھ باقی تھا، اور سب کچھ ہونے پر بھی ہر شے نامکمل تھی،

لرزہ خیز وبا کے خوف میں لپٹے اندیشے جیتی زندگی کو اپنے حصار میں لینے کو کافی تھے، رونق جان اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے روئے زمین سے تا حد نگاہ تنہائی کی کالی راتوں نے دن میں بھی ڈیرے ڈال کر سناٹوں کو اپنا لیا تھا، انسان ، انسان کا محافظ تھا، اب اسکے درپردہ حقائق کی سچائی کو منفی کر کے خود کو تسلی دینے میں مصروف تھا.کچھ رہ گیا تھا؟ کچھ ہونا باقی تھا یا سب کچھ ہو گزرا؟ زمین سے آسمان تک وحشتوں، حسرتوں ، امنگوں کے سائے منڈلا رہے تھے، کوئی ایک نوید، کہیں سے کوئی ایک ہوا کا ایسا جھونکا آئے جو خاموش کھیت کو لہلہاتے باغ میں بدل دے، اس سب میں وہ ایک اکیلا ، تنہا ہر شے سے واقف تھا، سب کچھ دیکھ رہا تھا ، لیکن خاموش تھا!

زندگی کہاں سے چلی اور کہاں آ کر رک گئی، اگر زندگی چلتی ہے تو انسان کیوں رک جاتا ہے. وہ اس بھیڑ میں کہاں گم ہو جاتا ہے، وہ کہاں سے چلتا ہے اور کہاں پہنچ جاتا ہے. کونسا سفر ہے جو آگے نکل جاتا ہے اور انسان وہیں رہ جاتا ہے. خوف کو مسلط کیے وہ خود سے بیگانہ، اپنے آپ سے یارانہ توڑ لیتا ہے.اور اب حال یہ تھا کہ در و بام خالی، راہ سے رہ گزر خالی ، سفر سے منزل خالی ، ہاتھ سے ہاتھ جدا ہو گیا،

سر راہ سے سب کو فرار ملا تو تو چار دیواری کے اندر مقید انسان کو لگا کہ خود سے ملنے کا وقت آ گیا ہے. تو کیا انسان پہلے خود سے کبھی نہ ملا تھا، کیا وہ خود سے نا واقف تھا، غور کے سب حربے دم توڑ چکے تھے؟ یوں لگا کہ سب تھم سا گیا ہے، اور احساس ہوتا ہے کہ کائنات کے تلاطم میں زیر لب کی گئی سرگوشی اور پکار کی داد رسی ہو چکی ہے. وہ خاموش و پر سکوں خالق کی یاد میں تنہا کچھ وقت گزارنے کو تیار ہو گئی ہے.زندگی کہاں ہے؟ زندگی اگر اندر ہے تو پھر باہر کیا ہے. کیا رنگوں کی رنگینی ، ہر قید میں بند ہو کر بھی آزاد رہتی ہے؟ کیا گل کو دید کی بھیک نہ ملے، خوشبو بلا جواز، بلا تعریف لوٹ آئے تو وہ اپنی صبا کھو بیٹھتی ہے؟

خالق نے تخلیقق کے ہنر سے ہر رنگ کو مزین کیا اور یوں کہ آنکھ کے لئے نظارہ پیدا کیا. سانس کے لئے لمحہ اور کائنات کے لئے توازن پیدا کر کے انسان کو بانی راہ بنا دیا، لیکن اس میں کیا آدمی قید تھا؟ اگر وہ قید ہے تو رہائی کس کو ملی؟
عالم برزخ سے اس دنیا اور اگلی دنیا کا فاصلہ تو مقرر کرنے والا جانتا ہے، یہ دنیا عالم رنگینی، عالم شباب، عالم ترنگ اور عالم متحد میں بھی عالم تنہائی میں نہیں ہے؟

سب اکٹھے ہیں لیکن وابستہ ہو کر بھی پیوست نہیں. شاخ سے شاخ الجھ چکی ہے. پرندے منڈیروں، شاخوں، سرحدوں پر بیٹھ کر حضرت انسان کی شوخی ، شرارت، کمال عقل و فہم پر محو حیرت ہیں. رات کی تاریکی اپنے سینے میں بے پناہ ستارے اور چاند کی شمعیں لیکر الله کے عظیم و اکبر ہونے کی صدا دیتی ہے. دن میں پرندوں کی چہچہاہٹ، شورو غل میں پکار کر کہتی ہے زندگی ابھی باقی ہے، زندگی رب کی پناہ میں ہے!زندگی رب کی پکار میں ہے، اسکی التجا و رو، دل گرفتگی اور پر خار راہ کی سہلاہٹ الله کی رضا میں ہے. انسان نہ رکا، روک دیا گیا، دل سے نکلتی فریاد اب کہاں جاتی ہے. انسان اپنی عقل کے پردے نہ کھول سکا تو کہتا رہا کہ سب قدرت کا کرنا ہے.

