اسلامک معلومات

رزق کی وسعت کی دعا۔۔۔

رزق کی وسعت

رزق کی وسعت کی دعا۔۔۔

رزق کی وسعت کی دعا۔۔۔ دوستو۔۔۔۔اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے۔

کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے۔

غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں۔

ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے۔

لیکن والد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ۔ یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے ۔
اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سواہ کسی کی عبادت مت کرو ۔

ادب سے با ت کر نا

اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ۔ اگر وہ یعنی ماں باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ۔چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ن کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”ہوں “ بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا ۔ ان سے خوب ادب سے با ت کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا ۔

یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما۔جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمھارا رب تمھارے دل کی بات خوب جا نتا ہے ۔

اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔
۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پو چھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اٹھا یا اور بیت اللہ لایا ۔

اسی طرح کندھے پر اٹھا کر حج کے منا سک ادا کروائے ۔

کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ؟تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرما یا: ”نہیں ہر گز نہیں ، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگا یا تھا ۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک

اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیاہے:﴿وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَانًا﴾

یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری اور ا کرام و احترام کے ساتھ پیش آئے۔

بے ادبی نہ کرے ، تکبر نہ کرے ، ہر حال میں ان کی اطاعت کرے ۔إلّا یہ کی وہ اللہ کی نا فرمانی کا حکم دیں تو پھر ان کی اطا عت جا ئز نہیں۔سورئہ عنکبوت میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:﴿وَوَصَّیْْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ حُسْناً وَإِن جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا﴾(۴)

نیک سلوک

تر جمہ : ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کر نے کا حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی بتادیا ہے ۔

کہ اگر وہ تجھ پر اس با ت کا ذور ڈالیں ۔

کہ تو ایسی چیز کو میرے شریک ٹھہرائے جس کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تیرے پاس نہ ہو تو ان کا کہنا مت ما ننا ۔

رزق کی وسعت ۔ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا فرمان:حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریا فت کیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کس طرح کیا جائے ؟ تو انھوں نے فرما یا:

تو ان پر اپنا مال خرچ کر ، اور وہ تجھے جو حکم دیں اس کی تعمیل کر ، ہاں اگر گناہ کا حکم دیں تو مت مان ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فر ما یا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھا ڑو، کہیں کپڑوں کا غبا ر اور دھول ان کو لگ نہ جا ئے۔

بڑھاپے میں حسنِ سلوک کا خصوصی حکم:

اللہ تعالی نے خاص طور سے والدین کے پڑھاپے کو ذکر فر ما کر ارشاد فر ما یا ۔

اگر ان میں کوئی ایک، یا دونوں تیری ز ند گی میں پڑھا پے کو پہنچ جا ئیں تو ان کو ”اف “بھی مت کہنا اور نہ ان سے جھڑک کر با ت کر نا ۔

حضرت تھا نوی رحمہ اللہ نے بیا ن القرآن میں ”اف “ کا تر جمہ ”ہوں “ سے کیا ہے۔

رزق کی وسعت ۔ حسنِ سلوک کا مظاہرہ

۔ کہ وہ اس کو برداشت کر کے حسنِ سلوک کا مظاہرہ کر تے ہیں، یا نا ک بھوں۔

چڑھا کر بات کا جواب دیتے ہیں، اس موقع کے لیے اللہ تعالی نے یہ حکم دیا ہے۔

کہ جواب دینا اور جھڑک کر با ت کر نا تو دور کی با ت ہے۔

ان کو” اف“ بھی مت کہنا ، ان کی بات پر معمولی سی ناگواری کا اظہا ر بھی مت کر نا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فر ما یا ۔

کہ اگر والدین کی بے ادبی میں ” اف “ سے کم درجہ ہوتا ۔تو بھی اللہ جلَّ شانہُ اسے بھی حرام فرمادیتے۔ (۶)

والدین کا ادب:

حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

وہ فر ما تی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔

اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی بھی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ۔

کہ یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب میں کہا کہ یہ میرا باپ ہے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا تَمْشِ أمامَہ، وَلَاتَقْعُدْ قَبْلَہ، وَلاَتَدْعُہْ بِاسْمِہ، وَلَاتَسْتَبَّ لَہ․(۸) یعنی ان کے آگے مت چلنا ۔

مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا ، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گا لی مت دینا ۔
بڑھا پے میں جب والدین کی کوئی با ت نا گوار گزے تو ان سے کیسے گفتگوکی جا ئے۔

اس کے بارے میں اللہ تعالی نے فر ما یا: ﴿ وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْما﴾(۹) یعنی:

۴۰)

اللہ تعالی کی رضا و ناراضگی:

حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ فر ما تے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا :

ر ضا اللّٰہ مع رضا الوالدین و سخطُ اللّٰٰہِ مع سخطِ الوالدین․ یعنی اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے ۔

اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔
جنت یا جہنم کے دروازے : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فر ماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مَنْ أَصْبَحَ مُطِیْعًا فِی وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَانْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا، وَمَنْ أمسیٰ عَاصِیًا للّٰہ فی وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ مِنَ النَّارِ، وَانْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا، قال الرجلُ: وانْ ظَلَمَاہُ؟ قال: وانْ ظَلَمَاہُ، وان ظَلَمَاہُ، وان ظلماہ․(۱۴)

یعنی جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ

وہ اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں اللہ کا فر ما نبر دار رہا تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہو تے ہیں ۔

جنت کا ایک دروازہ

اگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ تو جنت کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے ۔اور جس نے اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی میں اللہ کی نا فر ما نی کی۔

اس کے بتائے ہوے احکا ما ت کے مطا بق حسنِ سلوک نہ کیا تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھلے رہتے ہیں ۔

اگر والدین میں ایک زندہ ہواوراس کے ساتھ بد سلوکی کر ے تو جہنم کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! اگر چہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فر ما یا: اگرچہ والدین نے ظلم کیا ہو ۔

رزق اللہ تعالٰی کی ایسی نعمت ہے، جس کی تقسیم کا اختیار اللہ تعالٰی نے اپنے پاس رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشادہے :” ’’ اللہ تعالٰی تو خود ہی رزاق ہے، مستحکم قوت والا ہے۔
لہذا اللہ پاک ہمیں بھی اس نبوی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور رزق کے تمام مسائل حل فرمائے۔۔۔۔آمین ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔

Leave a Comment