اسلامک معلومات

رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جب ایک شاعر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی شان مبارکہ کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے:

رسول خدا کے مدنی دور میں جب وہ مدینہ ہجرت کر چکے تھے تب کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔ اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کرکے حضور کے سامنے پھینک دیا۔ سرکار دو عالم نے حکم دیا: اس کی زبان کاٹ دو تاریخ لرز گئی، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا کوڑا کرکٹ پھینکنے والے کی تمام داری کرتا تھا .

اسے مدینے میں آ کے آخر ہو کیا گیا بعض صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟ حضور نے فرمایا: نہیں تم نہیں تب رسول خدا نے حضرت علی کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو۔ مولا علی بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے اور حضرت قنبر کو حکم دیا: جا میرا اونٹ لے کر آ مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور دو ہزار درھم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پر بٹھایا پھر فرمایا: تم بھاگ جاؤں ان کو میں دیکھ لوں گا اب جو لوگ تماشہ دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ حضرت علی نے تو رسول کی نافرمانی کی رسول خدا کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے کیا رسول اللہ آپ نے کہا تھا زبان کاٹ تو علی نے اس گستاخ شاعر کو دو ہزار درہم دیے اور آزاد کر دیا۔ حضور مسکرائے اور فرمایا علی میری بات سمجھ گئے۔ افسوس ہے کہ تمہارے سمجھ میں نہیں آئی وہ لوگ پریشان ہو کر یہ کہتے چل د ہے کہ: یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو علی نے تو کاٹی ہی نہیں۔ اگلے دن صبح فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کر رہا ہے۔ پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں چومنے لگتا ہے۔ جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے۔

حضور آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں اور یوں ہوا کہ حضرت علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحت رسالت والی زبان میں تبدیل کر دیا

Leave a Comment