اب ٹھہرنے ، غور کرنے کا وقت تھا کہ قدرت کا مالک کون ہے! زرہ کسکا ہے. ذرے کا دل چرنے کا ہنر کس نے سکھایا. سب کی بے بسی پر کس کا حکم عیاں ہے. زمین کو تخلیق کرنے والا کون ہے. اسے انسان کے لئے سجانے والا کون ہے. اسے دریافت کا عندیہ دینے والا کون ہے. کوئی نہیں لیکن وہ وحدہ لا شریک ہے . وہ جو لا فانی ہے. وہ جو فرماتا ہے “کل من علیھا فان” ،”ہر شے کو فنا ہے”.”ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام”.” مگر تیرے رب کا جاہ و حشم باقی رہے گا جوصاحب جلال و اِکرام ہے “۔

وہ چاہے تو رنگینیاں دے وہ چاہے تو چراغ گل کر دے، وہ چاہے تو ظلمات میں ان دیکھی قید سے آشنا کروا دے. لیکن اس اندھیرے میں صرف ایک ذات ہے جو “نورمن نور ” ہے. وہ جو مچھلی کے پیٹ میں کی گئی فریاد کو سنتا ہے. وہ جو کنویں میں اپنے نبی کو بچانے پر قادر ہے. وہ جو بیمار کو شفا دیتا ہے. اور وہی فرماتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح فرمائی.”لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین”.”نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے،پاک ہے تو بے شک میں ظالموں میں سے ہوں​”. اور وہی فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتے تو اس دن تک وہیں رہتے جب تک کہ لوگ اٹھائے جائیں! لیکن الله رحیم ہے. وہ فریاد کو سننے والا ہے.

وہ سماعتوں، نگاہ مرکز و خیال سے واقف ہے. اس نے انسان کے لئے زمین سجائی وہ ایسے ہی اسے فنا نہیں ہونے دے گا. بلکہ اسکے نزدیک ہر شے کی اچھی اور بہترین تدبیر موجود ہے. اور راز سے صرف وہی واقف ہے.زندگی آج ہی نہیں زندگی کل بھی ہے، زندگی سانس ہی نہیں پل بھی ہے، زندگی سزا ہی نہیں جزا بھی ہے، زندگی امارت ہی نہیں فقر بھی ہے. زندگی برائی ہی نہیں بھلائی بھی ہے. زندگی خوف ہی نہیں امید بھی ہے.

زندگی بات اور قال ہی نہیں عمل بھی ہے. زندگی صرف نگاہ ہی نہیں ان دیکھی بھی ہے. زندگی قضا ہی نہیں حیات بھی ہے! زندگی محسوس ہی نہیں احساس بھی ہے. زندگی انسان ہی نہیں خالق کائنات کی جانب توجہی بھی ہے. زندگی اپنا آپ ہی نہیں مالک کل کی رضا و اختیار بھی ہے. زندگی پہچان ذات ہی نہیں عرفان ذات بھی ہے. زندگی ‘کن” پر “فیکون” کی پکار ہے.
زندگی آج خالق کی جانب لوٹ جانے کا مظہر ہے. اس سے تجدید عہد کا لمحہ ہے. یہ ٹھہراؤ در اصل اس بات کا اشارہ ہے کہ اسکی جانب رجوع کیا جائے، یکسو ہو کر اس کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیا جائے. آج ، اس سے مدد مانگنے، اس سے وفا کرنے اور رو گردانی نہ کرنے کا مصمم ارادہ کرنے کا وقت ہے.

زندگی آج ہے. زندگی کل ہے، ہر وہ لمحہ زندگی ہے جس میں رب کی یاد ہے. ہر لحظہ اس سے منسوب ہے تو زندگی گلزار ہے. زندگی فریاد ہے، آہ و بکا سے بہت آگے امید کی تاباں رہگزار ہے.زندگی اپنے رب سے ملنے کو بے تاب ہے.وہ اپنے رب کے حکم کے انتظار میں ہے جو آج نہیں تو کل وہ اپنے بندوں پر عیاں کر دے گا. لیکن کیا اس ٹھہراؤ کے بعد بھی انسان وہی سب کرے گا جو کرنے کے بعد یہاں تک پہنچا تھا.

کیا کوئی ٹھہراؤ بدلاؤ لائے گا؟ کیا کوئی بندش اسے رب سے ملا چکی ہو گی. کیا اس نے غور کر لیا ہو گا کہ ہر شے کی ملک الله کے ہاتھ میں ہے. کیا وہ اپنا آپ الله کے حوالے کرنے پر رضا مند ہوگا؟ رحمٰن کے بندے آزمائش میں بھی اس کے راستے پر قائم رہتے ہیں. لیکن کیا سب لوگ اسی کے بندے نہیں ہیں. کیا انسان اپنے رب کو بھول چکا ہے؟ لیکن کیا انسان رب کی تدبیر کو سمجھنے میں کامیاب ہو گیا ہو گا. کیا اس ٹھہراؤ کے بعد بہت سے روگرداں اپنے رب کی جانب لوٹ چکے ہوں گے.؟کیا اصل زندگی جس میں رب کا ساتھ اور احساس شامل ہو، واپس لوٹ آئے گی؟پس اس سب کا جواب مل جائے تو انسان مشکل سے نکل کر سمجھ جائے گا کہ زندگی کہاں ہے.

زندگی صرف رب کی پناہ میں ہے. جس میں قضا و حیات سے برطرف صرف اسی کی مصلحت باقی رہ جاتی ہے. اور یاد رہے کہ اس امت پر تکلیف آ سکتی ہے، عذاب نہیں آ سکتا! تکلیف آزمائش کا لمحہ ہے. اور آزمائش میں سے صبر اور توکل سے ہی نکلا جاتا ہے. تو انسان اپنے رحیم الله کی رحمت کو کیونکر جھٹلا سکتا ہے. مان لو کہ حکم بھی اسکا ہے، رضا و مہربانی بھی اسی ایک کی ہے، مالک و مختار کی باد شاہی تمام کائنات کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے. زندگی کی پکار اس رب کو اپنا مان لینے میں ہے. اور آزمائش کا احسان میں بدل جانے کا وقت قریب ہی ہے.!

Leave a Comment